آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنسی ہراسانی کے خلاف بھارت میں جاری مہم ’می ٹو ‘ کا شور شرابہ بالی وڈ سے بھارتی کرکٹ پہنچ گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2016 سے بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر فائز راہول جوہری پر ایک خاتون صحافی کی جانب سے نا مناسب رویے اور جنسی ہراسگی کا الزام لگایا گیاہے۔

راہول جوہری کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مصنفہ کی جانب سے  پوسٹ منظر عام پر آئی جس میں انہوں نے لکھا کہ انہیں ایک خاتون صحافی کی جانب سے کئی صفحوں پر مشتمل ای میل موصول ہوئی جس میں انہوں نے راہول جوہری کی جانب سے کی گئی جنسی زیادتی کا واقعہ بیان کیا ہے ۔

مصنفہ نے لکھا کہ ’خاتون نے اپنا نام راز میں رکھنے کی درخواست کی ہے، راہول جوہری تمہارا وقت پورا ہو گیا‘۔


ای میل کرنے والی خاتون صحافی نے لکھا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت راہول جوہری بھی ایک چینل میں ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ اور جنرل مینیجر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ شعبہ مشترکہ ہونے کی وجہ سے دونوں میں اکثر ملاقات رہتی تھی۔وہ ایک بڑے چینل کے بڑے عہدے پر فائز تھے جبکہ مجھے کسی اچھے چینل میں ملازمت کی تلاش تھی۔

واضح رہے اس سے ایک دن قبل سابق سری لنکن کھلاڑی راناٹنگا اور مالنگا بھی اس طرح کے الزامات کی زد میں آئے۔رپورٹس کے مطابق بھارتی ایئرہوسٹس نے فیس بک پوسٹ میں لکھاکہ ایک مرتبہ ممبئی کے ہوٹل میں رانا ٹنگا نے انہیںجنسی طور پر ہراساں کیا تھا، وہ بڑی مشکل سے خود کو ان سے چھڑوا کر استقبالیہ پر پہنچیں تو انہیں کہا گیا کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے۔

اسی طرح بھارتی پلے بیکر سنگر چنمائی سریپادا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ایک دوست کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ مالنگا نے انہیںکہا کہ وہ ان کے روم میں ہیں، وہ اندر گئیں تو دروازہ بندکرلیا تاہم اسٹاف کے وہاں آنے پر وہ بحفاظت باہر نکل آئیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں