• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین میں ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی کا خاتمہ

2016ء چینی عوام کیلئے نئے سال کی خوشی کے ساتھ ایک بڑی خوشی لے کر آیا۔ اُن کی یہ خوشی چین کی حکومت کا کئی دہائیوں سے عائد ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی کے خاتمے کا اعلان تھا جس کے تحت یکم جنوری 2016ء سے اب ہر شادی شدہ جوڑے کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔ واضح ہو کہ چین نے 1979ء میں ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ کی پابندی عائد کی تھی جس کا مقصد شرح پیدائش کم کرکے آبادی پر قابو پانا تھا۔ حکومت کے اس متنازع فیصلے کو ملک بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور چینی جوڑوں کو حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر مختلف سزائوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں بھاری مالی جرمانے اور ملازمت سے برخاستگی سے لے کر زبردستی اسقاط حمل کی سزائیں بھی شامل تھیں جن سے سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوا جبکہ امیر طبقہ جرمانے ادا کرکے حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کرتا رہا۔ اس سلسلے میں چین کے معروف فلم ڈائریکٹر ژینگ یو نے 3بچوں کی پیدائش پر سب سے بڑا جرمانہ 1.2ملین ڈالر ادا کیا۔ ایک اندازے کے مطابق حکومت نے صرف گزشتہ سال جرمانے کی مد میں عوام سے 3.2 ارب ڈالر وصول کئے لیکن ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی کے نتیجے میں ملکی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب بڑھنے کے سبب حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑی اور دو سال قبل ایسے شادی شدہ جوڑوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی گئی جن کی کوئی بہن یا بھائی نہیں تھا۔پالیسی میں ترمیم کی بڑی وجہ وہ رپورٹ تھی جس میں 2050ء تک چین میں محنت کش نوجوان طبقے کی خطرناک حد تک کمی اور ملکی آبادی کا نصف 65 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں پر مشتمل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا جس کے باعث حکومت کو ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق چین میں ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی کے نفاذ سے قبل 1970ء تک چین میں اوسطاً فی خاندان 5 بچوں پر مشتمل ہوتا تھا مگر 1979ء میں ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ کی پابندی عائد ہونے کے بعد بچوں کی شرح پیدائش میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی لیکن حکومتی پالیسی کے منفی نتائج اُس وقت سامنے آئے جب کئی خاندانوں نے ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ کی پابندی کی وجہ سے بیٹوں کو ترجیح دیتے ہوئے بیٹیوں کو قتل کرنا شروع کردیا جس کے باعث چین میں ایک لڑکی کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد 16 تک جاپہنچی اور عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 33 کروڑ سے زائد ہوگئی۔ واضح ہو کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے جس کی آبادی ایک ارب 37 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور اگر چین 1979ء میں ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی نافذ نہ کرتا تو آج 36 سالوں بعد چین کی آبادی 40 کروڑ نفوس کے اضافے کے ساتھ ایک ارب 76 کروڑ تک جاپہنچتی۔
چین صنعتی و اقتصادی ترقی کے حامل ممالک کے درمیان ایک منفرد ملک تھا جس کے عوام کو ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ جیسی پالیسی کا سامنا تھا مگر نئی حکومتی پالیسی کو چینی عوام اور معیشت کیلئے مثبت فیصلہ قرار دیا جارہا ہے جس کے عوام اور ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حکومتی اعلان کے بعد چین کی اسٹاک مارکیٹوں میں بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء، ڈیری پروڈکٹ اور ڈائپرز بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ سرمایہ کاروں کا ان کمپنیوں کے منافع میں اضافے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا تھا۔ چین میں نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد 9 کروڑ سے زائد شادی شدہ جوڑے دوسرے بچے کے بارے میں غور کررہے ہیں لیکن 30 فیصد ایسے شادی شدہ جوڑے بھی ہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دوسرے بچے کے اخراجات کے پیش نظر نئی حکومتی پالیسی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے۔
پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی 4 کروڑ افراد پر مشتمل تھی جبکہ 1998ء کی مردم شماری میں ملک کی آبادی 14 کروڑ نفوس تک جاپہنچی تھی لیکن 18 سال گزرجانے کے باوجود اب تک کوئی مردم شماری نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے ملکی آبادی کا صحیح اندازہ لگانا ممکن نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 20کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس طرح گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران آبادی میں 5 گنا اضافے کے ساتھ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے اور اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو 2050ء تک پاکستان کی آبادی 30کروڑ تک جاپہنچے گی۔ماضی کی حکومتوں نے آبادی پر کنٹرول کیلئے کئی اقدامات کئے اور اس سلسلے میں بہبود آبادی کی وزارت بھی قائم کی گئی مگر یہ محکمہ واضح حکومتی پالیسی نہ ہونے کے سبب بے بس نظر آتا ہے اور ٹی وی چینلز و اخبارات میں ’’بچے دو ہی اچھے‘‘ جیسے اشتہارات پر پیسوں کا ضیاع کرکے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجاتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بلاتاخیر مردم شماری کروائے تاکہ ملکی آبادی کا صحیح اندازہ لگایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کیلئے بھی حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جس کے تحت خاندانوں کی مالی امداد کو شرح پیدائش میں کمی سے مشروط کیا جائے اور کم بچے رکھنے والے خاندان کے سربراہ کو مراعات اور روزگار کی فراہمی میں ترجیح دی جائے۔ پاکستان کی آبادی میں ہوشربا اضافہ ’’ٹائم بم‘‘ کی طرح ہے جس کے پھٹنے کی صورت میں پورا ملک تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے کیونکہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، ٹرانسپورٹ اور روزگار دستیاب نہیں ہے۔ اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا اور ملک کی آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو مستقبل میں معاشی اور سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ غربت اور بیروزگاری کے باعث بدامنی اور دہشت گردی کے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
تازہ ترین