آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی ملک کی صنعتی اور معاشی ترقی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں (SMEs) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ سیکٹر ملک میں سب سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 38 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں قائم ہیں جن میں 8لاکھ صنعتی یونٹس، 12 لاکھ سروس سیکٹر، 18 لاکھ تجارتی و ریٹیل دکانیں شامل ہیں۔ یہ صنعتی یونٹس 41فیصد شہری علاقوں جبکہ 59 فیصد دیہی علاقوں میں قائم ہیں۔ بھارت جو اس وقت ایشیاء کی تیسری بڑی معیشت بننے جارہا ہے، کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا ملکی معیشت میں انتہائی اہم کردار ہے جس سے تقریباً 45 فیصد افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ جاپان میں 99فیصد کاروبار چھوٹے اور درمیانے درجے کا ہے اور تقریباً 4.2ملین SMEs میں 20.84لین جاپانی کام کرتے ہیں جبکہ جاپان میں بڑے درجے کی صنعتیں صرف 12 ہزار ہیں جن میں تقریباً 10.22ملین جاپانی کام کرتے ہیں، اس طرح جاپان کی SMEs کا مجموعی افرادی قوت میں شیئر 69فیصد ہے۔ چین جو امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے، کو اس مقام تک پہنچانے کا سہرا چینی رہنما ڈنگ زیائوپنگ کے سر جاتا ہے جنہوں نے سرکاری اداروں کے ایک بڑے حصے کو پرائیویٹ سیکٹر کے چھوٹے اور درمیانے درجےکی صنعتوں میں تبدیل کیا جس سے آج چین کے تقریباً 86فیصد افرادروزگار سے وابستہ ہیں اور اس شعبے کا ملکی مجموعی جی ڈی پی میں حصہ 60فیصد ہے۔ یورپی یونین کے 27ممبر ممالک کے بلاک میں 99.8فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں ہیں جو 67 فیصد افراد کو روزگار فراہم کررہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 95فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں 60 فیصد افرادکو ملازمتیں فراہم کررہی ہیں۔ میں نے چین، جاپان اور بھارت کی مثالیں اس لئے دی ہیں کہ یہ ممالک ہمارے خطے ایشیاسے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا شمار دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں ہوتا ہے جو ترقی کے کامیاب ماڈلز ہیں۔ 2017ء میں پاکستان کی جی ڈی پی 5.3فیصد تھی جس میں چھوٹے درجے کی صنعتوں کا حصہ 1.8فیصد تھا۔ اس سال بڑے درجے کی صنعتوں کی گروتھ 5.6فیصد اور چھوٹے درجے کی صنعتوں کی گروتھ 8.1فیصد رہی جبکہ 2018ء میں ملکی جی ڈی پی 5.7 فیصد متوقع ہے جس میں چھوٹے درجے کی صنعتوں کا حصہ 1.8 فیصد ہے جبکہ بڑے درجے کی صنعتوں کی گروتھ 6.2 فیصد اور چھوٹے درجے کی صنعتوں کی گروتھ 8.2 فیصد متوقع ہے۔

پاکستان نے 2007ء میں ایس ایم پالیسی کا اعلان کیا تھا لیکن اس پالیسی نے پاکستان میں ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا کیونکہ یہ دنیا میں تیزی سے تبدیل ہوتے بزنس ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی تھی جس کے باعث پاکستان میں SMEs اور وینڈر (Vendor) انڈسٹریز ترقی نہیں کرسکیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی ترقی کیلئے 1998ء میں SMEDAکا قیام عمل میں آیا تھا جس کی ذمہ داریوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ کیلئے چیمبرز کے اشتراک سے شعبہ جاتی فیزیبلٹی رپورٹس فراہم کرنا تھا۔ SMEs کے فروغ کیلئے SME بینک بھی قائم کیا گیا لیکن بدقسمتی سے ان اداروں نے SMEs کے فروغ کیلئے کوئی قابل قدر کردار ادا نہیں کیا۔ SMEs کی ترقی کیلئے میں نے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ وینڈرانڈسٹری کے قیام پر زور دیا ہے۔ جس طرح آٹوموبائل سیکٹر کی وینڈر انڈسٹریز پاکستان کے آٹو سیکٹر کو کوالٹی اور معیار کے مطابق گاڑیوں کیلئے مختلف پارٹس اور دیگر اسپیئرز فراہم کررہی ہیں لیکن ہمیں آٹو سیکٹر کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی سیکٹرز میں بھی اسی طرح کی وینڈر انڈسٹریز کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ SMEDA نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے سفارشات دے اور ان امور کی نشاندہی کرے جو پاکستان میں ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اسٹیٹ بینک قوانین کے مطابق پاکستان میں وہ صنعت جس میں زیادہ سے زیادہ 250 ملازمین، کمپنی کا کیپٹل ڈھائی کروڑ روپے اور سالانہ سیل 25 کروڑ روپے تک ہو، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت SMEsشمار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ SMEs مینوفیکچرنگ اینڈ پروسیسنگ سیکٹر اور دوسرے نمبر پر سروس سیکٹر میں ہیں۔ پاکستان میں ایس ایم ایز سیکٹر کا فروغ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ایس ایم ایز کو بینکوں سے مناسب شرح سود پر قرضوں کا نہ ملنا ہے۔ دو دہائی قبل اسٹیٹ بینک کے کارپوریٹ اور SMEs سیکٹرز کے بینکوں سے قرضے لینے کے قوانین (پروڈنشل ریگولیشن) ایک ہی تھے جس کے تحت ان کو بینکوں سے قرضہ لینے کیلئے اپنی فیکٹری، عمارت اور مشینوں کو بینکوں کو بطور سیکورٹی گروی رکھوانا پڑتا تھا لیکن چونکہ SMEs میں بیشتر چھوٹی فیکٹریاں کرائے پر ہوتی ہیں اور مالکانہ حقوق نہ ہونے کے باعث اُنہیں بینکوں کے پاس گروی نہیں رکھوایا جاسکتا جس کی وجہ سے SMEs سیکٹر کو بینکوں سے قرضہ حاصل کرنا نہایت مشکل تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے میں نے FPCCI کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بینکنگ، کریڈٹ اینڈ فنانس کے چیئرمین کی حیثیت سے اُس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے درجے کی صنعتوں کےلئے قرضوں کے علیحدہ نرم قوانین بنائے جائیں جس میں SMEs کو اثاثے گروی رکھ کر قرضے دینے کے بجائے کیش فلو کی بنیاد پر قرضے فراہم کئے جائیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میری کئی سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے SMEs کے قرضوں کے علیحدہ قوانین کا اعلان کیا جس کے تحت اب SMEsکمپنی اپنی فزیبلٹی رپورٹ اور کیش فلو کی بنیاد پر اگر قرضے واپس کرنے کی استطاعت رکھتی ہے تو وہ کمپنی اثاثے گروی رکھے بغیر بینکوں سے قرضے حاصل کرسکتی ہے لیکن افسوس کہ پاکستان میں آج بھی بینکس SMEs سیکٹر کو نئے قوانین پر قرضے فراہم کرنے کے بجائے پرانے قوانین کے تحت اثاثوں کو گروی رکھ کر 18 فیصد تک کی بلند شرح سود پرقرضے دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں۔ فیڈریشن کے مطالبے پر اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی فراہمی آسان بنانے کیلئے SMEs کے اسٹیٹ بینک کے ’’پروڈنشل ریگولیشنز‘‘ میں مزید ترامیم کی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کو چاہئے کہ وہ نجی بینکوں کو زرعی قرضوں کی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو 6 سے 7 فیصد رعایتی شرح سود پر قرضے دینے کےسالانہ اہداف مقرر کرے۔ میری پاکستان میں اسلامک بینکوں سے درخواست ہے کہ وہ بھی ایس ایم ایز کیلئے اسلامک فنانسنگ کے پروڈکٹ متعارف کرائیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئے خصوصی صنعتی زونز بنائے جائیں۔ ورکرز کی TEVTA کے تعاون سے خصوصی ٹیکنیکل ٹریننگ، TDAP کے تعاون سے بیرونی منڈیوں میں ایکسپورٹس آگاہی اور چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں سے ملک میں ایس ایم ایز کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں UNDP نے SS-GATE پروگرام شروع کیا ہے جس میں جنوبی ایشیا کے غریب ممالک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے کیلئے SMEs کے فروغ کیلئے فیڈریشن ہائوس میںڈیسک قائم کی گئی ہے جو ایس ایم ایز پروپوزل وصول کرکے اپنی سفارشات بھیجے گی۔اس سلسلے میں فیڈریشن نے گزشتہ دنوں SMEs کی قومی پالیسی پر تیسری رائونڈ ٹیبل منعقد کی جس میں میرے علاوہ فیڈریشن کے قائم مقام صدر، نائب صدور، سارک کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک، اسمیڈا اور ایس ایم ایز بینک کے اعلیٰ عہدیداران، چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایس ایم ایز کے چیئرمین نے شرکت کی۔ میں نے اپنی پریزنٹیشن میں ایس ایم ایز کو ایکسپورٹ شعبے کی طرح مراعات اور رعایتی فنانسنگ دینے اور آٹو موبائل سیکٹر کے علاوہ ٹیکسٹائل، ڈیری، لائیو اسٹاک، فش فارمنگ، جیمز اینڈ اسٹون کے شعبوں میں وینڈر انڈسٹری کے فروغ کی سفارش کی۔

چینی حکومت نے اپنے دستکاروں کو گھریلوصنعتیں لگانے کی پانچ سالہ مدت کیلئے ٹیکس چھوٹ کے ساتھ آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے اور ان کی مصنوعات خرید کر مارکیٹ تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی لی۔ مشرف حکومت میں وزیراعظم پاکستان نے تھائی لینڈ کے مشہور ماڈل ’’ایک گائوں، ایک مصنوعات‘‘ کا مطالعہ کیا اور SMEDA کو پاکستان میں اسی طرز کی کاٹیج انڈسٹریز ڈویلپ کرنے کی ہدایت کی۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے بڑے درجے کی صنعتوں سے ترقی حاصل کرنے کے بجائے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو فروغ دیکر ترقی حاصل کی ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں بھی صنعتی ترقی کیلئے ایس ایم ایز سیکٹر کو فروغ دینا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں