آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین دُنیا کی سب سے بلند اور سب سے زیادہ فلک بوس (Skyscrapers)عمارتیں تعمیر کرکے ستاروں کو چھُونے کا متمنی ہے۔ 2017ءکے دوران چین میں 144ایسے فلک بوس ٹاورز تعمیر کیے گئے، جن کی اونچائی 200میٹر (660فٹ)سے زائد ہے۔ ان میں 15ٹاورز کو ’سُپر ٹال‘ٹاور قرار دیا گیاہے کیونکہ ان کی اونچائی 300میٹر (980فٹ)سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار دنیا کے شہری علاقوں میں بلند و بالا عمارتوں کے اعدادوشمار اکٹھے کرنے والی تنظیم ’کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اَربن ہیبیٹٹ‘نے اپنی رپورٹ میں پیش کیے ہیں۔

چین کا شہر شین زین، بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے لیے پسندیدہ ترین مقام ہے۔ سی این این کے آرکیٹیکچرل صحافی کرسٹوفر ڈی وولف نے جولائی2017ء میں اپنی رپور ٹ میں بتایا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران چین میں تعمیر ہونے والی 127بلند عمارتوں میں سے 11طویل المنزلہ عمارتیں شین زین اور اس کے گرد و نواح میں تعمیر کی گئی ہیں۔ تعداد میں یہ امریکا میں تعمیر ہونے والی عمارتوں سے زیادہ اور چین کے کسی بھی دوسرے شہر میں تعمیر ہونے والی بلند عمارتوں سے دُگنی تھیں۔

شین زین شہر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے لیے انتہائی پُرکشش سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1980ء کے عشرے میں چین کی حکومت نے اسے ’اسپیشل اکنامک زون‘ قرار دیا تھا۔ ان زونز میں عموماً حکومتی قوانین اور ٹیکسوں میں مراعات دی جاتی ہیں۔ دفاتر اور کاروبار کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ اور عمارتوں کی ضرورت نے ، اس شہر کو عمودی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا ہے۔

چین میں تعمیرات کے شعبے کی چمک صرف شین زین تک ہی محدود نہیں۔ پورا چین ہی تعمیرات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔ فائنانشل ٹائمز کی ذیلی کمپنی fDiمارکیٹس کے مطابق، ایک سال میں چین کے تعمیراتی شعبے میں امریکا، تائیوان، فرانس اور دیگر ملکوں سے 4ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری آئی ہے۔ 2016ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق، شین زین کا شمار ناصرف چین کے تیزی سےجائیداد کی قیمتیں بڑھنے والے شہر کے طور پر کیا جاتا ہے بلکہ یہاں آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ شین زین شہر کی آبادی میں 1985ء سے 2015ء کے درمیان 6ہزار فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

پیسے کا کھیل

ہرچند کہ، چین بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے سب سے آگے ہے، تاہم یہ دنیا کا واحد ملک نہیں ہے جہاں دیوقامت عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں۔ 2015ء کی گلوبل کنسٹرکشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ، ایسا شہر ہے جہاں 160بلند ٹاورز ہیں، جن کی اونچائی 160میٹر (525فٹ)ہے۔ حالانکہ، ابھی تک دنیا کی سب سے بلند عمارت کا اعزاز دبئی کی برج خلیفہ کو حاصل ہے، جو 828م یٹر(2,717فٹ)ہے۔ دنیا کی بلند ترین عمارت کی دوڑ برج الخلیفہ پر آکر ختم نہیں ہوئی۔ سعودی عرب میں زیرتعمیر جدہ ٹاور، 2020ء میں مکمل ہونے کے بعد ایک کلو میٹر اونچائی کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا ٹاوربن جائے گا۔

شاید یہ اتفاق نہیں ہے کہ بلند و بالا عمارتیں، پیسے سے جڑی ہوئی ہیں۔ دنیا میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا آغاز 19ویں صدی کے اواخر میں شروع ہوچکا تھا اور ایسی پہلی عمارت 1885ء میں شکاگو میں مکمل کی گئی تھی۔ ’جینیزہوم انشورنس بلڈنگ‘ کے نام سے مشہور ہونے والی یہ عمارت اسٹیل کے فریم پر کھڑی کی گئی جو 10منزلہ اونچی تھی۔ امریکا کے مالیاتی اور تجارتی مرکز نیویارک نے جلد ہی شکاگو کے راستے کو چُنا اور یہاں بھی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ 1920ء کے عشرے کے اواخر اور1930ء کے عشرے کے اوائل میں بالترتیب کرائسلر اور امپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی فلک بوس عمارتیں نیویارک کے اُفق پر نمودار ہوئیں۔

تاہم اب تاریخ بدل رہی ہے۔ ایشیائی اورمشرق وسطیٰ کے ممالک، پیسے اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر، بلند و بالا عمارتوں کی دوڑمیں ان ترقی یافتہ مغربی ملکوں کو سخت مقابلہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

معاشی صورت حال

1999ء میں پراپرٹی تجزیہ کار اینڈریو لارنس نے ایک نظریہ پیش کیا تھا، جسے انھوں نے ’اسکائی اسکریپر انڈیکس‘ کا نام دیا تھا۔ اس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ زیادہ سے زیاہ اسکائی اسکریپرز کا مطلب یہ ہے کہ مالیاتی بحران آنے والا ہے۔ برطانوی مصنف سی نارتھ کوٹ پارکنسن کا بھی یہی کہنا تھا کہ ناکام یا جلد ہی ناکام ہوجانے والے اداروں کی عمارتیں خوبصورت اوربہتر منصوبہ بندی کی حامل ہوتی ہیں۔

ہرچندکہ حالیہ مختلف تحقیقی مکالہ جات نے لارنس کے دعوے کو مسترد کردیا ہے، تاہم کسی بھی ملک کی مجموعی قومی پیداواراور بلند و بالا عمارتوںکی تعمیر کے مابین تعلق قائم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں بلند و بالا عمارتیں اکثر اس وقت تعمیر کی جاتی ہیں، جب وہاں ’بزنس سائیکل‘یا تو اپنی بلندی کے قریب ہوتا ہے یا بالکل بلندی پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں