آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عربی اور فارسی الفاظ کے درمیان جب واو (و)آتا ہے تو ’’اور ‘‘ کا مفہوم ادا کرتا ہے ۔ اس عمل کو اصطلاحاً عطف اور ایسے واو کو واوِ عطف کہتے ہیں ۔ عطف کے لفظی معنی ہیں جھکنا، مُڑنا، مائل ہونا، جوڑنا (بالخصوص کلمات کو )۔ یہ’’ مہربانی کرنا‘‘ کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اسی لیے عاطف نام رکھا جاتا ہے یعنی مہربانی کرنے والا، مہربان، شفیق۔ اسی سے انعطاف کا لفظ بھی بنا ہے۔ سائنس کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب روشنی منعکس (reflect) ہونے کی بجاے منعطف (refract) ہوتی ہے یعنی کسی واسطے سے گزر کر ترچھی پڑنے اور مڑنے لگتی ہے توا سے انعطاف (refraction) کہتے ہیں۔

لیکن دو لفظوں کو واو کے ذریعے جوڑنے کا جو عمل عطف کہلاتا ہے اس کی کچھ شرائط ہیں ۔ شرائط یہ ہیں کہ واوعطف جن دو لفظوں کو درمیان میں آکر جوڑے گا وہ دونوں یا تو عربی کے ہوں گے یا دونوں فارسی کے ہوں گے یا دونوں میں سے ایک عربی کا ہوگا اور ایک فارسی کا۔ مثلاً قوت و طاقت میں قوت اور طاقت دونوں عربی کے لفظ ہیں ۔ جان و دل میں جان اور دل دونوں فارسی کے لفظ ہیں ۔ خواب و خیال میں خواب فارسی کا لفظ ہے اور خیال عربی کا۔ظلم و ستم میں ظلم عربی ہے اور ستم فارسی۔

لیکن اگر ایک بھی لفظ اردو (یا ہندی یا پراکرت کہہ لیجیے) کا ہوگا تو ان کے درمیان واو عطف لگا کر مرکب بنانا درست نہیں سمجھا جاتا۔ چیخ بھی اردو کا لفظ ہے اور پکار بھی اردو کا ہے۔ اس لیے ان دونوں کے بیچ میں واو ِ عطف کا استعمال صحیح نہیں ۔گویاچیخ و پکار درست نہیں ہے۔ اسے چیخ پکار بولنا اور لکھنا چاہیے یا چیخ اور پکار۔

ہمارے بعض اہل علم ایسے مرکبات کو جائز سمجھتے تھے اور اردو الفاظ کے درمیان واو ِ عطف نیز فارسی کے انداز میں زیر یا ہمزہ لگا کر مرکب اضافی یا مرکب توصیفی بنانا بھی جائز سمجھتے تھے۔ خاص طور پر شان الحق حقی مرحوم ’’لب ِ سڑک‘‘ اور ’’فوق البھڑک ‘‘جیسے مرکبات کو غلط نہیں کہتے تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’لسانی مسائل و لطائف ‘‘ میں تاریخی حوالے دیے ہیں کہ اس طرح کے مرکبات (جس میں ایک لفظ مقامی زبان یعنی اردو یا ہندی کا ہے اور دوسرا فارسی یا عربی کا )طویل عرصے سے استعمال ہورہے ہیں اور بعض استاد شعرا نے بھی اس طرح کی تراکیب استعمال کی ہیں۔

لیکن اہل علم کی اکثریت کے نزدیک چیخ و پکار کی ترکیب جائز نہیں ہے اور اسے چیخ پکار(یعنی واو کے بغیر) لکھنا اور بولنا چاہیے۔ بلکہ تمنا عمادی نے تواپنی کتاب ’’افعال ِ مرکبہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بعض جہلا واو عطف کے ساتھ چیخ و پکار لکھا کرتے ہیں ‘‘۔ خیر زبان میں اتنی سختی بھی ٹھیک نہیں لیکن کم از کم ان مباحث سے واقف ہونا ضروری ہے اور اگر انسان’’ چیخ و پکار‘‘ استعمال کرے تو یہ کہہ کر کہ میں ایسے مرکبات کو جائز سمجھتا ہوں۔ البتہ یہ بھی یاد رہے کہ اکثر اہل علم کی عمومی رائے یہی رہی ہے کہ ایسے مرکبات بنانا جائز نہیں ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں