• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’آج کے بعد ایبٹ آبادکےکالجز میں کوئی داخلہ نہیں‘

سپریم کورٹ نے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے پر ایبٹ آباد کے دوکالجوں میں داخلے پرپابندی لگادی۔

ایبٹ آباد کےنجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا میں میڈیکل تعلیم کا حال سب سے برا ہے، آج کے بعدایبٹ آبادکے نجی میڈیکل کالجز میں کوئی داخلہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیکل کالجز کی ڈگریوں کی اہمیت بیرون ملک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں،ان سے آبادی ویسے تو کنٹرول ہوتی نہیں، بندے مارنے کے لیے اس طرح کے ڈاکٹرز بنائے جاتے ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئےکہ میڈیکل کالج کے پاس 250 بیڈزکا اسپتال ہونا چاہیے جو انکے پاس نہیں۔پی ایم ڈی سی نے فرینٹیئر اور ایبٹ آباد میڈیکل کالجز میں داخلوں پر پابندی عائد کی تھی۔

اس پر وکیل پی ایم ڈی سی بیرسٹر سیف نے کہا کہ پابندی مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کیوجہ سے لگائی گئی تھی۔

وکیل میڈیکل کالجز نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز نے پی ایم ڈی سی کے احکامات کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے داخلوں سے پابندی اٹھانے کا حکم جاری کیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں میڈیکل تعلیم کا حال سب سے برا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میڈیکل کالج کے پاس 250 بیڈز کا اسپتال ہونا چاہیئے جو انکے پاس نہیں،۔

وکیل میڈیکل کالجز نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں درخواست زیر التو ہے۔

عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ درخواست کا فیصلہ آنے کے بعد کیس کی سماعت کی جائے گی۔

تازہ ترین