آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کرپشن کے ذریعے بیرون ملک بھیجی گئی دولت واپس لانے کے حوالے سے قانون بنالیا ہے ۔

جیو نیوز سے گفتگو میں فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف اور بچوں کے مقدمے میں منی ٹریل دینے کی ذمہ داری اُن پر ہے ، پراسیکیوشن کا کام ناجائز اثاثے کی صرف نشان دہی کرنا ہوتا ہے جبکہ اثاثے رکھنے والے کو اس کے ذرائع بتانا لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میوچل لیگل اسسٹنس کا قانون ایکٹ یا آرڈیننس کے ذریعے نافذ کریں گے، نیب کے ہاتھ کاٹیں گے نہیں بلکہ اسے مزید بااختیار بنائیں گے۔

وفاقی وزیر قانون نے یہ بھی کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو کوئی رول بیک نہیں کر رہا اور نا ہی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن کے لیے کسی نئی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 184 تین کے تحت سو موٹو پاورز ہیں، سپریم کورٹ ایگزیکٹو پاورز بھی استعمال کرنے کا اختیار رکھتی ہے،اس آرٹیکل 184 تین کا قانون اسی شکل میں برقرار رہنا چاہیے اور سو موٹو قانون میں اپیل کا حق دینے کی ضرورت نہیں ہے،چیف جسٹس کا ڈیمز فنڈ قائم کرنا احسن اقدام ہے۔

ان کا کہناتھاکہ ججز اور افواج کو احتساب کے دائرے میں ہرگز نہ لایا جائے، ججز کی تقرری اور انہیں ہٹانے کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے، ججز کے مس کنڈکٹ پر انہیں ہٹانے کے قانون میں ترمیم ضروری ہے۔

فروغ نسیم نے سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے کہا کہ ہدایت دے چکا ہوں کہ پرویز مشرف کے بارے میں کوئی سمری یا چیز میرے پاس نہ لائی جائے، وزیراعظم کو بھی اس بارے آگاہ کر چکا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے اپوزیشن پارلیمانی کمیشن کے قیام کے لیے صلح صفائی سے بات کرے، وزیراعظم کے قومی اسمبلی میں آنے کے رولز تبدیل کریں گے۔

بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کے خلاف مقدمہ پوری قوت سے لڑ رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں