آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا مقصد یہ ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کیا جائے اور ملک کو ’’ ون یونٹ ‘‘ بنانے کی راہ ہموار کی جائے ؟ جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے ۔ اگلے روز محترمہ بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’’ خان صاحب کو لانے کا مقصد کچھ اور ہے ۔ عمران تو وہ کٹھ پتلی ہے ، جو اس ملک کو ون یونٹ بنانا چاہتے ہیں ۔ ملک میں ایک پارٹی کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ 18 ویں ترمیم کے ذریعہ صوبوں کو ملنے والے اختیارات ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ صوبوں کے قدرتی وسائل پر وفاق کا قبضہ چاہتے ہیں اور ملک میں ون یونٹ نظام کی راہم ہموار کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم پر اس لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں 18 ویں ترمیم ختم کرنے میں ان کا ساتھ دوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں عوام کے حقوق کا سودا کروں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں غریبوں کی بات نہ کروں اور شہداء کی قبروں سے غداری کروں ۔ ‘‘

بلاول بھٹو زرداری کے خطاب سے کچھ دیر پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور یہ بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) میں شامل کیے جائیں گے ، جو جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات میں ملزمان کے طور پر نامزد ہیں اور جن کی نشاندہی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی ) نے کی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق جن لوگوں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں ، ان میں آصف علی زرداری ، فریال تالپور ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور خود بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر لوگ شامل ہیں ۔

اصل حقیقت کیا ہے ؟ پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں خصوصاََ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور ان کی پکڑ دھکڑ کیا صرف اس لئے کی جا رہی ہے کہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے ؟ یا سیاسی رہنما اپنی مبینہ کرپشن کے مقدمات کو کوئی سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں ؟ ان سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں ماضی میں جانا پڑے گا ۔ اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ پاکستان میں ون یونٹ نافذ رہا ہے ۔ قیام پاکستان سے ہی کچھ قوتیں یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ پاکستان میں ون یونٹ والا نظام قائم کیا جائے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاسی قوتیں ان کوششوں کے خلاف مزاحمت کرتی رہی ہیں ۔ یہ کشمکش بہت پرانی ہے ۔ اس میں اب تک سیاسی قوتوں کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔ جنہوں نے متعلقہ طور پر پاکستان کو ایک وفاق بنانے اور یہاں پارلیمانی جمہوری نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ماضی میں بھی احتساب کو سیاسی دباؤ کے لئے استعمال کرنے کے ثبوت موجود ہیں لیکن وہ موثر نہیں ہو سکا کہ ایبڈو اور پروڈا جیسے احتساب کے سیاہ قوانین بھی سیاست دانوں کو کرپٹ ثابت نہ کر سکے لیکن اب صورت حال مختلف ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور ان کے مبینہ کاروباری اتحادیوں کے خلاف کرپشن کے انتہائی مضبوط مقدمات قائم ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان ان قوتوں کے لئے کام نہ کر رہے ہوں ، جو 18 ویں ترمیم ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ 18ویں ترمیم کی مخالف قوتیں اثرانداز نہیں ہو رہی ہوں گی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پرانی اور جاری کشمکش کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔ ؟ اس وقت سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی اور مزاحمت تحریک موجود نہیں ہے ۔ یہ صورت حال پیدا کرنے کے لئے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کام جاری رہا ۔ اگر سیاست دانوں کا کردار ماضی کے سیاست دانوں کی طرح مضبوط ہوتا تو شاید یہ صورت حال پیدا نہ ہو تی ۔ اس وقت جو ہونے جا رہا ہے ، وہ نوشتہ دیوار کے طور پر سب کو نظر آ رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ 18 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرکے صوبوں کو ملنے والے اختیارات ختم کرنے کا مرحلہ شاید ابھی فوری طور پر نہ آئے لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں شامل ہے ۔ جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے سندھ میں لوٹ مار مچا رکھی ہے ۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اگر ریفرنسز قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی طرف سے دائر ہوتے ہیں تو سندھ میں موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو چلانا ممکن نہیں رہے گا اور جو نیا سیٹ اپ بننے کا امکان ہے ، اس پر پیپلز پارٹی کی قیادت کی پہلے والی گرفت شاید نہیں ہو گی ۔ پیپلز پارٹی کی اوپر کی قیادت کی گرفتاری کی صورت میں باہر رہ جانے والی قیادت کے لئے کسی سیاسی تحریک کو منظم کرنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ مزاحمت کا کوئی سیاسی جواز تراشنے اور لوگوں کو متحرک کرنے میں کافی وقت درکار ہو گا۔ کرپشن کے مقدمات تو باہر رہ جانے والوں کا بھی پیچھا کر سکتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرح ابھی تک یہ بات نہیں کر رہی ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے مقدمات کی صورت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ اگر دباؤ ڈالا بھی جا رہا ہو گا تو شاید وہ مصلحتا ً اس کا اظہار نہیں کر رہے ہوں گے تاکہ مستقبل میں بات چیت کے راستے کھلے رہیں ۔ اگر فرض کریں کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں کو کسی طرح 18 ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے راضی کر لیا جائے تو پیپلز پارٹی کی مزاحمت یا مخالفت کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اس وقت جو مقدمات اور ریفرنسز ہیں یا آگے بننے جا رہے ہیں ، ان سے نہ صرف پیپلز پارٹی کو سخت مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ملک کو بھی سیاسی طور پر بہت نقصان ہو سکتا ہے ۔ سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات سے مجموعی طور پر سیاسی قوتیں کمزور ہوئی ہیں ۔ خاص طور پر موجودہ آئین کا تحفظ کرنے والی قوتیں کمزور ہوئی ہیں ۔ یہ بات بہت زیادہ تشویش ناک ہے ۔ سیاست دانوں کی مبینہ کرپشن نے ملک کو اس نہج تک پہنچا یا ہے ۔ کشمکش بہت پرانی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب سیاسی قوتیں سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزور ہیں۔ آئین کو چھیڑنے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرنے والی آوازیں بھی بہت کمزور ہو گئی ہیں۔