آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر ہائوس سندھ کے لان فیملیز کیلئے کھول دئیے گئے ۔عمران اسماعیل بازی لے گیا۔اب دیکھتے ہیں کہ چوہدری سرور کیا کرتے ہیں ۔اُن کے پیچھے توبرطانوی جمہوری اخلاقیات کی ایک روایت بھی ہے ۔مجھے گورنر ہائوس کے لان میں لوگوں کی آمدو رفت سے کئی باتیں آئیں ۔وہ دن یاد آئے جب میں 1994 میں ناروے کے شہر اوسلو میں اُس وقت کے پاکستانی سفیر خضر حیات نیازی کا مہمان تھا ۔ایک دن ہم دونوں ایک پارک سے گزرے تو انہوں نے مجھے کہا ۔’’آئو تمہیں ناروے کے بادشاہ سے ملوائوں ‘‘ سامنے ایک شخص بڑی قینچی کے ساتھ پارک کی باڑ کو درست کررہا تھا ۔خضر حیات اُن سے بالکل اسی طرح ملے جیسے بادشاہ سے ملتے ہیں ۔مجھے بھی ملوایا ۔ جب ہم وہاں چلے تو میں نے خضر حیات نیازی سے کہا کہ ’’آپ سے میرا مزاح کا تو کوئی رشتہ نہیں۔ ویسے بھی آپ بہت سنجیدہ آدمی ہیں ‘‘۔وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے ’’یہ سچ مچ ناروے کا بادشاہ تھا یہ جو پارک کے درمیان عمارت ہے یہ اُس کا محل ہے اور یہ پارک اُس محل کا لان ہے جسے بادشاہ نے لوگوں کےلئے کھول دیا ہے۔ جب بچے اِس پارک سے گزرتے ہیں تو ملکہ انہیں ٹافیاں بھی دیتی ہے ۔لان کی تزئین کا کام بھی بادشاہ خود کرتا تھا ۔ویسے کچھ مالی بھی رکھے ہوئے ہیں۔‘‘پھر مجھے وائٹ ہائوس یاد آگیا ۔ وائٹ ہاؤس بھی ہفتے میں چار دن کے لئے لوگوں کے لئے کھولا جاتا ہے۔ لوگ علی الصبح ایک لمبی لائن میں لگ کر ٹکٹ خریدتے ہیں اوروائٹ ہائوس کے کمروں اور راہداریوں میں سیر کرتے ہیں۔ جس دن میں نے وائٹ ہائوس کی سیر کی تھی۔اطلاع کے مطابق اُس دن وہیں ایک کمرے ’’اوول روم‘‘ میں امریکہ کا صدر بیٹھا کام کررہا تھا۔صرف 23 پونڈ کا ٹکٹ خرید کر دنیا کا کوئی شخص ملکہ برطانیہ کے محلات بھی دیکھ سکتا ہے ۔ عوام کےلئے چھ ماہ بکنگھم پیلس کھلا ہوتا ہے اور چھ ماہ ونڈسر کیسل ۔ملکہ چھ ماہ ایک محل میں قیام کرتی ہے اور چھ ماہ دوسرے محل ۔جب نیا نیا بکنگھم پیلس پر ٹکٹ لگا تھا تو میں بھی دیکھنے گیا تھا۔وہاں ہمیں بیڈ رومز باتھ رومز تک دکھائے گئے تھے ۔

عمران خان نے بھی وزیر اعظم ہائوس میں قیام نہیں کیا۔ وہ بھی خالی پڑا ہے ۔صدر عارف علوی نے بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمانی لاجز میں قیام کریں گے اور صرف ضرورت کے تحت صدر ہائوس جایا کریں گے ۔ ان تاریخی عمارتوں کے بارے میں شفقت محمود کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔وہ ابھی تک شاید کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ۔دیکھتے ہیں وہ کمیٹی کیا فیصلہ کرتی ہے ۔ ویسے ہم بھی صدر ہائوس ، وزیراعظم ہائوس اور گورنرہائوسز عوام کےلئے کھول سکتے ہیں ،اُن پر ٹکٹ بھی لگایا جا سکتا ہے ۔انہیں تاریخ ِپاکستان کے عجائب گھروں میں بھی بدلا جاسکتا ہے ۔

معاملہ صرف انہی عمارتوں کا نہیں۔ضلعی سطح کے ہر شہر میں ایسی شاندار عمارتیں موجود ہیں ۔زیادہ تر جو ڈپٹی کمشنرز کے ہائوس ہیں وہ ڈیڑھ سو کنال سے لے کر دو سوکنال پر پھیلے ہوئے ہیں ۔زیادہ تر ڈپٹی کمشنر ہائو س انگریزوں کے زمانےکے ہیں ۔چونکہ انگریز ہی ڈپٹی کمشنر ہوا کرتے تھے اس لئے محکوموں کو نفسیاتی طور پر زیر رکھنے کےلئے اُن کی رہائش گاہیں بڑی بڑی بنائی جاتی تھیں ۔کتنے ستم کی بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد بھی جتنے ڈپٹی کمشنر ہائوس بنائے گئے وہ انہی کی طرح بنائے گئے ۔کہیں کوئی ڈپٹی کمشنر ہائوس پچاس کنال سے کم رقبہ پر نہیں بنایا گیا۔اب اُن عمارتوں کے ساتھ کیا سلوک کرانا ہے ۔ یہ فیصلہ بھی شاید اُسی کمیٹی نے کرنا ہے۔ میرے خیال میں تو ان تمام ہائوسز کو درسگاہوں میں بدل دیا جائے اور ڈپٹی کمشنر کو اتنا ہی مکان دیا جائے جتنا ایک اٹھارہویں اسکیل کے افسر کو قانون کے مطابق مل سکتا ہے ۔سنا ہے بیورو کریسی ایسے فیصلوں کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو نے والی ہے ۔وہ مسلسل عمران خان کو یہی سمجھا رہی ہے کہ اِن فیصلوں سے عوام اور ملک کی ترقی کا کوئی تعلق نہیں ۔ایسے اعلانات صرف عوامی مقبولیت کےلئے کئے جاتے ہیں۔ اب آپ وزیر اعظم ہیں ۔آپ کوایسا نہیں کرنا چاہئے۔ حکومت کےلئے یہ سب چیزیں ضروری ہوتی ہیں ۔ عمران خان اگر چہ بیوروکریسی کے چنگل میں آنے والوں میں سے نہیں مگر بیورو کریٹس بھی کم نہیں ہیں مقابلہ جاری ہے ۔یقیناً وہ بیورو کریٹس جو کرپشن میں ملوث ہیں انہیں تو ہر حال میں انجام تک پہنچنا ہے ۔ نیب نے ان کے اثاثوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ صرف بیورو کریٹس کے نہیں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے اثاثے بھی چیک کئے جارہے ہیں ۔میڈیا پرسنز کے اثاثوں کا بھی حساب لگایا جارہا ہے ۔ویسے سب سے زیادہ آمدن اور اثاثوں کے درمیان تفاوت بیورو کریٹس کے پاس ہے۔ سنا ہے ایک آدھ ایسا بیوروکریٹ بھی گرفتار ہونے والا ہے جس کی عمران خان نے ابھی ابھی پوسٹنگ کی ہے۔ بے شک نئی حکومت نےسول سروسز میں ریفارمز پر کام بھی شروع کردیاہے ۔تباہ حال اور کرپٹ سول سروس کو دوبارہ دنیا کی بہترین سول سروس میں بدلنے کےلئے لائحہ عمل بنایا جارہا ہے لیکن خود بیورو کریسی حکومت کے راستے میں ایسی رکاوٹیں ایسی بھول بھلیاں ڈال سکتی ہے جن سے نکلنے کےلئے پانچ برس بھی کم ہو جائیں۔اب دیکھتے ہیں عمران خان افسر شاہی کے دام ِ ہم رنگ ِ زمیں سےخود کو کیسے بچاتے ہیں ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں