آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارا کمرہ صرف ہمارا بیڈروم ہی نہیں تھا بلکہ ہمارے لیے ایک بڑ ی پُرکشش جگہ تھی۔ کیونکہ وہ ہماری مرضی کے مطابق سیٹ تھا، جہاں ہم ہوم ورک کرتے تھے، کھیلتے کودتے اور اپنے خوابوں میں کھو جاتے تھے۔

کسی بھی گھر میں بچوں کے کمرے کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ان کا کمرہ گھر کے باقی کمروں سے الگ اور خاص طور سے بچوں کی عمر اور رحجان کو مد نظر رکھتے ہوئے سیٹ کیا جانا چاہیے۔ بچے اپنے کمرے سے بہت محبت کرتے ہیں اور حقیقت بھی ہے کہ یہ کمرے ان کی ہی ملکیت ہوتے ہیں۔

بچوں کی دلچسپیوں کو مد نظر رکھیں

جوبچے بہت چھوٹے نہ ہوں اور اس قابل ہوں کہ اپنے کمرے میں تنہا رہ سکیں، ان کے کمرےکی ترتیب اور آرائش اس طرح کرنی چاہیے کہ ان کی دلچسپیاں اور مشاغل ان کے کمرے میں ہی مہیا کردیئے جائیں۔ اس طرح بچے مثبت سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے اور کمرے میں اچھا وقت گزار سکیں گے۔

بلندی پر پڑھنے کا شوق

بچے جب ذرا بڑے ہوتے ہیں تو اُچھلنے کودنےاور بلند جگہ سے چھلانگ لگانے میں بے انتہا دلچسپی لیتے ہیں۔ بچوں میں کھیلنے کودنے کا رجحان فطری طور پر پایا جاتا ہے، ان کے کمرے میں اُونچے پلنگ یا ایسی ہی دیگر چیزیں ہوں تو وہ اچھل کود سے اور کھیل کے ذریعے اپنے کمرے میں ہی مصروف رہیں گے۔

بچوں کے مستقبل کے خواب

بچوں کے اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ خواب ہوتے ہیں۔ کچھ بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں، کچھ انجینئر بننا چاہتے ہیں، کسی کو سائنسدان بننے کا شوق ہوتا ہے اور کسی بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑا ہوکر پائلٹ بنے۔ بچوں کے ان رحجانات کو دیکھتے ہوئے ان کے کمرے میں ایسی ہی اشیا رکھنی چاہئیں، جوان کے شوق کے مطابق ہوں۔

آرائشی چیزوں کا استعمال

بچوں کے کمرےکی سیٹنگ ہو یا کمرے کی آرائش، آپ فرنیچر کا انتخاب کریں یا کمرے میں پینٹنگز سجائیں، بچوں کے کمرے کے لیے کشن لائیں یا پھر قالین بچھائیں، ہر چیز میں اس بات کا دھیان رکھیں کہ ان سب چیزوں کا اثر بچے کی شخصیت پر ضرور پڑے گا۔ کمرے کی ہر چیز بچے کے ذہن کو ضرور متاثر کرے گی۔ اس لیے بچوں کے کمرے کی تمام چیزوں کے انتخاب میں انتہائی ذمہ داری اور سمجھداری سے کام لیں۔

تخلیقی سرگرمیوں کا انتخاب

پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کے کمرے میں ایک ایسی میزضرور ہونی چاہیے، جہاں بیٹھ کر وہ تخلیقی کاموں میں وقت گزار سکیں۔ یہ بچے مستقبل میں یقیناً روزگار کے حصول میں مصروف ہوجائیں گے، اس لیے بہتر ہے کہ آپ ان کو ابھی سے ایک منظم طریقے سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ بچے کے لیےیہ ایک بڑی بات ہو گی کہ وہ اپنا وقت اچھے طریقے سے استعمال کرے۔

رنگوں سے محبت

بچے رنگوں سے بھرپور لطف اُٹھاتے ہیں۔ نیلے پیلے، ہرے، سرخ، جامنی غرض کہ ہر بچے کے کچھ پسندیدہ رنگ ہوتے ہیں۔ بچوں کی پسند کے رنگوں کو ان کے کمرے میں ضرور استعمال کریں۔ – جامنی، نیلا یا گلابی، جورنگ بھی بچے کو پسند ہو، کمرے میں استعمال ہونے والی چیزیں اسی کے مطابق لائیں اور بجائے پریشان ہونے کے اپنے بچوں کے پسندیدہ رنگوں سے لطف اٹھائیں۔

بڑی عمر کے بچوں کے کمرے

چھوٹے بچے بھاگ دوڑ اور کھیل کود سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن جب یہی بچے ذرا سمجھدار ہوتے ہیں تو ان کے مشاغل بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ وہ کمرے میں کھیلنے کودنے اور بھاگ دوڑ کرنے کے بجائے لکھنے پڑھنے پر زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں۔ اس عمر میں بچوں کی دلچسپی اور شوق کو دیکھتے ہوئے والدین کو چاہیے کہ کمرے میں ان کی پسند کے حساب سے چیزیں مہیا کریں تاکہ بچے اپنے شوق کے مطابق مثبت کاموں میں مصروف رہیں۔

رینگنا بچوں کا مشغلہ

بچپن کی ابتدائی عمر میں بچوں کو فرش پر رینگنے میں بہت لطف آتا ہے، ان کی عمر اور اس مشغلے کو دیکھتے ہوئے آپ اپنے بچوں کے کمرے میں نرم قالین، محدود فرنیچر اور عمدہ کھلونوں کا انتخاب کریں۔

کہانیوں اور قصوں کے کردار

قصےکہانیاں سننے کے لیے ہر بچہ بے قرار رہتا ہے، خاص طور پر لڑکیاں شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیاں پڑھنے اور سننے کی بے انتہا شوقین ہوتی ہیں۔ سینڈریلا اور اسنووائٹ جیسی کہانیاں لڑکیاں بے انتہا پسند کرتی ہیں جبکہ لڑکوں کے لیے سپرمین، ٹارزن اوربیٹ مین کے کردار بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ بچوں کے کمرے میں ان کرداروں سے متعلق چیزوں کا استعمال کیا جائے تو بچے بہت خوش ہوتے ہیں۔ اسی طرح بچے کارٹون فلمیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، ان کارٹونز کو بچوں کے کمرے میں استعمال کیجئے۔

بچوں میں تحریک پیدا کریں

بچوں کے کمرے میں ایسی چیزیں ضرور ہوں، جن سے ان کی سوچ اور عمل میں مثبت تحریک پیدا ہو۔ گنتی کا فریم، الفاظ سکھانے کا کھلونا اور رنگوں کی کتاب اس کی مثالیں ہیں۔ بچوں کے کمروں میں بتدریج تبدیلی ضروری ہے۔

بچپن سے جوانی

جب بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے اندر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے بچہ، بچپن کے مشاغل کے بجائے نئی چیزوں میں دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے۔ عمر کےحساب سے بچے کے رجحانات میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے، اس لیے بڑی عمر کے بچوں کا کمرہ بھی ان کے رجحان کے مطابق نئے انداز سے ترتیب دیا جائے۔

گڑیا کا گھر

بچیوں میں گڑیوں سے کھیلنے کا بے انتہا شوق پایا جاتا ہے، ایک پیارا سا گڑیا کا گھر ہربچی کی خواہش ہوتا ہے اوریقیناً ایک گڑیا کا گھر کسی بھی بچی کی دلچسپی اور کمرے میں مثبت سرگرمی کے لیے بہترین ہے۔ لڑکیوں کے کمرے میں گڑیا ،گڑیا کا گھر اور اسی قسم کی دیگر اشیا موجودہوں گی تو وہ اپنے کمرے میں بہت اچھا وقت گزاریں گی۔

والدین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کے کمروں کی ترتیب و آرائش میں عمر کے لحاظ سے تبدیلی نہایت ضروری ہے۔ بچے جب بڑے ہونے لگیں تو ان کے کمروں میں تبدیلی بھی ان کے شوق اور عمر کے مطابق ہونی چاہیے۔ کالج میں جانے کے بعد تو بچوں کے لیے اپنے بیڈ روم صرف ایک یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں