• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زیرِ سمندر بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے میں دشواری آبنائے ہرمز کھولنے میں تاخیر کا سبب

— تصویر غیر ملکی میڈیا
— تصویر غیر ملکی میڈیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھولنے میں اس لیے ناکام ہے کیونکہ اسے ان تمام بارودی بحری سرنگوں (مائنز) کا درست مقام معلوم نہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق  ایران کو بارودی بحری سرنگوں (مائنز) کا درست مقام معلوم نہ ہونے کے باعث انہیں ہٹانے میں ناکامی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران نے گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے فوراً بعد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔

ان سرنگوں اور ایرانی ڈرون و میزائل حملوں کے خدشے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں اور دیگر بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ایران کو جنگ میں اہم سفارتی و اسٹریٹجک برتری حاصل ہوئی۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک محدود راستہ کھلا رکھا ہے، جس کے ذریعے وہ جہازوں کو ٹول کی ادائیگی کے بعد گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا سکتے ہیں، جبکہ نیم سرکاری ذرائع ابلاغ نے محفوظ راستوں کے نقشے بھی شائع کیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ محفوظ راستے محدود اس لیے ہیں کیونکہ ایران نے سرنگیں غیر منظم انداز میں بچھائیں، اس بات کی بھی تصدیق نہیں کہ ہر سرنگ کی درست جگہ ریکارڈ کی گئی تھی، مزید یہ کہ بعض سرنگیں ایسی جگہوں پر نصب کی گئیں جو پانی کی لہروں کے باعث اپنی جگہ سے سرک یا بہہ سکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زمینی بارودی سرنگوں کی طرح بحری سرنگوں کو ہٹانا ان کی تنصیب سے زیادہ مشکل عمل ہے، حتیٰ کہ امریکی فوج بھی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود سرنگوں کی صفائی کے لیے مخصوص جنگی جہازوں پر انحصار کرتی ہے، اسی طرح ایران بھی اپنی بچھائی گئی سرنگوں کو تیزی سے ہٹانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

آبی گزرگاہ سے بحری سرنگوں کو جلد نہ ہٹانے کے باعث ایران کو امریکی صدر کی انتظامیہ کے مطالبے پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ معمول کی بحری آمد و رفت کو فوری بحال کیا جائے۔

اس حوالے سے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں 2 ہفتہ کی جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کی مکمل، فوری اور محفوظ بحالی سے مشروط قرار دیا ہے۔

دریں اثناء ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تکنیکی حدود کو مدِنظر رکھتے ہوئے کھولا جائے گا، جسے امریکی حکام کے مطابق بارودی سرنگوں کے مسئلے کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق توقع ہے کہ یہ معاملہ آج اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں نمایاں حیثیت اختیار کرے گا، جہاں عباس عراقچی کی قیادت میں 70 رکنی ایرانی وفد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید