آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان امریکہ تعلقات کی بحالی اور مطالبات

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات صفر کے مقام پر پہنچ گئے ہیں مگر وہ نئی راہیں تلاش کررہے ہیں کہ تعلقات میں کوئی نئی بنیاد قائم ہوجائے ۔ امریکہ کی اسسٹنٹ وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے اب تھنک ٹینکس میںتذکرہ شروع کردیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اُسی وقت بہتر ہوسکتے ہیں جب پاکستان امریکہ کے دس نکاتی ایجنڈے کو من و عن مان لے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ بھارت کو افغانستان کیلئے راہداری فراہم کرے کیونکہ یہ بھارت کی اشد ضرورت ہے اور اسلئے بھی کہ بھارت نے وہاں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، دوسرے یہ کہ وہ حقانی نیٹ ورک برباد کر ڈالے، یہ بھارت اور امریکہ دونوں کی خواہش ہے ، امریکہ کی ایک بنیادی پالیسی یہ ہے کہ وہ اپنا کوئی دشمن دُنیا میں رہنے نہیں دینا چاہتا، وہ بغیر مزاحمت کے دُنیا کی بالادست قوت رہنے کا خواہشمند ہے، اس لئے بھی کہ امریکہ اور بھارت اب اسٹرٹیجک اتحادی بن چکے ہیں، اگر یہ دونوں باتیں ہی مان لی جائیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ تین دشمنوں کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑے گا، پھر پاکستان کا تو قیام ہی ممکن نہیں رہیگا۔ اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پاکستان 2013ء سے بھی زیادہ خراب حالت میں آجائے جہاں روز دھماکے ہوتے تھے اور خون پانی کی طرح بہایا جاتا تھا، پھر پاکستان کی نئی معاشی ترقی کے امکان کو بھی معدوم کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان سی پیک کو رول بیک کردے، یعنی یکسر ختم کردے اور اپنے نئے اتحادی سے بھی لڑائی مول لے لے کیونکہ اس طرح امریکہ اور بھارت کے مشترکہ مفادات پورے ہوتے ہیں۔ چین بحرجنوبی چین میں نہ صرف قدم جما رہا ہے بلکہ وہاں پیش قدمی کررہا ہے اس نے کئی سمندری پہاڑیوں پر توپیں نصب کرلی ہیں،کئی جزیروں پر فضائی اسٹرپ بنا لی ہیں جس سے اس کے جہاز اڑ یا اتر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہی نکالا جاسکتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو یکسر بے یارومددگار دیکھنا چاہتا ہے، وہ بھارت کی بالادستی قائم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے، پاکستان نے بھی اپنا راستہ 2010ء سے بدلنا شروع کیا تھا جب 2005ء کا زلزلہ اور 2010ء کے سیلابی حملے ہوچکے تھے، اس کے باوجود امریکہ کےریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی پھر 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا معاملہ ہوا اور پھر سلالہ میں پاکستان کے 26فوجی شہید کردیئے اور امریکی وزیر خارجہ نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے بدلہ لینے کی کوشش کی تو پھر جنگ چھڑ جائے گی مگر ہوا یوں کہ ریمنڈ ڈیوس کو سزا امریکہ جا کر ملی اور وہ فوجی جو ایبٹ آباد حملے میں ملوث تھے وہ سب کے سب افغانستان میں مارے گئے، اس کے علاوہ تقریباً 52 امریکی فوجی جلال آباد میں افغان طالبان نے مار دیئے۔

امریکہ کا چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان نے 29 این جی اوز کو ملک بدر کیا تھا جوکہ ملک میں بھارتی ’’را‘‘ اور امریکی سی آئی اے کیلئے جاسوسی کے مرتکب پائی گئی تھیں، ان کو واپس جاسوسی کرنے دیا جائے۔ امریکہ کا پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ بھارت کی خواہش کے مطابق حافظ سعید کا معاملہ نمٹایا جائے ، پاکستان نے حافظ سعید پر پابندی عائد کردی مگر اُن کو عدالتوں نے صرف انسانی خدمات کیلئے کام کرنے کی اجازت دی ہےامریکہ و بھارت کو یہ بھی قبول نہیں ہے۔ امریکہ کا چھٹا مطالبہ بھی پاکستان کے مکمل طور پر خلاف ہے کہ پاکستان اُن ریڈیو اور سوشل میڈیا نیٹ ورک جو پاکستان کے خلاف کام کررہے تھے کام کرنے کی اجازت دے جبکہ ان کا امریکہ اور بھارت سے تعلق ثابت ہوچکا ہے، یعنی پاکستان خود اپنے خلاف محاذ آرائی کی اجازت دے اور اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارے تاکہ پاکستان میں عدم استحکام کو ممکن بنایا جاسکے۔ امریکہ نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دیئے رکھے چاہے اس کا پاکستان پر کتنا ہی معاشی و معاشرتی بوجھ پڑتا رہے، پاکستان میں جرائم میں اضافہ ہوتا رہے اور وہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں دہشت پناہ لیکر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوتے رہیں اور اب بھارت بھی اُن کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کررہا ہے، امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کی حمایت کرے اور مخالفت سے باز آئے جبکہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکہ کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ پاکستان بش انتظامیہ کا ڈاکٹرائن کہ امریکہ جب اور جہاں چاہے تدارکی اسٹرائیک کرسکتا ہے کو مانے اور اس کیخلاف مزاحمت نہ کرے جبکہ پاکستان کی طرف سے یہ اعلان ہوا ہے کہ اگر امریکہ کا ڈرون آئے تو وہ اُس کو مار گرا سکتے ہیں، اگرچہ بعد میں تردید کی گئی تاہم پیغام صاف تھا کہ ایسا ممکن ہے، امریکہ کا آخری مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرے کیونکہ بھارت نے وہاں 2بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، اب ان مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کا کوئی ایک مطالبہ بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہے، یہ سب کے سب بھارت کے مفاد میں ہیں۔ یہ بھارت کی فتح اور پاکستان کو مکمل سرنگوں ہونے کے مطالبات ہیں جو کسی صورت نہیں مانے جاسکتے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں جواب نفی میں دیا ہے سوائے اس کے کہ وہ صرف امریکہ، افغانستان اورطالبان کے درمیان مذاکرات کرا سکتا ہے، پاکستان نہ صرف اپنے آپ کو ایک طاقتور ملک سمجھتا ہے بلکہ ہر قسم کی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، امریکہ پاکستان کے موقف کو قدرے تذبذب کے ساتھ تسلیم کرتا تو ہے مگر اُس کے مقاصد ایلس ویلز نے واضح کردیئے ہیں مگر پاکستان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف کھل کر سامنے آگیا ہے اور وہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا، اس نے پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، وہ افغانستان میں تیاری کررہا ہے کہ کسی وقت بھی پاکستان، چین، سینٹرل ایشیائی ممالک، ایران اور روس کے خلاف کارروائی شروع کردے، مگر پہلا ہدف پاکستان ہی ہوگا اور پاکستان نے اپنے دوستوں کو چن لیا ہے اور اُن کے ساتھ مل کر وہ ان کارروائیوں کو روک رہا ہے اور امریکہ کو اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہ ہونےدینے کا عزم رکھتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید