آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خواجہ حن نظامی

کونسل کی ممبری نہیں چاہتا، قوم کی لیڈری نہیں مانگتا، کوئی خطاب درکار نہیں۔ موٹر، اور شملہ کی کسی کوٹھی کی تمنا نہیں۔ میں تو خدا سے اور دوسروں سے بھی صرف ایک "ڈکار "طلب کرتا ہوں۔ چاہتا یہ ہوں کہ اپنے طوفانی پیٹ کے بادلوں کو حلق میں بلاؤں اور پوری گرج کے ساتھ باہر برساؤں۔ یعنی کڑاکے دار ڈکار لوں، پر کیا کروں یہ نئے فیشن والے مجھ کو زور سے ڈکار لینے نہیں دیتے، کہتے ہیں ،ڈکار آنے لگے تو ہونٹوں کو بھیچ لو اور ناک کے نتھنوں سے اسے چپ چاپ اڑا دو۔ آواز سے ڈکار لینی بڑی بد تہذیبی ہے۔

مجھے یاد ہے یہ جیمس لا ٹوش، یوپی کے لیفٹینٹ گورنر علی گڑھ کے کالج میں مہمان تھے۔ رات کے کھانے میں مجھ جیسے ایک گنوار نے میز پر زور سے ڈکار لے لی۔ سب جنٹلمین اس بے چارے دہقانی کو نفرت سے دیکھنے لگے، برابر ایک شوخ و طرار فیشن ایبل تشریف فرما تھے، انہوں نے نظر حقارت سے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا۔ جیب سے گھڑی نکالی اور اس کو بغور دیکھنے لگے۔ غریب ڈکاری پہلے ہی گھبرا گیا تھا، مجمع کی حالت میں متاثر ہو رہا تھا، برابر میں گھڑی دیکھی گئی تو اس نے بے اختیار ہو کر سوال کیا، جناب کیا وقت ہے۔

شریر فیشن پرست بولا، گھڑی شاید غلط ہے، اس میں نو بجے ہیں، مگر وقت بارہ بجے کا ہے ،کیوںکہ ابھی توپ کی آواز آئی تھی۔

بے چارہ ڈکار لینے والا سن کر پانی پانی ہو گیا کہ اس کی ڈکار کو توپ سے تشبیہ دی گئی۔

اس زمانہ میں لوگوں کو سیلف گورنمنٹ کی خواہش ہے۔ ہندوستانیوں کو عام مفلسی کی شکایت ہے۔ میں تو نہ وہ چاہتا ہوں، نہ اس کا شکوہ کرتا ہوں مجھ کو تو انگریزی سرکار سے صرف آزاد ،ڈکار کی آرزو ہے۔ میں اس سے ادب سے مانگوں گا، خوشامد سے مانگوں گا، کوئی نہ لائے گا، یونہی دیتا ہوں زور سے مانگوں گا، جد و جہد کروں گا۔ ایجی ٹیشن کروں گا، پر زور تقریریں کروں گا، کونسل میں جا کر سوالوں کی بوچھاڑ سے انریبل ممبروں کا ناک میں دم کر دوں گا۔

لوگو ! میں نے تو بہت کوشش کی کہ چپکے سے ڈکار لینے کی عادت ہو جائے۔ ایک دن سوڈا واٹر پی کراس بھونچال ڈکار کو ناک سے نکالنا بھی چاہتا تھا، مگر کم بخت دماغ میں الجھ کر رہ گئی، آنکھوں سے پانی نکلنے لگااور بڑی دیر تک کچھ سانس رکا رکا سا رہا۔

ذرا تو انصاف کرو، میرے ابّا ڈکار زور سے لیتے تھے۔ میری اماں کی بھی یہی عادت تھی۔ میں نے نئی دنیا کی ہم نشینی سے پہلے ہمیشہ زور ہی سے ڈکار لی۔ اب اس عادت کو کیو ںکر بدلوں، ڈکار آتی ہے تو پیٹ پکڑ لیتا ہوں۔ آنکھیں مچکا مچکا کے زور لگاتا ہوں کہ موذی ناک میں آ جائے اور گونگی بن کر نکل جائے، مگر ایسی بد ذات ہے ،نہیں مانتی، حلق کو کھرچتی ہوئی منہ میں گھس آتی ہے اور ڈنکا بجا کر باہر نکلتی ہے۔

کیوں بھائیوں تم میں سے کون کون میری حمایت کرے گااور نئی روشنی کی فیشن ایبل سوسائٹی سے مجھ کو اس حرکت کی اجازت دلوائے گا۔

خلقت تو مجھ کو حزب الاحرار یعنی گرم پارٹی میں تصور کرتی ہے اور میرا یہ حال ہے کہ اپنی گرم ڈکار تک کو گرما گرمی اور آزادی سے کام میں نہیں لا سکتا۔ ٹھنڈی کر کے نکالنے پر مجبور ہوں۔ہائے میں پچھلے زمانہ میں کیوں نہ پیدا ہوا۔ خوب بے فکری سے ڈکاریں لیتا۔ ایسے وقت میں جنم ہوا ہے کہ بات بات پر فیشن کی مہر لگی ہوئی ہے۔

تم نے میرا ساتھ نہ دیا تو میں ماش کی دال کھانے والے یتیموں میں شامل ہو جاؤں گا ،کیسے خوش قسمت لوگ ہیں۔ دکانوں پر بیٹھے ڈکاریں لیا کرتے ہیں۔ اپنا اپنا نصیبا ہے۔ ہم ترستے ہیں اور وہ نہایت مصرفانہ انداز میں ڈکاروں کو برابر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پیاری ڈکار میں کہاں تک لکھے جاؤں۔ لکھنے سے کچھ حاصل نہیں، صبر بڑی چیز ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں