آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پروفیسرڈاکٹر عطا ء الرّحمٰن،ایف آر ایس

کسی بھی ملک و قوم کی تر قی کے چار بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اعلیٰ ومعیاری تعلیم ،سائنس و ٹیکنالوجی کاروبار میں جدّت طرازی اور ایک ایسی حکومت جو علم پر مبنی معیشت (knowledge Economy) کی اہمیت کو سمجھتی ہو اور ایک مربوط انتظامی نظام، جس میں انفرادی صلاحیت کو ترجیح دی جائے اور فوری انصاف فراہم کیا جائے ۔ پاکستان اپنی GDP کا صرف 2 فی صدحصّہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان جیسی جوہری ریاست کے لئے یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ دنیا میں اس کا شمار تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والے 9 ممالک میں ہوتا ہے پاکستان نے درحقیقت 2002ء میںا علیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کے بعد تعلیم کے میدان میں شاندار ترقی کی اور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پاکستان کی جامعات کا شمار عالمی شمارے کے مطابق دنیا کی چوٹی کی40اعلیٰ جامعات میں ہوا۔علم پر مبنی معیشت کے لئے ہمارے ملک کو کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستان کو قومی سطح پر ایک واضح سائنس و ٹیکنالوجی اور جدت طرازی (STI) پالیسی قائم کرنی چاہیے۔ اس قومی STI پالیسی کے تحت یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی منصوبے کی منظوری کے لئے ترقیاتی منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اہم جز ہونا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ جدید میدانوں میں قائم ہونے والی نئی کمپنیوں کو فروغ دینے اور مضبوط کرنے کے لئے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لئے رقوم مہیّا کی جائیں۔ تیسرا یہ کہ نجی تحقیق و ترقی کے شعبوں کو مراعات کے ذریعے متحرک کیا جائے۔ اور کم آمدن معیشت سے علم پر مبنی معیشت میں منتقلی کے لئے ایک واضح قومی سنگ میل پر عمل کیا جائے ۔

ایک پر بصیرت جمہوریت کی ضرورت

آج کے دور میں علم پر مبنی معیشت میں منتقلی انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے، تاکہ ممالک متوسط اور اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کی صلاحیت پیدا کرسکیں۔ اس کے لئے وزراء اور سیکریٹری اپنی اپنی وزارتوں کے شعبوں میں ماہر ہونے چاہئیں ۔ہر وزارت کو ایک روشن خیال ماہر وزیر کے زیر قیادت ہونا چاہئے جو اپنی متعلقہ وزارت کے میدان میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ ہو اور جو برق رفتاری سے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مختلف منصوبوں کا انعقاد کرسکے ،اس یقین دہانی کے ساتھ کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی (ESTI) کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔

اگر ایشیائی ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو، اندازہ ہوگا کہ بڑی تیزی سے ترقی صرف مضبوط اورروشن خیال ممالک میں واقع ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سنگاپور ، کوریا، ملائیشیا اور چین ۔ ان ممالک میں موجود مضبوط اورخود مختار نظاموں نے ہر شعبے کی ترقی کو ممکن بنایا۔ گزشتہ 40 سالوں کے دوران چین کی طرف سے بنائی گئی شاندار پیش رفت خاص طور پر متاثر کن ہیں ،کیوں کہ اس سے پہلے کبھی بھی انسانی تاریخ میں اس طرح کی ایک بہت بڑی آبادی والے ملک نے اتنی جلدی یہ مقام نہیں حاصل کیا۔ صدر ماؤ نے جدید چین کی بنیاد رکھی، جب کہ 1975ء میں صدر ماؤو کے بعد ڈین ز یا پنگ کی قیادت میں حقیقی تیز رفتار ترقی ہوئی۔ ڈینگ نے محسوس کیا کہ چین کا ایک اہم شعبہ زراعت کا تھا۔ اس شعبے میں اصلاحات تیزی سے غربت کے خاتمے میں مدد کرسکتی ہیں اور ملک کو مزید ترقی کے لئے فنڈز بھی فراہم کرسکتی ہے، جو دوسرے شعبوں کو فروغ دینے کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ ڈینگ نے ’’نچلے درجے سے اوپر‘‘ (Bottom up) کے نقطہ نظر کی اصلاحات کو زراعت کے لئے متعارف کرایا اور ’’افرادی بستیوں‘‘ کی زمین کو نجی پلاٹوں میں تقسیم کیا۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں 25 فی صد اضافہ ہوا اور دیگر اقتصادی شعبوں میں مزید نجکاری کے لئے راستہ ہموار کیا۔ صنعت میں متعارف کرائے گئے اصلاحات نے دوہری قیمت کے نظام کا تعارف شامل کیا ،جس کے تحت ریاستی اداروں نے اپنی مصنوعات کو محدود قیمتوں پر فروخت کیا ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے خصوصی اقتصادی زون بنائے گئے تھے ،جس میں بہت سے ممالک کو چین میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کو کھولنے کے مواقع فراہم کئے جن میں اعلیٰ درجے والے آٹو موبائل اور کمپیوٹرز وغیرہ شامل ہیں۔ یہ صنعتیں چین کے لئے تیز رفتار ترقی کا زریعہ بن گئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اعلیٰ پیداواری صلاحیت، کم مزدوری لاگت اور اچھے بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھایا۔ چین کایہ’’ دوہرے ٹریک نقطہ نظر‘‘ کے نتیجے میں سرکاری منصوبہ بندی کے اداروں اور نجی شعبے کے سرمایہ کاروں دونوں نے چین کی جی ڈی پی میں قابل ذکر ترقی کی، جس سے 1978 سے 2015 کے دوران 9 فی صد سالانہ اور 11.5 فی صدسالانہ کے درمیان اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ڈینگ کی اصلاحات کے آغاز کے بعد چین کی جی ڈی پی میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ چین نے اب ترقی یافتہ ملک کی حیثیت حاصل کر لی ہے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں عالمی رہنما کے طور پر تیزی سے اُبھررہا ہے۔فی الحال چین میں ،چینی قومی سائنس وٹیکنالوجی منصوبہ برائے سال 2020 تا 2035 تشکیل دیا جارہا ہے ۔اس منصوبے میں پاکستانی سائنس داں بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لئے ایک تیکنیکی تعلیم یافتہ اور پربصیرت حکومت ہی بہتر کردار ادا کر سکتی ہے۔ مو جودہ عالمی صورتحال کے مطابق تحقیق و ترقی کے اخراجات کا حصہ سرکاری سطح کے مقابلے میں نجی شعبوں میں زیادہ تیزی سے بڑھ گیا ہے ۔ اس کا اندازہ حال ہی میں لگائے گئے ایک تخمینے سے کیا جاسکتا ہے کہ 2018 میں عالمی سطح پرتحقیق و ترقی پر اخراجات کا تخمینہ 1.5 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے ،جس میں نجی کمپنیوں کا حصہ 63 فی صد ہے ،جب کہ سرکاری حصہ صرف 37 فی صدہے۔

پاکستان میں ایسی حقیقی جمہوریت قائم ہونی چاہیے، جس کی بنیاد چار اہم اراکین یعنی تعلیم، سائنس، جدت طرازی اور انصاف پر مشتمل ہوں جن پر جمہوریت کی مضبوط عمارت تعمیر کی جاسکے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایک دیانت دار، پر بصیرت اور ٹیکنالوجی میں ماہرانہ قیادت ہو۔ اس دور جدید میں جو اقوام دیگر ترقی یافتہ اقوام کے مد مقابل کھڑی ہونا چاہتی ہیں ۔انہیں عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، جس کے لئے ان میں مختلف بیرونی علوم مثلاً تیکنیکی، سائنسی و کاروباری علوم تک رسائی اور جاذبی صلاحیت کاہونا بہت ضروری ہے، بالخصوص تیکنیکی علوم میں، پھر ان بیرونی علوم کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور اس کے نتیجے میں اُبھرنے والے نئے علوم میں بتدریج اضافے کے لئے نجی و سرکاری سطح پر تحقیقی اداروں اور صنعتی ملاپ کی بھی ضرورت ہے۔ اس ماحول کی تشکیل کے لئے تمام کالج، جامعات اور تحقیقی مراکز برائےتحقیق و ترقی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ غرض کسی بھی ملک کی معاشی خوشحالی کے لئے تحقیق و ترقی اور جدت طرازی بہت ضروری ہیں۔

علم پر مبنی معیشت کا قیام

پاکستان کو ایک ناقابل ِ رشک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ وہ تعلیم پر اپنی مجموعی ترقیاتی پیداوار (GDP) کا 2 فی صد سے بھی کم خرچ کرتا ہے ،جس کی بدولت پاکستان کا شمار دنیا کے آٹھ ان ممالک میں ہو تا ہے جو تعلیم پر سب سے کم خرچ کرتے ہیں ، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔آج سائنس وٹیکنالوجی کی مد میں ہونے والے اخراجا ت گز شتہ 13 سال کے مقابلے میں محض چوتھائی حصہ رہ گئے ہیں ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔

ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ممالک صرف سڑکیں، پُل اور ہزاروں لیپ ٹاپ بانٹنے سے نہیں بنتے ۔ ہم اس جدید دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں آپ اسوقت تک اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے جب تک کہ کم منافع بخش زرعی معیشت سے زیادہ منافع بخش علمی معیشت کی طرف قدم نہ بڑھالیں۔ہمیں سنگاپور ، چین اور کوریا سے سبق سیکھنا چا ہئیے۔ سنگاپور کی آباد ی کراچی کی آبادی کی ایک چوتھائی ہے اور وہاں کوئی قدرتی وسائل نہیں ہیںپھر بھی اسکی GDP 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔یہ سب سنگاپورنے صرف ایک اہم پہلو پر توجہ مرکوزکرنے سے حاصل کیا۔وہ ہے معیاری افرادی قوّت اور اعلیٰ تکنیکی صنعتوں کا قیام۔ پاکستان کو بھی ایساہی کرنا چاہئیے۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم سائنس وٹیکنالوجی کی اہمیت

2کروڑ کی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کاشمار چھٹے نمبر پر ہوتا ہے اور ہماری جی ڈی پی کے مطابق ہم دنیا میں 147ویں نمبرپر ہیں ۔ علاوہ ازیں غربت، تعلیم، سائنس، بزنس، ماحول اور تحفظ میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے بھی پاکستان کا شمار انتہائی کمزور ترین ممالک میں ہوتا ہے ۔ یہ صورتحال مختلف جمہوریتوںکی مسلسل ناکامی کی بدولت ہے ،جس پر ہم عمل پیرا رہے ہیں ۔پاکستان میں صنعتی ترقی کے فروغ کے لئے نجی شعبہ میں سائنسی تحقیق نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں نجی شعبوں میں تحقیق و ترقی پر اخراجات بہت کم ہیں ۔ عالمی سطح پر، نجی شعبے میں تحقیق و ترقی پر اخراجات کا حصہ سرکاری شعبہ جات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور یہ تیزی سے بڑھ بھی رہا ہے ۔ 2012 ءمیں کل عالمی تحقیق و ترقی کا تخمینہ تقریباً ڈیڑھ کھرب امریکی ڈالر لگا یا گیاتھا ،جس میں تقریباً 65 فی صدحصہ نجی کمپنیوں کا اور 35 فی صد حصہ حکومتوں کا تھا۔بہت سے OECD ممالک میں سرکاری تحقیق و ترقی کے اخراجات میں تیزی سے کمی آئی ہے جب کہ نجی تحقیق و ترقی پر اخراجات میں بہت اضافہ بھی ہوا ہے۔ چین میں تحقیق و ترقی کے کل اخراجات کا 70 فی صدحصہ نجی کمپنیا ں اداکرتی ہیں ، یہ امریکا میں 68فی صد ، جاپان ،کوریا میں 75 فی صد اور جرمنی میں 70 فی صد ہے ۔ جب کہ پاکستان کےنجی شعبے میں تحقیق و ترقی کے اخراجات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔ آج سے کئی سال قبل شعبہ تحقیق پر اخراجات ہماری جی ڈی پی کے 0.83 فی صد تک پہنچ گئے تھے ،جس میں بعد میں کافی کمی کر دی گئی اور اب یہ صرف 0.26 فی صد رہ گئے ہیں ۔ہمارے مقابلے میں بھارت کے 1.0 فی صد ،چین کے 1.6 فی صد اور جنوبی کوریا کے 3.4 فی صد ہیں ۔بھارت اور چین میں تحقیق و ترقی میں کافی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔جب کہ پاکستان میں تحقیق وترقی کے کل تخمینے کا اندازہ صرف 2 فی صد لگا یا گیا ہے اور یہ بھی کئی سالوں سے جمود کا شکار ہے ۔پاکستان میں سرکاری تحقیق و ترقی کے اخراجات کا 60 فی صد حصہ دفاعی تحقیق کے لئے استعمال ہوتا ہے اور باقی حصہ جامعات اور تحقیقی اداروں کوتحقیقی مالی امدادکے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ اس حصے میں صنعتی ترقی کے لئے مختص رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی تحقیق کے نتائج کو مصنوعات اور ان سے جڑے عملیات کے تبادلوں کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی جاتی جو کہ بہت افسوسناک صورتحال ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اور مشرقی ایشیائی ممالک کے برعکس پاکستان حکومتی پالیسی کے ذریعے تحقیق وترقی کے لئے ٹیکس مراعات یعنی ٹیکس الاؤنس،ادھار ،جدت طرازی اورمالی امداد کے ذریعے حوصلہ افزائی اور متحرک کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔TNCs (ٹرانس قومی کمپنیاں) ترقی پذیر ممالک میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینےکا ایک اہم ذریعہ ہو سکتی ہیں ۔ بھارت اور چین بڑے پیمانے پرTNCs کوتحقیق و ترقی کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں توان کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی گفت و شنید ہی نہیں کی گئی اور نہ ہی تحقیق و ترقی کے ادارے قائم کرنے کی سہولیات کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اس کے علاوہ محققین کا بین الاقوامی نیٹ ورک بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے علم کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے ۔ تائیوان (Taiwan) کی کمپیوٹر صنعت اور بھارت کی آئی ٹی کی صنعت نے ان سے متعلقہ تارکین وطن نیٹ ورکس سے مدد لی ۔ پاکستان میں ہم نے اپنے تارکین وطن نیٹ ورک سے بھی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں ملائے ہیں ۔

حکومتی پالیسی جدت طرازی کو فروغ دینے کے لئے براہ راست اور بالواسطہ ایک اہم کردارادا کرتی ہے ۔ تحقیق و ترقی کی چین سمیت مشرقی ایشیائی ممالک میں کئی اچھی مثالیں موجود ہیں۔ چین نے 70 ء کی دہائی میں اپنی اقتصادی اور انتظامی اصلاحات متعارف کروائیں ۔ چین نے نجی شعبے میں تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے سرکاری سائنس و ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے اداروں کی تین بنیادی اصلاحات کیں۔ مالی امداد کے نظام کی اصلاح ،بہترتحقیق و ترقی کے انتظام اور جامعات اور صنعت میں ربط کو مضبوط بنانا۔ اطلاقی تحقیقی اداروںکی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے اداروں کو لائسنس کے اجراء جیسی ترغیبات کے ذریعے حوصلہ افزائی کی گئی ، کارکردگی کی پیمائش کے لئے جائزے کے معیار میں تبدیلی کی گئی ، اداروں کے درمیان مقابلے کی فضاء پیدا کی اور ان کی سرگرمیوں کو تبدیل کیا گیا ۔

PCST ایک اہم قومی ادارہ ہے جو ملک کی سائنسی پالیسی مرتب کرتا ہے۔ پاکستان کے ما یہ ناز سائنس داں پروفیسر انوار الحسن جیلانی اس کے سربراہ ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کا سب سے اعلیٰ پلیٹ فارم قومی کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی (NCST)ہے جو کہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو کی زیر صدارت کام کرتا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید