آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طرابلس (جنگ نیوز) لیبیا کے ساحل سے پناہ گزینوں کو یورپ لے کر جانے والی دو کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 20 بچوں سمیت 100 سے زائد مسافر ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے۔امدادی ایجنسی ایم ایس ایف (ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز) کے مطابق پناہ گزینوں کو لے کر جانے والی ان دو کشتیوں میں مجموعی طور پر 320 سے زائد مسافر سوار تھے جن میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔یکم ستمبر کو لیبیا کے ساحل سے روانہ ہونے والی اس کشتی میں سوار باشندوں میں سے اکثر کا تعلق براعظم افریقہ سے تھا اور یہ افراد سوڈان، مالی، نائجر، کیمرون، گھانا، لیبیا اور مصر سمیت دیگر ممالک کے رہنے والے تھے۔کچھ افراد نے ان کشتیوں کے ملبے کے ذریعے اپنی جان بچائی تو بقیہ کو لیبیا کے کوسٹ گارڈ نے بچایا۔حادثے میں بچ جانے والے ایک خوش قسمت مسافر نے بتایا کہ ہماری کشتی پر 165 بڑے اور 20 بچے سوار تھے لیکن دوسری کشتی کی موٹر نے کام کرنا بند کردیا اور ہم نے سفر جاری رکھا تاہم کچھ دیر بعد ہماری کشتی ڈوبنا شروع ہو گئی۔انہوں نے بتایا کہ جب کشتی ڈوبنا شروع ہوئی تو جن لوگوں کے

پاس لائف جیکٹس تھیں یا جو تیرنا جانتے تھے، صرف وہ بچ جانے میں کامیاب ہوئے۔بچ جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد انجن سے لیک ہونے والے ایندھن سے جل گئی جن کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق صرف 52مسافروں کو بچایا جا سکا ہے البتہ لیبیا کی کوسٹ گارڈ سروسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان ڈوبنے والی کشتیوں کے 276مسافروں کو ڈوبنے سے بچا لیا تھا تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف رواں سال یکم جنوری سے یکم جولائی تک کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش میں ڈوبنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں