آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارا سال ہم یہ نعرے لگاتے نہیں تھکتے کہ ’’ ہم زندہ قوم ہیں‘‘۔ اس صراحت سے دروغ کو بیان کرتے ہیں کہ برسوں سے خود فریبی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس شدت سے ایک دوسرے کو اپنی زندگی اور تابندگی کا یقین دلاتے ہیں کہ خود فریبی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہم نے خود کو زندہ کرنے کے لئےکیا کیا جتن کئے ہیں یہاں تک کہ خود کو زندہ کہنے کے لئے بارہا اپنے آپ کو مار دیا مگر لبوں پر ’’ہم زندہ قوم ہیں کا نعرہ جلوہ افروز رہا۔ تاریخ نے ہم پر کیا کیا ستم ڈھائے مگر ہم زندہ ہونے کی مالا ہی جپتے رہے۔ حالات نے ہمیں کیا کیا رنگ دکھائے مگر خود ساختہ تابندگی کا پرچم ہم نے سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ زمانے نے ہم سے کیا کیا چال دی مگر ہم اپنی سرمستی میں زندہ ہونے کا ہی دعویٰ کرتے رہے۔ شاید جو قومیں زندہ نہیں ہوتیں انکے پاس اس نعرے کے سوا چارہ ہی نہیں ہوتا۔ انکے پاس بے چارگی ، احساس برتری بن جاتی ہے۔ بے بسی ، عزم کہلاتی ہے اور شکست ، فتح کے معنی میں در آتی ہے۔ یہی وہ اقوام ہیں جہاں خوف کا نام ، حوصلہ رکھا جاتا ہے۔ جہاں موت کو زندگی کہا جاتا ہے ۔ جہاں تاریکی روشنی کے معنوں میں در آتی ہے اور بند گلی کو منزل کہا جاتا ہے۔

ہماری تاریخ ہماری بے بسی کی گواہ ہے۔بدقسمتی سے ہمارا ماضی ہی ہمارا مستقبل ہے اور ہم خود اپنے مجرم ہیں مگر اس بات کے ادراک سے محروم ہیں۔ آج جشن منانے والی قوم نے خود اپنے ساتھ کیا کیا مظالم کئےہیں اس کا فہم ہمیں بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم بس ایک نامعلوم سے تکبر کا شکار ہیں ۔ جس کی کوئی وجہ ، کوئی دلیل میرےپاس تو نہیں ہے۔

قوموں کی تاریخ ان کے رہنمائوں سے شناخت ہوتی ہے۔ یوں تو پاکستان کی تاریخ میں قائد اعظم کے بعد بہت سے صدور اور وزراء اعظم گزرے ہیں مگر عوامی مقبولیت صرف چھ افراد کو نصیب ہوئی ہے۔ پہلی شخصیت محترمہ فاطمہ جناح کی نظر آتی ہے جو نہ صرف قائد اعظم کی ہمشیرہ تھیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نےعملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور ایک ڈکٹیٹر کے خلاف بھرپور جنگ لڑی۔ دوسری معروف شخصیت مجیب الرحمان کی تھی ۔ انکے خیالات اور نظریات سے آپ بےشک اختلاف کرِیں مگر انیس سو ستر کے انتخابات کے نتائج کی گواہی کچھ اور داستان سناتی ہے۔ تیسرے بڑے لیڈر اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے صحیح معنوں میں پہلی دفعہ اس قوم کو جمہوریت کے معنی سمجھائے۔ چوتھی بڑی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں جنہوں نے باپ کے عدالتی قتل کے بعد استعمار کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی اور جمہوریت کے لئے کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ پانچویں بڑے لیڈر نواز شریف ہیں جنہوں نے تین دفعہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور اب ووٹ کو عزت دینے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ہماری ابھی تک کی تاریخ میں چھٹے بڑے لیڈر عمران خان ہیں جنہوں نےحال ہی میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے۔ عمران خان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر ان کی عوامی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

ان چھ عوامی رہنمائوں میں سے اب تک پانچ کے ساتھ اس قوم نے جو سلوک کیا ہے اسکی مثال نہ ملتی ہے نہ کسی کو اللہ ایسی مثال نصیب کرے۔ فاطمہ جناح بالآخر ایک غدار کہلائیں اور گمنامی کی موت مر گئیں۔ مجیب الرحمن غدار کہلائے اور موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ حالانکہ مجیب کا تعلق پاکستان کے اس حصے سے تھا جہاں سے تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تھا۔ جہاں قیام پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو وہ لیڈر تھے جنہوں نے نوے لاکھ فوجیوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کروایا اور انکوباعزت طریقے سے گھر واپس لائے۔ بھٹو کافی عرصہ تو کافر کہلائے پھر ایک غلط عدالتی فیصلے کے نتیجے میں قاتل بھی بنا دیئے گئے اور یوں اس قوم نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک جا پہنچایا۔ محترمہ بے نظیر بھتو ، ذوالفقار علی بھٹو کی جری صاحبزادی تھِیں ۔ انہوں نے باپ کے عدالتی قتل کے بعد ایک طویل جدوجہد کی اور دو دفعہ وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہیں۔ ان کا انجام بھی عبرت ناک ہوا۔ یہ قوم ان کی حفاظت نہ کر سکی اور ایک قاتلانہ حملے میں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ نواز شریف جیسے کیسے اقتدار میں تو آ گئے مگر اب ان کو جمہوریت اور سیاست کی سمجھ آ چکی تھی۔ انہوں نے جمہوریت کے لئے مشرف دور میں دس سال جلا وطنی کاٹی اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے بعد دوسری مسلسل جمہوری حکومت بنائی ۔ تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم اس وقت اپنی صاحبزادی کے ساتھ جیل کی تنہائی میں شب و روز گزار رہے ہیں ۔ ان کے دونوں صاحبزادے مختلف الزامات میں مطلوب ہیں ۔ سمدھی کے ریڈ وارنٹ نکل چکے ہیں۔ اہلیہ ایام اسیری میں انتقال کر چکی ہیں اور آخری لمحوں میں نواز شریف انکے پاس نہیں جا سکے۔ جنازے کے لئے پیرول کی اجازت کی ضرورت پڑی۔ آخری معروف لیڈر عمران خان ہیں۔ انکے ساتھ ابھی تک کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ صرف اتنا سا المیہ ضرور ہوا ہے کہ جو باتیں عمران خان دو ہزار گیارہ سے پہلے کیا کرتے تھے اب انہیں سے منکر ہو چکے ہیں۔کیا یہ المیہ کم ہے کہ اس قوم نے ایک فطری لیڈر کو یو ٹرن دلوا دلوا کر کس حال میں پہنچا دیا ہے۔

تاریخ کے اس مختصر سے بیان کے بعد آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو قوم اپنے عوامی رہنمائوں کا احترام نہ کر سکی وہ کیسے اپنی زندگی اور تابندگی کے نعرے لگا سکتی ہے۔ ہم جس خود فریبی میں مبتلا ہیں ہمیں اس سے باہر نکلنا چاہیے۔ ہمیں اپنی عظمت کے گیت گانے سے پہلے اپنی تاریخ کے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے۔ ہم وہ نہیں ہیں جس کے گن گاتے ہیں ۔ ہم وہ بھی نہیں ہیں جس پر فخر کرتے ہیں۔ ہم اپنی ناکامی کی دلیل ہیں۔ اپنی حرکتوں کے خود ذمہ دار ہیں ۔ اپنی خطائوں کے خود قصور وار ہیں ۔ ہمارے دامن پر تاریخ نے جو چھینٹے لگائے ہیں ہم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی نامعلوم خوبیوں کی لاحاصل تلاش میں ہیں مگر ہم اپنی خامیوں سے مفر نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ایک تابناک ماضی تھا ، اسلاف کی عظمت کی کہانیاں تھِیں مغلیہ سلطنت کے جاہ جلال کے قصے تھے مگر المیہ یہ کہ ہم ان دیو مالائی داستانوں سے آگے نہیں جا سکے۔ ہمارے پاس فخر کرنے کے لئے سیاست کے میدان میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم احسان فراموش بھی ہیں اور جمہوریت کش بھی۔

نواز شریف کی اہلیہ کے انتقال پر نواز شریف کی اسیری کے وہی معنی ہیں جو بھٹو کے پھانسی گھاٹ پر روانگی کے معنی تھے۔ جو بے نظیر کے قتل کے معنی تھے جو مجیب الرحمن کی غداری کے معنی تھے جو فاطمہ جناح پر غدار وطن کی تہمت کے معنی تھے۔ عمران خان ابھی ان صدمات سے نہیں گزرے۔ لیکن تاریخ کے سبق بڑے اٹل ہوتے ہیں۔ جو کچھ ہمارے ماضی کی قبیح روایت رہی ہے وہی ہمارے مستقبل کا شاخسانہ بننے کا امکان ہے۔ جو کچھ ماضی میں ہوا ہے وہی مستقبل میں ہونے کا امکان ہے۔

تو صاحبان اہل و دانش آج کے بعد جب کبھی کوئی ’’ہم زندہ قوم ہیں کا نعرہ فضا میں بلند کرے اور پرجوش طریقے سے اپنی عظمت کی کہانی سنائے یا پھر گلا پھاڑ کر اپنے روشن مستقبل کی دلیل دے تو اس کو ایک دفعہ اپنی تاریخ کے مطالعے کا مشورہ ضرور دیجئے گا۔ ہماری اپنی سیاسی جمہوری تاریخ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ’’ ہم زندہ قوم نہیں ہیں۔ ‘‘

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں