آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکیسویں صدی کے تعمیراتی فن کا ترجمان اور جاپانی فنِ تعمیر کا اوجِ کمال 634میٹر (2,080فٹ ) بلند ٹوکیو اسکائی ٹری ٹاور، جو جاپان کی سب سے بلند ترین عمارت ہے، جس کی قد و قامت کو دیکھتے ہوئے ’’اسکائی ٹری‘‘ یعنی آسمانی درخت کا نام خوب جچتا ہے۔ اس کی رونق دوبالا کرنے کے لیے ساتھ میںٹوکیو اسکائی ٹری ریلوے اسٹیشن بھی قائم کیا گیا ہے۔یہ زلزلہ پروف عمارت ہے، جو زلزلے کے جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بلندی سے نظارہ کرنے کے لیے وزٹرز ڈیک بھی موجود ہے۔اسے بناتے وقت اکیسویں صدی میں تعمیراتی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی دانش مندی اور باریک بینی سے کیا گیا ہے،جس میں 100باکمال آرکیٹیکٹس، انجینئرز اور ٹاؤن پلانرز کی مہارت و ہنر مندی سر چڑھ کر بولتی ہے۔

تاریخ تعمیر

ٹوکیو اسکائی ٹری ٹوکیو کے سمیداسٹی وارڈ میںٹی وی،ریڈیو براڈ کاسٹنگ،ریسٹورنٹ اورآبزرویشن ٹاور ہے۔دبئی کا برج خلیفہ بننے سے قبل یہ دنیا کا بلند ترین ٹاور تھا، جو اب دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔جاپانی لینڈ مارک اور آئی کونک ٹاور کی تعمیر جولائی2008ء میں شروع ہوئی اور 29فروری2012ء کو مکمل ہوئی۔

سیسمک پروفنگ، ٹیونڈ ماس ڈمپر سسٹم

مستقبل کے بدلتے وژن کو دیکھتے ہوئے اسکائی ٹری کی تعمیر جاپان کی تعمیراتی فرم نکن سیکی نے کی ،جس میں انکی معاونت اوبا یاشی کارپوریشن ٹیم نے کی۔اس کا ڈیزائن تین اصولوں مستقبل اور اکیسویں صدی کے تعمیراتی وژن کے ساتھ جاپان کےروایتی رنگ،شہر کی عمارتی ساخت میں تبدیلی اور زلزلے سے بچاؤ کے لیے سیفٹی اور سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا۔زلزلے سے بچاؤ کے لیے ٹاور کوسیسمک پروفنگ اور ٹیونڈ ماس ڈمپر سسٹم سے آراستہ کیا گیا ہے۔زلزلے کی صورت میں کشن کی طرح ستون سکڑتےپھیلتے اور بادبانوں کی طرح جھولتے ہیں لیکن عمارت زمین بوس نہیں ہوتی۔ڈیزائنرز کے مطابق ڈمپرززلزلے سے 50 فیصد توانائی اپنے اندر جذب کرکے کسی بھی بڑے خطرے سے بچاتے ہیں۔

ماسٹر پلان

ٹوکیو اسکائی ٹری ٹاور کا آرکیٹیکچرل ڈیزائن اور ماسٹر پلان جاپانی آرکیٹیکچرل فرم نکین سیکی( Nikken Sekkei) نے تیار کیا ہے، جوجاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کی سمیدا ڈسٹرکٹ کےناری ہیرا باشی/او شیاگ ریلوے اسٹیشنز کےعلاقے میں واقع ہے۔فلک بوس مینار میں ٹیرسٹریل ٹی وی اور ریڈیو براڈ کاسٹنگ ٹاور،آبزر ویشن ٹاور ، ایکوریم، تھیٹر، ہوٹلز،ریسٹورنٹس ،شاپنگ سینٹر ،دفاتر اور ماحول کو گرم ٹھنڈا رکھنے کی سہولت ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز بک نےاسے کسی آڑ اور سہارے کے بغیرتعمیر کردہ دنیا کا بلند ترین ٹاور قرار دیا۔یہ ٹاور ایک بڑے ماسٹر پلان کا حصہ ہے،جس کے تحت فروری 2005ء میںتوبو ریلوے اور چھ نشریاتی اداروں نے اسٹرکچر کھڑا کرنے کی ابتدا کی۔ یہ جگہ ڈاؤن ٹاؤن ٹوکیو میں اوشیاگ اور ناری ہیرا پل سے نزدیک ہے۔یہ علاقہ چہار اطراف گھرا ہوا ہے،جنوب کی سمت دریائے ارواکوا،دریائے سمیدا،مشرقی و مغربی جانب ٹرنک روڈز اور ٹوبو ریلوے لائنوں سے گھرا ہوا ہے۔ٹاور سائٹ کے مرکز میں واقع ہے، اس کے تین داخلی دروازے تمام سمتوں سے گلیوں میں کھلتے ہیں۔ٹاور کا ماحول شہری تعمیراتی منصوبے پر مبنی ماسٹر پلان کا حصہ ہے،جس کا رقبہ مشرق سے مغرب تک 400 میٹر سے زائد ہے۔ٹاؤن پبلک پلازاؤں کے ذریعےٹاور لابی کے ساتھ ناری ہیرا باشی/او شیاگ ریلوے اسٹیشنز ،شن شوئی پارک اوردریائےکِتا جوکین سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں پارک، تفریح اور شاپنگ سہولیات اور ریستوران شامل ہیں۔

ڈیزائن

ٹوکیو اسکائی ٹری روایتی جاپانی فن تعمیرات ابھرے ہوئے( convex ) اور کمان نما(concave) خم دار اصولوں پر مبنی ہے ۔ٹاور کی بنیاد مثلث اہرامی شکل کی ہے۔اونچائی کے ساتھ بنیاد مثلث سلنڈر کی شکل میں بدل جاتی ہے۔ اس مثلث کی آڑی لکیرکا مرحلہ وار کمانی خم ’’ٹیڑھ پن‘‘(warp) کہلاتا ہے ۔اس حصے کی اوپری خم کی گول شکل میںتبدیلی کو خم دار و محدب(camber) کہا جاتا ہے۔کیمبر اسٹرکچر کا استعمال عام طور پرہیان اور نارا مندروں کےستونوں کے فنِ تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مینار کے خم اور کمانی سی ساخت سمورائی تلوار کی تیز دھار اوردیگر جاپانی تعمیراتی اشکال کی عکاسی کرتے ہیں۔اگر آپ مختلف زاویے سے دیکھیں گے تو آپ کو’’غیر ابعادی تَصویری خاکہ‘‘ (silhouette) بدلا ہوانظر آئے گا۔رصد گاہیں شہر اور دریا کا بڑا خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ اس نظارے کے لیے 2ڈیک مختص ہیں، جہاں آسمان سے زمین کو دیکھنے کے شاندار مواقع ملتے ہیں۔پہلی رصدگاہ زمین سے 350میٹر بلند ہے۔یہاں ریسٹورنٹس اور دکانیں،کیفے ہیں۔ دوسرا آبزر ویشن ڈیک اور ایئر کو ریڈور 450میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

دنیا کا سب سے بلند مینار

مثلث اور کمان کی طرح قدرے خم دار یہ اسٹرکچر گنیز ورلڈ ریکارڈ کی رو سے بغیر کسی سہارے کے کھڑا دنیا کا بلند ترین ٹاور ہے،جس کا طرزِ تعمیر مستقبل کے تعمیراتی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ٹاور کا مرکزی اسٹرکچراسٹیل ٹیوب فریمز سے بنا ہے،جو جاپانی انجینئروں کے کمالِ فن کی نمائندگی کرتا ہے۔مثلث شکل میں اسٹیل کی مقدار کماستعمال ہوئی۔ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ستون تعمیراتی حسن کو جلا بخشنے کے علاوہ ٹاور کو مضبوط و مستحکم کرتے ہیں۔اس طرح ہم بلاخوف کہہ سکتے ہیں کہ مثلث طرز پر بنا گول مینار اپنی جادوئی خاصیت و شکل سے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتا ہے۔

ٹوکیو اسکائی ٹری ٹاور کے دلچسپ حقائق

٭ ٹوکیو اسکائی ٹری توبو ریلوے کارپوریشن کی نجی ملکیت میں ہے۔ٹاور کی سرمایہ کاری میں توبو ریلوے اورNHKکی سربراہی میں چھ نشریاتی گروپس شامل ہیں۔

٭ اسکائی ٹری کی تعمیراتی لاگت کا کل تخمینہ تقریباً806 ملین امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

٭زلزلے کے اثرات کو برداشت کرنے کے جدید ڈمپر سسٹم کے باعث اسکائی ٹری 7ریکٹر اسکیل پر آنے والے شدید زلزلے کے اثرات سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔

٭ اندرونی جالی دار شہتیروں پر ہلکا نیلاسفید رنگ و روغن کیا گیا ہے۔یہ جاپان کا روایتی رنگ ہے، جسے ایجیرو کہا جاتا ہے۔

٭ یہاں دو سب سے بڑی نظارہ گاہیں بھی ہیں ،جہاں سے پورے کینٹوریجن کا سحر انگیز نظارہ کیا جاسکتا ہے۔450میٹر بلندی پر واقع اوپری ڈیک میں 900 افراد ایک ساتھ فضائی نظارے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

٭ ٹوکیو اسکائی ٹری صرف ٹاور ہی نہیں،بلکہ اس میں ٹوکیو اسکائی ٹری ٹاؤن نامی وسیع و عریض سولا ماچی شاپنگ اینڈ ڈائننگ مال بھی ہے جہاں میوزیم، ایکوریم اور سووینئر شاپس جیسی تفریحات بھی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں