آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیسے جیسے قومی احتساب بیورو کی کارروائیاں بڑھتی جارہی ہیں پی پی پی کی قیادت کے لہجے میں تلخی کا عنصر بھی نمایاں ہوتاجارہا ہے پی پی پی پی کی ٹاپ قیادت کانام ای سی ایل سےنکالا جاچکا ہے تاہم اب بھی پی پی پی کے کئی اہم رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ زرداری اور اومنی گروپ کے خلاف 70 نئی انکوائریاںاور مقدمات کی تیاری کی جارہی ہے، بعض حلقوں کے مطابق ان مقدمات کا مقصد پی پی پی کو دباؤ میں لانا ہےاور ہرگزرے دن کے ساتھ مشکوک ٹرانزیکشن کے کیس سامنے آرہے ہیں جے آئی ٹی سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کرچکی ہے جے آئی ٹی اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اومنی گروپ اور زرداری گروپ نے غیرقانونی پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جے آئی ٹی کی رپورٹ پر آصف علی زرداری نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے اور جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے تاہم اس کے باوجود ایف بی آر آئے روز مشکوک بنک ٹرانزیکشن کے انکشافات کررہی ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری افسران کی گرفتاریاں بھی جاری ہےقومی احتساب بیورو کراچی نے اراضی کی جعلی الاٹمنٹ میں ملوث سابق ڈپٹی کمشنر ملیر جان محمد کو گرفتار کرلیا احتساب عدالت کے منتظم جج نے غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں گرفتار سابق ڈپٹی کمشنر ملیرجان محمد کو 14 جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے ملزم پر صوبائی حکومت میں شامل اعلیٰ شخصیات کے آشیربادسے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر قانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔ان تمام کارروائیوں کے باوجود پی پی پی حکومت کے خلاف کسی بڑے احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنناچاہتی انہیں امید ہے کہ حکومتی سرپرستوں کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ان کے معاملات طے پاجائیں گے جس کی کوشش کاآغاز کردیا گیا ہےاورکہاجارہا ہے کہ پی پی پی کوریلیف بھی ملنا شروع ہوگیا ہے تاکہ گرینڈاپوزیشن الائنس کی بیل منڈھے چڑھ سکیںدوسری جانب پی پی پی نے گرینڈ اپوزیشن الائنس کا فارمولا بھی مستردکردیا ہے۔ تاہم آصف علی زرداری عوامی اجتماعات میں جو صرف سندھ تک محدود ہے اپنا موقف مقتدرہ حلقوں سمت حکومت تک پہنچارہے ہیں پی پی پی کی قیادت کی حتمی الامکان کوشش ہے کہ افہام وتفہیم معاملات طے پاجائے اور انہیں احتجاجی سیاست کی طرف ناجانا پڑے پی پی پی، جے یو آئی اور مسلم لیگ(ن) کو ایک طرف یہ باور کرارہی ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کے لیے قدم بڑھائے ہم ساتھ دیں گے تو دوسری جانب وہ بعض حلقوں کا اعتماد حاصل کرنے میں جتی ہوئی ہے کہ وہ احتجاجی سیاست نہیں کریں گے تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی پی احتجاجی سیاست کرنا چاہتی ہے تاکہ ان پر بنادباؤ ختم یا کم ہوسکیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ احتجاجی سیاست کی ابتداء بلوچستان سے ہوجورفتہ رفتہ ملک گیر سطح تک پھیل جائے پی پی پی کی قیادت اب صرف حکومت اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کررہی ہے اور ان کی تنقید کا محور اب کوئی ادارہ نہیں ہے ۔پی پی پی یہ بھی نہیں چاہتی کہ احتجاجی سیاست کی راہ اختیار کرے جس سے وہ سندھ حکومت گنوابیٹھے جس کے بعد انہیں مزیدسخت رویوں کا سامنا کرنا پڑے احتجاجی سیاست سے معیشت مزید غیرمستحکم ہوگی جس کے نتیجہ میں طویل المدتی قومی حکومت کا قیام عمل میں آسکتا ہے جو پی پی پی کو سوٹ نہیں کرتا ادھربدین میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےسابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ ایک نہیں 50 کیس بنائیں مقابلہ کروں گا، بیوقوفوں اور جاہلوں کے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈریں گے ، ہماری رگ رگ میں جمہوریت بستی ہے، الزام لگاؤ، پھانسی چڑھادو، یہ کیا بکری چوری جیسے الزام لگارہے ہو، عوام کی خدمت کی ذمہ داری بی بی شہید نے لگائی،حکومت چلانا نہیں آتی تو یہ نوکری کتے کیوں ہو؟ موجودہ حکومت قلیل مدتی اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے نام لیے بغیر اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ غیرجمہوری قوتوں کو سوچنا ہوگا کہ ملک اس وقت کہاں جارہا ہے، مجھے بی بی نے عوام کی خدمت کرنے کی ذمہ داری دی ہے اور ہم یہ ذمہ داری قبر تک نبھاتے رہیں گے۔ صدقے کے بکروں کی باتیں گمراہ کن ہیں ، ڈرامے بند کئے جائیں، سابق صدر نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کہتی ہے کہ 6 ماہ میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں صدر بنا بھی نہیں تھا کہ ہماری پی پی پی کی حکومت نے اسٹاک ایکسچینج کراچی کے تمام لوگوں اور اس وقت کے وزیر خزانہ سیدنوید قمر کو بلاکر کہاکہ آپ ان کے ساتھ اس طرح چلیں کہ ہمیں باہر سے سرمایہ لانے کی ضرورت نہ پڑے اور اسٹاکس بڑھ جائیں اور میں نے پانچ سال تک ٹیکس لگنے نہیں دیا جب اسحاق ڈار نے ٹیکس لگایا تو اس کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے قبل 90 بلین کا اسٹاک موجود تھا مگر اب 40 ارب رہ گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کردی ہے۔ بلاول نے تحریک انصاف کی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا ایسے حکومت چلتی ہے ؟ کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پیپلزپارٹی کو دبانے کی کوشش ہے لیکن ہمارا پورا خاندان بھی جیل میں ڈال دیا گیا تو ہم نظریات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آصف علی زرداری ملک کے واحد سیاستدان ہیں جو تمام سیاسی قوتوں کو یکجاکرسکتے ہیں۔ بلاول نے گرینڈ اپوزیشن الائنس کے حوالے سے باتوں کی نفی کردی اور واضح کیا کہ وہ ایشوٹوایشو اپوزیشن کے ساتھ چل رہے ہیں گرینڈالائنس کی طرف نہیں جارہے موجودہ حکومت 18 ویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔پی پی پی اور حکومت کے درمیان ایک دوسرے پردباؤ بڑھنے کی کوشش ہورہی ہے پی پی پی میں زیرک سیاست دان موجود ہیں انہیں علم ہے کہ انہیں اپنے پتے کس طرح کھیلنے ہے پی ٹی آئی کی جانب سے پی پی پی پر لفظوں کی گولہ باری جاری ہے پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر خرم شیرزماں نے ایک بار پھر کہاکہ مراد علی شاہ بیس سے 25دن میں مستعفی ہوجائیں گے بلادودھ کی رکھوالانہیں ہوسکتا مرادعلی شاہ کا یہی رویہ رہا تو انہیں چلنے نہیں دیں گے جواباً پی پی پی کے سینئر رہنمااورسابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے وزیراعلیٰ کے پی کے کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا وفاق اور صوبے میں رسہ کشی کی وجہ سے کئی منصوبے ٹھپ ہوکررہ گئے ہیں وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزادقاسم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گرین بس منصوبے کے لیے وزیراعظم نے بسیں فراہم کرنے کاوعدہ کیا تھا مگر 100 دن میں انڈوں اور مرغیوں کے علاوہ کیا ملا جواباً گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہاکہ کراچی کے منصوبوں پر سندھ حکومت اپنا جھنڈا لگاناچاہتی ہے بائیک ریس میں صدرمملکت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ موجود رہنے کے سبب ترقیاتی کام نہیں ہوسکتے سندھ حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیاجارہا پی ٹی آئی حکومت نے 100 دن میں اپنے راستوں کا تعین کیا ہے گند اور دھواں ختم کرکے پہلے رنگ ورغن کاکام کررہے ہیں سندھ میں کوئی گورنرراج راج نافذ نہیں ہورہاوفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان رسہ کشی اور تناؤ صورت حال میں سندھ کا نقصان ہورہاہے خصوصتاً کراچی کی  صورتحال انتہائی مخدوش ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں