آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍جمادی الاوّل 1440ھ 20؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: نرجس ملک

ماڈل: رائنا

ملبوسات: شاہین جٹ

آرایش: سلیک بائے عینی (قراۃ العین)

عکّاسی: ایم کاشف

لے آئوٹ: نوید رشید

سال 2018ء کے لیے ورلڈ کلر اتھارٹی’’PANTONE‘‘ (نصف صدی سے رنگوں کی دنیا کی حکمران اور لگ بھگ 20سال سے ہر برس کے لیے ایک نیا رنگ منتخب کرنے والی کمپنی) نے جس قدر تیز، گہرا، چیختا، چنگھاڑتا (Ultra Violet)رنگ منتخب کیا تھا، امسال 2019ء کے لیے اُسی قدر ہلکا، دھیما، سافٹ، مُدھر، نرم و ملائم اور جاذبِ نظر رنگ فائنل کیا گیا۔ جی ہاں ’’Living Coral‘‘ (شفتالو) رنگ۔ جو کہ بے بی پنک یا ٹی پنک سے تھوڑا گہرا، جب کہ اورنج یا نارنجی سے خاصا ہلکا، بلکہ بہت حد تک پِیچ سے ہم آہنگ سا رنگ ہے، جسے پیچی اورنج (Peachy Orange)بھی کہا جارہا ہے۔ اس رنگ کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے، حسبِ سابق اسے دورِ حاضر کی مطابقت و مناسبت کے تناظر میں ایک نہایت شان دار انتخاب قرار دیا گیا ہے۔ وہی باتیں، حکایتیں کہ ’’دنیا کو آج جس قدر امن و چین، صُلح و آشتی، سُکون و آرام، راحت و اطمینان کی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی اور آگ وبارود کے دہانے پر کھڑی دنیا کو یہ الوہی احساس ٹھنڈے میٹھے پانیوں، گہری جھیلوں، بہتے جَھرنوں، گُنگناتی آب شاروں، رواں دواں نہروں، دریائوں، ساگر کی پُرسکون لہروں اور بھیگے بھیگے ساحلوں جیسی بے بہا نعمتوں ہی سے کشید کرنا چاہیے۔

تب ہی تو فطرت کے ہزار ہا حسین و دل نشین رنگوں، روشنیوں، نظاروں، شاہ کاروں میں سے یہ نرم و نازک، سُندر وکومل، پاک و پوتّر، اچھوتا و کنوارا، چُھوئی موئی سا رنگ منتخب کیا گیا ہے۔ یہ رنگ، صرف رنگ نہیں، یہ روشنی و چاندنی، طاقت و توانائی، ٹھنڈک و پاکیزگی، ہریالی و زرخیزی، حُسن و دل کشی، تازگی و شگفتگی، چاہت و دوستی، مسّرت و شادمانی اور امن و شانتی کا ایک بہترین استعارہ، اشارہ بھی ہے۔ یہ وہ رنگ ہے کہ جو باتیں کرے، تو باتوں سے خوشبو آئے اور صرف آئے ہی نہیں، چہار اطراف کی فضا بھی منوّر و معطّر کرجائے۔ سچ ہے کہ رنگوں کی اپنی ہی دنیا، الکھ نگری، الگ ہی زباں ہوتی ہے۔ اُن کے توسّط سے بھیجے گئے پیغام، سندیسے کی اثر افریینی کے بھی کیا ہی کہنے ؎ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے.....کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے.....باتیں جو زباں تک آ نہ سکیں.....آنکھوں نےکہیں، آنکھوں نے سُنیں.....کچھ ہونٹوں پر، کچھ آنکھوں میں.....اَن کہے فسانے رہ بھی گئے۔ اِک خُوب صُورت، مَن موہنے، کسی کے مَن پسند رنگ میں رنگا وجود ہو یا اُسی رنگ میں کیا ہار سنگھار، کانوں میں گُنگناتے جھمکے، آویزے، بالیاں ہوں، کلائیوں میں کھنکتی چوڑیاں، پیروں میں چھنکتی پائل یا کوئی پھول، خوشبو، تحفہ.....صرف ایک رنگ تنہا وہ سب کچھ کہہ جاتا ہے، جو ہزار لفظ مل کے نہیں کہہ پاتے۔ اور پھر اس رنگِ حیا کی بھی کیا ہی بات ہے، جو کسی کے کہے ایک جملے پر جیسے غازہ بن کر پورے چہرے کو لال و گلال کرجاتا ہے۔ وہ ہے ناں ؎ چہرئہ شب دمک اٹھا، سُرخ شفق جھلک اٹھی.....وقتِ طلوع کہہ گیا جانے آفتاب کیا۔ اور وہ جو منیر نیازی نے کہا تھا؎ خیالِ یکتا میں خواب اتنے.....سوال تنہا، جواب اتنے.....بس اِک نظر میں ہزار باتیں.....پھر اس سے آگےحجاب اتنے.....مہک اُٹھےرنگِ سُرخ جیسے.....کِھلے چمن میں گلاب اتنے۔

تو.....سالِ نو کے لیے اس ’’شفتالو‘‘ رنگ کے انتخاب کے پیچھے بھی بس کچھ ایسے ہی تصوّرات و خیالات، جذبات و احساسات اور باتیں، مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ دنیا کے اُفق، دھرتی کے سینے سے لے کر گھروں، دفاتر کے انٹیریئر، سواریوں، ڈیکوریشن، کراکری، کھانوں، مشروبات، آرایش و زیبایش اور ہر طرح کی ایکسیسریز میں اگر اِسی رنگ کا غلبہ نظر آتا ہے، تو یقیناً کائنات 2018 ء کی نسبت 2019ء میں زندگی جینے کے لیے نسبتاً ایک بہتر جگہ ثابت ہوگی۔ اور بس، اسی خیال کے تحت اور کچھ حسبِ روایت بھی، ہم نے بھی آج اپنی بزم اِسی نرم و ملائم، پوتّر و کومل، دھیمے سُروں، بہتی لہروں جیسے اَن چُھوئے، اَن دیکھے سے رنگ سے آراستہ و پیراستہ کر ڈالی ہے۔

اب آپ نے اس رنگ کو کب کب، کیسے کیسے اور کہاں کہاں آزمانا، اپنانا، استعمال کرنا ہے۔ اِسے پہننا اوڑھنا، اِس سے سجنا سنورنا ہے، یہ تو آپ ہی پر منحصر ہے اور ضروری نہیں کہ بس آج کل ہی میں کسی طور اپنا لیا جائے کہ اس رنگ کو تو اب پورا ایک سال، پوری دنیا پر راج کرنا ہے۔ فی الحال ہماری اس انتہائی حسین و جمیل، نفیس و دل کش، چودہویں کے چاند سی بزم سے اِن اشعار کے تناظر میں خُوب محظوظ ہوں؎

کسی پرندے نے اُڑنے کا مَن بنایا ہے.....وہ کوئی اور نہیں، میرا ہی تو سایہ ہے.....زمیں کی مُٹھی میں جیسے ہو آسماں کوئی.....غضب کا ریشمی احساس کوئی لایا ہے.....گُلوں میں شوخ گلابی تم ہی نے رنگ بَھرے.....چلے بھی آئو کہ گلشن نے اب بلایا ہے.....نئے سے خواب چُرالوں حسین لمحوں سے.....یوں شبنمی سی کسی رات نے سُلایا ہے.....مِلو کبھی بھی جو فرصت میں تو یہ پوچھیں گے.....یوں میرے چاند کو مجھ سے ہی کیوں چُرایا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں