السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کچھ اور بھی گہری
اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں موقعے کی مناسبت سے حج و عُمرہ کے احکام اور مسائل بتائے گئے، تو ڈاکٹر محمد جاوید احمد سورئہ رحمن تھراپی کے بارے میں بتارہے تھے۔ ویب سائٹس کے عالمی یوم سے متعلق پڑھ کر معلومات میں اضافہ ہوا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں شہزاد شیخ اور آمنہ شاہ سے گفتگو خُوب رہی۔ ایک شمارے میں میرا خط اور دوسرے میں میرا پیغام شایع فرمانے کا بہت بہت شکریہ۔ اگلےشمارے میں مُلک کو درپیش چیلنجز سے متعلق اچھی معلومات ملیں۔ ’’اسٹائل‘‘ میں ہم سب کی پہچان، ہم سب کا پاکستان‘‘ پڑھ کر پاکستان سے محبت کچھ اور بھی گہری ہوگئی۔ آج کل ناز انکل کے خطوط نظر نہیں آرہے، اللہ کرے وہ خیریت سے ہوں۔ (پرنس افضل شاہین، ڈھاباں بازار، بہاول نگر)
دو وضاحتیں
ایڈیٹر صاحبہ! آپ نے میرے دو خطوں پردو وضاحتیں چاہی تھیں، سوچا، اس ہفتے واضح کر ہی دوں۔ پہلی یہ کہ مجھے بچّے واقعی بہت پسند ہیں۔ رشتے، زبان، قوم، ذات پات کی پابندیوں سےبالکل آزاد۔ اِن کی مُسکراہٹیں کیسی سکون آور ہوتی ہیں۔ دوسری یہ کہ نہ جانےکیوں، بچپن ہی سے بڑی بڑی، شرارتی، شربتی، بڑی پلکوں والی، بولتی آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں۔ یوں بھی کسی چہرے کا اصل حُسن ان آنکھوں ہی کا تو مرہونِ منّت ہوتا ہے۔ شبنم، رانی، فردوس اور نجمہ کی آنکھیں مجھے بےحد اچھی لگتی تھیں۔ اب آتے ہیں شمارے کی طرف، حالیہ شمارہ بھی خاص شماروں کے زمرے میں آگیا۔ خاصی مستند تحریریں پڑھنے کا موقع ملا۔ محمود میاں نجمی نے بہت پُراثر اور معلوماتی تحریر پیش کی، البتہ طاہر حبیب کی تحریر کچھ خاص متاثر نہ کرسکی۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل کےمضمون کاجواب نہ تھا۔ حجاب کے موضوع پر ’’ڈائجسٹ‘‘ میں کنول بہزاد کا افسانہ اچھا لگا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم نےبھی اچھی تصویرکشی کی۔ خانوادے میں ڈاکٹر قمر عباس ایک بار پھر بازی لے گئے اور ’’اسٹائل‘‘ میں حجاب پہنے بچّیاں بہت ہی بھلی لگیں۔ واقعی، شرم و حیا کا اپنا ہی ایک حُسن ہے، اور اُس پر تمہاری تحریر نے تو سونے پہ سہاگے کا کام کردیا۔ (چاچا چھکّن، گلشن اقبال، کراچی)
ج: یہ بھی اچھا ہے، خطوں کے بہانے لوگوں نے اب بِن کہے انٹرویوز بھی دینے شروع کردیئے ہیں۔ یا غالباً پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی سے سب کو ’’مَیں نامے‘‘ لکھنےکی تحریک مل رہی ہے۔
بدل کے رکھ دیا
خُوب صُورت مضامین سے سجا بسا، حسین شاعری کی خوشبو میں رَچا میگزین بڑی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔ ایک عرصے بعد سنّتِ ابراہیمیؑ کے اصل واقعے کو دل کش انداز میں تحریر کیا گیا، وگرنہ ہوتا یہ تھا کہ ثقیل الفاظ کے ساتھ پندونصائح کی تو بھرمار ہوتی، مگر اصل واقعے کا ذکر سِرے سے ناپید ہوتا۔ مضمون کو شیرخوار اسماعیلؑ سے شروع کر کے آخر تک جس چاشنی و تسلسل سے تحریر کیا گیا، شاید ہی کوئی قاری ہو، جس نے پورا مضمون ایک نشست میں نہ پڑھ ڈالا ہو۔ رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع پر ایسے منفرد مضامین کی اشاعت نے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے صفحے کا پیٹرن ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلے ان اہم دِنوں پر ایک جیسے مضامین بس معمولی ردّوبدل کے بعد شایع کر دیئے جاتے تھے۔ ’’جُھکی ہے شوکتِ کونین تیرے قدموں میں…‘‘ واہ واہ واہ۔ بٹیا، تمہاری تحریر نے بھی کمال کر دیا۔ اتنے عُمدہ خیالات، خُوب صورت الفاظ، بہترین کلام، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ ہماری مانو، خود بھی شاعری شروع کر دو۔ ویسے اس ایڈیشن کا تو ہر مضمون اپنی مثال آپ ہے۔ (پروفیسر سیّد منصور علی خان، کراچی)
ج: جی سر!! ہماری پوری کوشش ہے کہ صرف ایک ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے صفحے کو نہیں، پورے میگزین ہی کو قارئین کی پسند کے قالب میں ڈھال دیں۔
نئی نویلی دوستی
سنڈے میگزین سے پرانی وابستگی ہے، مگر ہربار رسالہ ایسا لُطف دیتا ہے، جیسے نئی نویلی دوستی ہو، اس بار بھی کئی تحریریں، مضامین پڑھنے کے لائق تھے۔ (شری مرلی چند جی، گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)
کیا توصیف کریں؟؟
سنڈےمیگزین ملا، پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نے فلسفہ قربانی اور سنّتِ ابراہیمیؑ کی ایمان افروز داستان خُوب صُورت انداز میں قلم بند کی۔ محمّد ہمایوں ظفر نے مویشی منڈی کی بھی کیا خُوب سیر کروائی۔ طاہر حبیب، رئوف ظفر، ڈاکٹر قمر عباس کے مضامین پسند آئے۔ اشاعتِ خصوصی میں حامد فیاض نے خاصی معلوماتی تحریر پیش کی۔ رائو محمّد شاہد اقبال کے قلم کا جادو بھی چل رہا ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم کا مضمون پسند آیا۔ ڈاکٹر احمدحسن رانجھاکاافسانہ بھی اچھا تھا۔ پروفیسر انوار حمیدی نے نبی پاکؐ کی دُعا لکھ کر بڑی نیکی کمائی اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو بس آپ ہی کا صفحہ ہے، اس کی کیا توصیف کریں۔ (انور قریشی، گائوں خیر ساری بانڈہ، کاہی ہنگو، کے پی کے)
ج:نہ کریں،بالکل نہ کریں توصیف، آپ سے کس نے کہا کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ اور تعریف و توصیف لازم و ملزوم ہیں۔
مضمون بھیجا تھا
یہ میرا پہلا خط ہے، جو میں کسی میگزین میں لکھ رہی ہوں۔ میں نے ایک مضمون بھی بھیجا تھا، کچھ پتا نہیں کہ شایع ہوگا یا نہیں۔ (نمرہ خان محمد وحید اعوان، کراچی)
ج: مضمون کب اور کس صفحے کے لیے بھیجا تھا، خط لکھنے کا تردّد کیا تھا، تو مضمون کی تھوڑی تفصیل بھی لکھ دیتیں۔ ویسے تمہاری تحریرخاصی کم زور ہے، سخت محنت کی ضرورت ہے۔
ٹھنڈے، دل کش جھونکے
تازہ شمارہ بادِنسیم کے ٹھنڈے، دلکش جھونکھوں کی مثل ملا۔ ’’میرا آنچل ہے، حیا کا پرچم…‘‘ حجاب کی پاکیزگی، حیا کے مہکتے رنگوں نے سرِورق کو کیا ہی دل آویزی عطا کی۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نے ’’پردہ عورت کا آہنی حصار‘‘ نہایت عُمدگی سےقلم بند کیا۔ پاکستان کی پندرہویں اسمبلی سے متعلق طاہر حبیب نے بھی کھرے حقائق مدلّل انداز سے بیان کیے۔ ڈاکٹر قمر عباس کی، دو افسانہ نگار بہنوں پر قلم آرائی کے تو کیا ہی کہنے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی بھی ’’حجاب‘‘ کے موضوع پر بلیغ تحریر لے کررونق افروز ہوئیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی نظم ’’مجھے مستور رہنے دو‘‘ نے تو مدیرہ کی تحریر کو چار چاند لگا دیئے۔ پیارا گھر، ڈائجسٹ اور اِک رشتہ، اِک کہانی کے صفحات نے بھی مطالعےکی لطافت کوخوب بڑھایا اور پروفیسر فؤاد سزگین کی خدمات پر ڈاکٹر محمد ارشد نے اچھی قلم آرائی کی، جب کہ آپ کا صفحہ میں بس ایک ’’لطیفے‘‘ (خادم ملک) ہی کی کمی تھی۔ (ملک محمد رضوان، محلہ نشیمن اقبال، واپڈا ٹائون، لاہور)
مستقل براجمان ہیں
تازہ ’’سنڈے میگزین‘‘ میں خواجہ رضی حیدر نے ’’قائداعظمؒ اور پاکستان کی فکری و نظری اساس‘‘ پر خُوب لکھ ڈالا۔ گویا رضی صاحب کا مضمون مدیرہ سنڈے میگزین کا ایک اور کام یاب انتخاب تھا۔ طاہر حبیب کا تعلیم پر مضمون، جنگ کے تعلیمی صفحات پر شایع ہونا چاہیے تھا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے مختصر، چنیدہ صفحات پر تو یہ ظلم ہے۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں ’’استنبول‘‘ پڑھا، اچھا لگا۔ قسطنطنیہ کب استنبول ہوا، سُرخی میں لکھنا چاہیے تھا۔ اور یہ کلدیپ، ’’نیّر‘‘ کب سے ہوگئے، وہ ’’نائر‘‘ ہیں یا ’’نایر‘‘، نیّر نہیں ہوسکتے۔ شاہد صدیقی کی معلومات میں بھی سقم ہے۔ منور مرزا نے ’’اقوامِ متحدہ‘‘ کے نئے اجلاس کا کچّا چٹّھا کھولا، اچھا لکھتے ہیں، لیکن ہماری طرح پابندیوں میں جکڑے ہوئے لگتےہیں۔ عالیہ کاشف نے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر عُمدہ لکھا۔ محمّد انور شیخ کو چاہیے تھا، اپنا مضمون ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں لگواتے۔ اُن کو مقدّس سفر مبارک ہو، آج کل تو ذاتی عبادت و ریاضت بھی پبلسٹی کا سہل ذریعہ ہے۔ (اللہ معاف کرے)۔ ’’پیارا گھر‘‘ اپنی معصومانہ، نادر و نایاب تحاریر کی وجہ سے جداگانہ شناخت رکھتا ہے، اس میں ڈاکٹر عبدالتوحید خان کی کہاں گنجائش؟ محمّد ہمایوں ظفر نے میٹرو لائٹس کے اینکر کا بہت اچھا انٹرویو کیا۔ ویسے یہ ’’کہی، اَن کہی’’ بڑا ہی عجیب سلسلہ ہے، اسے پڑھ کر ہمیشہ تشنگی ہی سی رہتی ہے۔ اور یہ ڈاکٹر معین الدین قریشی کہاں کہاں چَھپیں گےبھئی۔ مڈویک میگزین، ادبی صفحے پر تو مستقل براجمان تھے، اب سنڈے میگزین میں بھی آدھمکے۔ (پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی، گلبرگ ٹائون، کراچی)
ج:ایک اتنے بزرگ شخص کو مسلسل تنبیہ کرنا ہمیں بُرا معلوم ہو رہا ہے، مگر آفرین ہے آپ پر، وہی مرغے کی ایک ٹانگ، بلکہ اس بار تو آپ نے حد ہی کردی۔ شیخ چلّی کو بھی مات دیتے ہوئے اپنے اور اہلِ خانہ کی شان میں جو قصیدے پڑھے، سو پڑھے، کئی معتبر لکھاریوں، شخصیات کے لیے قطعی نازیبا کلمات بھی لکھ ڈالے۔ آپ عام خطوط نگاروں کی طرح بزم کا حصّہ بننا چاہیں، تو خوش آمدید، بہ صورتِ دیگر جہاں آپ کا دل چاہے، قلم کے جوہر دکھائیں، خدارا!اس صفحے کو بخش دیں۔ اور ہاں، کلدیپ نیّر صاحب نے خود اپنی زندگی میں اس بات کی بارہا وضاحت کی کہ ’’میرا نام کلدیپ نیّر ہے، نہ کہ نائر، نہ جانے کیوں میرے پاکستانی دوست مجھے نائر لکھ کر پرایا کرتے ہیں۔‘‘
دن دونی، رات چوگنی
شاد، شاد، شاد پھر بہت شاد ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ! میرے خط کا جواب دیا۔ ناچیز ایک بار پھر حاضر ہے۔ سارے سلسلے اچھے جارہےہیں۔ گویا آپ کی محنت خُوب رنگ لارہی ہے، بلکہ لاچُکی ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ ادارہ دن دونی، رات چوگنی ترقی کرے۔ (ولی احمد شاد، ملیر، کراچی)
ج: آپ ترقی کی دُعائیں دے رہے ہیں، ’’تبدیلی‘‘ والوں کا تو بس نہیں چل رہا کہ میڈیا کی ایسی لگامیں کسَے کہ بولنا، لکھنا تو دُور، کسمسانا تک چھوڑ دے، سانس لینا بھول جائے۔
فکر کا انداز بدل دو!!
روزنامہ جنگ ہمیشہ سے مطالعے میں ہے اور اتوار کے روز ’’سنڈے میگزین‘‘ تو پورے گھر کی خصوصی توجّہ کامرکز ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالتوحید خان کی تحریر ’’سوچ کا انداز، طرزِ فکر بدلنا ہو گا‘‘ نے کافی متاثر کیا، لہٰذا ایک نظم ’’فکر کا انداز بدل دو‘‘ کی صُورت کچھ ایسے ہی خیالات سپردِ قلم کیے ہیں۔ آپ کی نذر کررہا ہوں، امید ہے پسند آئے گی۔ (غالب عرفان، نارتھ کراچی، کراچی)
ج: جی، جی… اِن شاء اللہ تعالیٰ آپ کی نظم جلد شایع ہو جائے گی۔
لاجواب نگارش
کچھ لکھنے کی سعی میں یہ چند الفاظ رقم کر رہی ہوں۔ تازہ شمارے کا سرِورق بہترین تھا۔ نجمی صاحب کی تحریر ’’پردہ عورت کا آہنی حصار‘‘ بہت ہی پسند آئی۔ سمیحہ راحیل قاضی کی نگارش بھی لاجواب تھی۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں ’’شجرسایہ دار‘‘ تو دل چُھو گئی۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کا صفحہ بھی کافی عرصے بعد بہت پسند آیا۔ (مسز اسلم، گلستانِ جوہر، کراچی)
اونچی ہِیل، منفی سوچ
اس بار ماڈل صاحبہ نے اونچی ہِیل والی سینڈل کیوں پہنی تھی؟ اونچی ہِیل کی سینڈل کی جگہ اگر موتی والے چپل پہنتی، تو زیادہ اچھا معلوم ہوتا۔ کیا ہر بار ماڈل کا اونچی ہیل والی سینڈل پہننا ضروری ہے۔ یوں بھی ہائی ہِیل سے چال غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ اور ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر توحید کے مضمون کا عنوان ’’سوچ کا انداز بدلیں‘‘ کیوں تھا۔ ارے بھئی، کچھ لوگوں کی سوچ مثبت بھی ہوسکتی ہے، تو کیا وہ بھی اپنی سوچ بدلیں، مضمون کا عنوان ’’منفی سوچ بدلیں‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ سُرخیاں ٹھیک سےنکالا کریں۔ آپ اس قدر تساہل سے کام نہ لیا کریں۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: ہو سکتا ہے ماڈل صاحبہ کو راستے میں کوئی ’’خادم ملک‘‘ ٹکر جاتا ہو۔ یاد رہے، ہائی ہِیل سے صرف چال ہی خراب نہیں ہوتی، کسی کا سر بھی آسانی سے کھولا جا سکتا ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے آرٹیکل کی مین سُرخی کے ساتھ ایک ذیلی سُرخی بھی تھی، جس میں تنائو اور مایوسی کی کیفیات کا ذکر تھا۔ مطلب مضمون تھا ہی منفی طرِزِ فکر پر، تو پھر اِسی کے بدلنے کی بات ہو گی ناں۔ آپ اُلٹی سیدھی بونگیوں میں وقت برباد کرنے کی بجائےکم از کم پوری سُرخیاں ہی پڑھ لیا کریں۔
تھوڑا منفرد، وکھرا
اس بار دو شماروں پر تبصرہ ذرا منفرد، وکھرے اندازسےکررہاہوں، اسی لیے کاغذ بھی تھوڑا وکھرا ہی استعمال کیا ہے۔ یوں بھی تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔ پہلے شمارے کا سرِورق دیدہ زیب و دل کش لگا۔ نجمی صاحب کا مضمون شان دار تھا۔ رئوف ظفر کی کاوش خاصی فکرانگیز تھی، توسینٹراسپریڈخوش گوار وباعثِ طمانیت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر قمر عباس، رائو شاہد اقبال کے مضامین معلومات افزا رہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے کچھ خطوط رسیلے، چند چمکیلے، بعض کریلے کی مانند کڑوے کسیلے، تو چند ایک رنگ رنگیلے سے لگے۔ دوسرے شمارے کا سرِورق اور محمود نجمی کا مضمون دونوں لائق ستائش تھے۔ طاہر حبیب کی کاوش، خانوادے، ہیلتھ اینڈ فٹنس اور سینٹر اسپریڈ سب ہی پسندیدہ ٹھہرے۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم کا مضمون، ڈائجسٹ اور ڈاکٹر ارشد کا متفرق سب ہی لائق مطالعہ تھے۔ اور ہاں، نرجس! میں کچھ مخمصے میں ہوں۔ پچھلے چند شماروں کے چند خطوط میں تحریر کی جمع تحریرات شایع ہوا۔ حالاں کہ اسی وزن میں تقریر کی جمع تقاریر، تصویر کی تصاویر، تفسیر کی تفاسیر وغیرہ ہے، تو پھر تحریر کی جمع تو تحاریر ہی ہونی چاہیے (اور ہم نے یہی لکھا اور پڑھا بھی ہے) نہ کہ تحریرات۔ اب کون یہ گتھی سلجھائے کہ درحقیقت تحریر کا جمع صیغہ ہے کیا؟ پلیز، میری معاونت کرو۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، طارق آباد، فیصل آباد)
ج: آپ کی تبدیلی بھی، حکومتی تبدیلی جیسی ہی ہے۔ تبصرے میں وکھرا، منفرد تو کچھ بھی نہیں۔ ’’پھرّے نما‘‘ کاغذ کے استعمال کی عادت بھی وہی پُرانی ہے اور گتّھی بھی کوئی ’’مسئلہ کشمیر‘‘ تو ہےنہیں، کوئی سی بھی لغت اٹھا کر دیکھ لیں، تحریر کی جمع ’’تحریرات‘‘ ہی ملے گا۔ کسی نے نشان دہی کی، تو ہم نے اصلاح کرلی، آپ بھی کرلیں کہ اصلاح کے لیے کوئی حد، عُمر تو مقرر ہےنہیں۔
فی امان اللہ اس ہفتے کی چٹھی
’’ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے اور اسلام کا بنیادی وصف حیاہے‘‘، زیرِ نظر شمارے کا سرِورق اس حدیث مبارکہ کا پَرتو لگا۔ اسٹائلش حجاب اور رنگا رنگ عبایا زیب تن کیے مہمانانِ گرامی سرورقی شہ سُرخی، ’’میرا آنچل ہے، حیا کا پرچم‘‘ کی کماحقہ عکّاسی کرتی دکھائی دیں۔ دائیں جانب سے رسالہ کُشائی کرتے ہوئے، صفحہ آخریں دیکھ چُکنے کے بعد آغازِ مطالعہ ’’سرچشمہ ٔہدایت‘‘ سےکیا۔ محمود میاں نجمی نے حکمت پردہ سے متعلق یہ لکھ کر گویا سمندر کو کُوزے میں بند کردیا کہ ’’دراصل بے پردگی، بے حیائی کا نقطۂ آغاز ہے‘‘۔ طاہر حبیب نے ’’کیا ہے خاص…!‘‘ کے عنوان سے موجودہ قومی اسمبلی کے کچھ منفرد حقائق دل چسپ پیرائے میں بیان کیے۔ ’’خانوادے‘‘ میں افسانہ نگار بہنوں کے خاندانی حالات اور ادبی کمالات پڑھ کر تو ہم ڈاکٹر قمر عباس کے اور دل دادہ ہوگئے۔ مدیرہ صاحبہ! اگر آپ ان سے فخرِ فیصل آباد، استاد نصرت فتح علی خان سے متعلق مضمون لکھوادیں، توعنایت ہوگی۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں باحجاب مضمون نگار (ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی) کی تحریر کا یہ جملہ پورے مضمون کا نچوڑ تھا کہ ’’حجاب، زبردستی اور جبر کا نام نہیں، بلکہ محبت، ترغیب اور تعلیم کا نام ہے‘‘۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں سیدھے سادے الفاظ میں بے تامّل و بے تردّد، ڈاکٹر صاحب کی وساطت سے شکر خوروں کو باور کروا دیا گیا کہ ’’سفید چینی میٹھا زہر ہے‘‘،اب گیند ہم قارئین کی کورٹ میں ہے۔ عالمی افق میں منور مرزا کے بینر تلے ٹرمپ اِن ٹربل دیکھ کر ہم اس قدر رنجیدئہ خاطر ہوئے کہ طیفا اِن ٹربل دیکھ کر بھی دل بستگی نہ ہوئی۔ مرکزی صفحات پر نو کمنٹس (حدیثِ قُدسی ہے کہ یقیناً نگاہ، ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے) پیارا گھر میں بھی پردہ دار و پردہ نشیں خواتین کو ون بلین ڈالر کا دل نشین نکتہ ذہن نشین کروایا گیا کہ ’’عورت اور حیا لازم و ملزوم ہیں‘‘۔ آپ جس طرح میگزین کے پلیٹ فارم سے نوجوانانِ مسلم، دخترانِ ملّت اور پیرانِ قوم کی کردار سازی کر رہی ہیں، بلاشبہ یہ صدقہ جاریہ ہے۔ قلبِ سلیم دعا گو ہے کہ وطنِ عزیز میں دیسی و ملّی رہن سہن فروغ پائے۔ اِک رشتہ، اِک کہانی کی چاروں تحاریر خوش کُن اور متفرق کا مضمون متاثر کُن تھا۔ سلیم کی گلی سے نکل کر ہم لشتم پشتم ڈِگدے ڈِھیندے اور اٹھتے بیٹھتے، آخرکار ہائیڈپارک (آپ کا صفحہ) پہنچ ہی گئے۔ جہاں ناموں میں برقی کی نادر شاہی، امامہ کی مماثلت، مصباح کا تعارف، ڈاکٹر رانا کا کالا چشمہ (خط کی پسندیدگی کا شکریہ) نواب زادہ کا لطیفہ اور پرنس کے اینکرز قابلِ ذکر تھے۔ جب کہ برادرم چھکّن کو سالِ رواں کا چھٹا چھکّا (6 بار مسندِ اعزازی) مارنے پر ہماری طرف سے شش گل ہائے مبارک باد۔ نصف ملاقات کی آخری گاڑی میں مدیرہ صاحبہ، آپ سے اک نکی جئی جانکاری لینی ہے کہ خطوط کی ایڈیٹنگ آپ ڈاک وصولی کے وقت کرتی ہیں یا وقتِ اشاعت کے قریب۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج: وقتِ اشاعت سے دو ہفتے پہلے۔
گوشہ برقی خطوط
٭ آخر مجھ سے آپ کی کیا دشمنی ہے۔ خادم ملک جیسے لوگوں کے خط تو ہر ہفتے شایع ہو رہے ہوتے ہیں، جب کہ میری ننّھی سی میل کے لیے آپ کے پاس جگہ ہی نہیں ہوتی۔ (رمشہ الیاس (باربی ڈول) لاہور)
ج: ارے بھول گئی، وہ جو تم نے ہمارے کھونٹے سے بندھی بھینس چُرائی تھی۔ بس، تب سے آج تک ہماری، تمہاری دشمنی ہی تو چلی آرہی ہے۔ اور یہ خادم ملک جیسے لوگوں سے تمھاری کیا مُراد ہے، اُن کے سر پہ کیا سینگ نکلے ہوئے ہیں۔
٭ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے صفحات پر شایع ہونے والے محمود میاں نجمی کے مضامین کا کوئی جواب ہی نہیں۔ ہر ہفتے ایک سے بڑھ کر ایک موضوع پر عُمدہ مضامین پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ (سندس بتول)
٭ ایک طویل عرصے سے میگزین بہت ہی ذوق و شوق سے پڑھ رہی ہوں۔ اب تو خود بھی نثر، شاعری لکھنے لگی ہوں۔ دلی خواہش ہے کہ میری بھی کوئی تحریر میگزین کی زینت بنے۔ (ایمن گل نیازی، بھکر)
ج: یہ ای میل تو ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی زینت بن گئی، اب دیکھیں، تحریر کب بنتی ہے۔
٭ سنڈے میگزین کی کئی تحریریں، مضامین بہت معلوماتی ہوتے ہیں۔ پڑھ کر بہت مزہ آتا ہے، لیکن پچھلے دنوں ایک مضمون ’’اچھی یا سمجھ دار بہو‘‘ شایع ہوا، تو پڑھ کر بہت دُکھ ہوا کہ اس مضمون کے ذریعے کیا تعلیم دی جارہی ہے اور کس قسم کا معاشرہ تخلیق کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ (نورین افضل، نیو کراچی، کراچی)
ج: ’’سنڈے میگزین‘‘ میں اس موضوع اور عنوان پر کوئی مضمون شایع ہی نہیں ہوا۔ ہاں، البتہ آپ کی نشان دہی پر غور کیا، تو اس عنوان سے ایک تحریر، ’’خواتین کے صفحات‘‘ پر ضرور موجود تھی، لیکن اُس سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں۔ ہم ’’سنڈے میگزین‘‘ کی ادارت کے منصب پر فائز ہیں اور اس جریدے میں شایع شدہ تحریروں ہی کے لیے جواب دہ بھی ہیں۔
٭ پہلی بار ای میل کررہی ہوں اور اس کی وجہ محمودمیاں نجمی کےمضامین ہیں۔ اُن کی تحریریں بلاشبہ اندھیرے میں اُجیارے کا کام کررہی ہیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی میرا مَن پسند صفحہ ہے، خاص طور پر آپ کے میٹھے، تیکھے جوابات بہت لُطف دیتے ہیں۔ ممکن ہو تو عاطف اسلم کا انٹرویو بھی کروائیں۔ (الویرا خان، اورنگی ٹائون، کراچی