آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات10؍جمادی الاوّل 1440ھ 17؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کافی ہاؤس میں، مرزا غالب کی فنی عظمت زیر بحث تھی، انجم رومانی کو ایک نکتہ سوجھا، کہنے لگے ’’غالب بھی دو قومی نظریے کے قائل تھے‘‘ اعجاز بٹالوی نے حیرت سے کہا،وہ کیسے؟‘‘… انجم رومانی نے کہا کہ غالب کے اس شعر پر غور کیجیے:

پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے، شراب تو دے

یہ پورا شعر، اس طریق عمل کا عکاس ہے، جو ہندو، دوسری اقوام سے روززمرہ کے معمولات، بالخصوص پانی وغیرہ پلانے کے سلسلے میں روا رکھتے تھے۔

…٭…٭…

جوش ملیح آبادی نے احسان دانش سے پوچھا ’’کتنے بچے ہیں؟‘‘ احسان صاحب نے جواب دیا۔ ’’تین‘‘ جوش صاحب نے استفسار کیا ’’نام‘‘ احسان صاحب نے بتایا ’’ فیضان دانش، سلمان دانش اور عرفان دانش‘‘ جوش صاحب نے کہا ’’چوتھا ہوتا تو اس کا نام ہم تجویز کرتے‘‘ احسان صاحب نے پوچھا ’’وہ کیا‘‘ جوش صاحب نے اپنا انتخاب بتایا ’’شیطان دانش‘‘۔

…٭…٭…

ایڈیٹر ’’نقوش‘‘ محمد طفیل نے ایک محفل میں فراق گورکھپوری کو دیکھا۔ اس سے پہلے اُن کی ملاقات، فراق صاحب سے بالمشافہ نہیں ہوئی تھی، انہوں نے آگے بڑھ کر خود کو متعارف کرایا۔ میں ہوں محمد طفیل، مدیرہ ’’نقوش‘‘فراق صاحب نے شائستگی سے کہا ’’بس یہی بات کہنی تھی، آپ کو۔‘‘

…٭…٭…

مولوی عبدالحق اور خواجہ غلام الثقلین، آپس میں گہرے دوست تھے۔ علی گڑھ میں دوران تعلیم ایک یونی ورسٹی کے باغیچے میں ٹہل رہے تھے، سرسید احمد خان بھی ادھر آنکلے۔ ان دونوں کو دیکھ کر ٹھہر گئے اور غلام الثقلین سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ’’اس کے ساتھ پھرو گے تو بے دین ہوجائو گے۔‘‘ خواجہ غلام الثقلین ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، مولوی عبدالحق نے سرسید کو برجستہ جواب دیا ’’جناب! بھلا آپ کے ہوتے ہوئے، کسی کا دین محفوظ ہے‘‘ سر سید نے قہقہہ لگایا۔ یہ وہ دن تھے، جب ہندوستان بھر کے مولویوں نے سرسید کے خلاف تکفیر کی مہم شروع کر رکھی تھی۔

…٭…٭…

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل، ذوالفقار علی بخاری کی فرمائش پر صوفی غلام مصطفےٰ تبسم نے ایک گیت لکھا، یہ گیت بخاری صاحب کو سناتے ہوئے انہوں نےکہا ’’بخاری! مکھڑ سنو! بخاری صاحب ہنسے اور کہنے لگے ’’صوفی! کبھی تمہارا مکھڑا دیکھنےکی چیز تھی، لیکن اب تو یہ صرف سننے کے قابل رہ گیا ہے۔‘‘ صوفی صاحب نے برجستہ جواب دیا۔ ’’ذرا اپنا حال بھی دیکھو۔ یوں لگتا ہے، جیسے سر پر سفید تولیہ باندھا ہوا ہے۔‘‘ (بخاری صاحب کے لمبے لمبے بال، برف کی طرح سفید تھے)۔

…٭…٭…

ایک ملاقات میں ڈاکٹر تاثیر، اختر شیرانی کی مے نوشی کے بارے میں بڑے مشفقانہ انداز میں سرزنش کررہے تھے، انہوں نے اظہارِ تاسف کرتے ہوئے کہا۔

’’اختر !بسیار نوشی نے تمہاری جو حالت بنا رکھی ہے، اس پر تمہارے دوست شرمندہ ہیں۔‘‘ اختر نے کہا ’’جی ہاں! بالکل اس طرح، جیسے تمہاری کم نوشی پر، تمہارے دوست، شرمسار ہیں۔‘‘

…٭…٭…

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں