اسلام آباد (انصار عباسی) دی نیوز کی جانب سے معاملہ اٹھانے کے دو دن بعد پنجاب حکومت کی جانب سے 15؍ دن میں چار سے پانچ مرتبہ ٹرانسفر کیے جانے والے دو افسران کو ان کی پوسٹنگ کے نئے آرڈر جاری کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو دی نیوز کی جانب سے پنجاب کی طرز حکمرانی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر، جس میں دو افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا ذکر کیا گیا تھا، کے تین دن بعد پنجاب حکومت نے 12؍ نومبر کو ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں لکھا ہے کہ پی پی 168؍ کے ضمنی الیکشن اور الیکشن کمیشن کی جانب سے یکم نومبر 2018ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر عائد کردہ پابندی کے تناظر میں اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) ماڈل ٹائون لاہور مظہر علی سرور (پی ایم ایس گریڈ 17) کے ٹرانسفر / پوسٹنگ آرڈرز اور ساتھ ہی سیکشن افسر (سروسز تھری) سروسز ونگ ایس اینڈ جی اے ڈی عابد شوکت کو مظہر علی سرور کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹائون لاہور لگانے کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جاتا ہے۔ دونوں افسران کو اپنے موجودہ عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ حکومت کی عدم صلاحیت ہے، خراب طرز حکمرانی یا پھر انتظامیہ سنبھالنے کا مزاحیہ انداز کہ ان دو افسران کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں یہ بھی ریکارڈ قائم کیا گیا ہے کہ حکومت نے افسران کی تعیناتی کے حوالے سے چند ہفتوں میں ایک نہیں، دو نہیں، تین یا چار نہیں بلکہ پانچ مرتبہ ارادہ تبدیل کیا۔ تازہ ترین نوٹیفکیشن جاری کیے جانے سے قبل متعدد مرتبہ جاری کیے گئے ٹرانسفر آرڈرز میں ارادہ تبدیل کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن 12؍ نومبر کے نوٹیفکیشن میں الیکشن کمیشن کے یکم نومبر کے حکم نامے کا حوالہ پیش کیا گیا ہے۔ 9؍ نومبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے وقت بھی الیکشن کمیشن کا یکم نومبر کا حکم نامہ موجود تھا، جو اب کینسل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود ایس اینڈ جی اے ڈی کی جانب سے متعدد ٹرانسفر آرڈر جاری کیے گئے اور اس بات کی پروا ہی نہیں کی کہ الیکشن کمیشن نے کیا کہا تھا۔ 25؍ اکتوبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹائون لاہور مظہر علی سرور (پی ایم ایس گریڈ 17) کو فوری طور پر اسسٹنٹ کمشنر قصور لگایا جا رہا ہے، وہ سید آمنہ مودودی کی جگہ سنبھالیں گے۔ پانچ دن بعد 30؍ اکتوبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مظہر علی سرور کو اسسٹنٹ کمشنر قصور لگانے کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا۔ ایک دن بعد 31؍ اکتوبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مظہر علی سرور کو فوری طور پر ٹرانسفر کرتے ہوئے انہیں ایس اینڈ جی اے ڈی کے ایڈمنسٹریٹیو ونگ میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔ 6؍ دن بعد یعنی 5؍ نومبر کو (الیکشن کمیشن کے ٹرانسفر پر پابندی کے اعلان کے پانچ دن بعد) ایس اینڈ جی اے ڈی نے پہلے مظہر علی سرور کی خدمات سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کے سپرد کیں لیکن اسی دن ایک اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان کا ٹرانسفر / پوسٹنگ منسوخ کردی۔ ایس اینڈ جی اے ڈی کا کہنا تھا کہ مظہر علی سرور اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹائون لاہور کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ چار دن بعد یعنی 9؍ نومبر کو ایک مرتبہ پھر ایس اینڈ جی اے ڈی نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسی افسر کو فوری طور پر ٹرانسفر کرتے ہوئے انہیں مزید احکامات تک ایس اینڈ جی اے ڈی کے انتظامی ونگ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ اب، 12؍ نومبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق، مظہر علی سرور کا ٹرانسفر منسوخ کر دیا گیا ہے اور وہ بدستور اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹائون لاہور کام کرتے رہیں گے۔ ایک اور افسر، اسسٹنٹ کمشنر عابد شوکت، کے معاملے میں دیکھیں تو انہیں بھی 12؍ نومبر کے نوٹیفکیشن سے قبل دو ہفتوں میں چار مرتبہ ٹرانسفر کیا جا چکا ہے۔ ایس اینڈ جی اے ڈی کے 31؍ اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق، نانکانہ صاحب کے اسسٹنٹ کمشنر عابد شوکت کو مظہر علی سرور کی جگہ پر ماڈل ٹائون لاہور کا اسسٹنٹ کمشنر مقرر کیا گیا۔ پانچ دن بعد ایس اینڈ جی اے ڈی نے 5؍ نومبر کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے عابد شوکت کے تبادلے کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا اور انہیں ایس اینڈ جی اے ڈی کے سروسز ونگ میں سیکشن افسر (سروسز تھری) تعینات کردیا گیا۔ چار دن بعد یعنی 9؍ نومبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے عابد شوکت کی نئی تعیناتی منسوخ کر دی اور انہیں اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹائون لاہور لگا دیا۔ اور اب 12؍ نومبر کے نوٹیفکیشن میں عابد شوکت کی نئی تعیناتی منسوخ کرتے ہوئے انہیں ایس اینڈ جی اے ڈی میں سیکشن افسر کے طور پر کام کرتے رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔