آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ویسے تو خواتین کو ’’صنفِ نازک‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن وہ جب کچھ کرنے کی ٹھان لیں، تو دنیا کا کوئی طوفان ، ڈر ، خوف، طاقت ان کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔ آج کی عورت کوجہاں نزاکت کی علامت تصور کیا جاتا ہے ، وہیں اس نے یہ بھی ثابت کر دکھایاہے ،کہ وہ صرف گھرداری ہی میں ماہر نہیں ہو تی بلکہ دنیا کے ہر کام کو بہ خوبی انجام دے سکتی ہے۔ اس لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین دنیا کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ،تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔کچھ نہ کچھ ایسا منفردکرنے میں مصروف عمل ہیں کہ دنیابھی ان کی صلاحیتوںکی معترف ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس بھی صنفِ نازک دنیا پر بہتر انداز میں چھائی رہی، اور یہ ثابت کیا کہ طاقت کے اعتبار سے تو وہ مردوں سے پیچھے ہو سکتی ہیں، لیکن ذہانت، قابلیت اور محنت کے اعتبار سے وہ کسی طور بھی صنفِ قوی سے پیچھے نہیں۔ زیر نظر مضمون میں ہم چند ایسی باصلاحیت خواتین کا ذکر کر رہے ہیں ، جو اپنے منفرد کام کی وجہ سے 2018میں مرکز نگاہ بنیں۔ 

عاصمہ جہانگیر

اقوام متحدہ کی جانب سے 2018کا انسانی حقوق کا ایوارڈ ،ممتاز ماہر قانون اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر نے جیتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرناندا نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات اور اداروں کی خدمات کا اعتراف ہمارے لیے باعث فخر ہے۔

معروف قانون دان ،عاصمہ جہانگیر 27جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم لاہور کے کانونٹ آف جیزس اینڈ میری اسکول،سےحاصل کی۔ان کا نام ملکی سیاست کے اُفق پر بہت چھوٹی عمر میں ہی سامنے آ گیاتھا، جب دسمبر 1972 میں ان کے والد ملک غلام جیلانی کو مارشل لا ء قوانین کے تحت حراست میں لے لیا گیاتھا۔21 برس کی عاصمہ جہانگیرنےاپنے والد کا کیس لڑنے کے لیے لاہور کے تمام وکلا سے درخواست کی ،لیکن سب نےان کے والد کا کیس لڑنے سے انکار کر دیا ۔ اس صورت حال کے پیش نظر انہوں نے کیس خود لڑنے کا فیصلہ کیا اور اسے جیتا بھی۔1978 میں عاصمہ جہانگیر نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی تعلیم مکمل کی، بعد ازاںانہوں نے قانون کے شعبے میں قدم رکھا ۔ تعلیم مکمل کرتے ہی، ان کی شادی ایک کاروباری شخصیت طاہر جہانگیر سے ہو گئی۔ 80کی دَہائی میں عاصمہ جہانگیر نے بہ طور وکیل خدمات انجام دینا شروع کیں ، بعد ازاں سپریم کورٹ سے وابستہ ہوگئیں۔اپنی ، محنت و لگن کی بہ دولت سپریم کورٹ بار کی صدرمنتخب ہوئیں،واضح رہے کہ وہ پہلی خاتون ہیں، جنہیں سپریم کورٹ بار کی صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔1980 میں انہوں نے اپنی بہن حنا جیلانی اور دیگر خواتین کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا خواتین پر مبنی وکالت کا ادارہ بھی شروع کیا۔

عاصمہ جہانگیر اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے وفد کا حصہ تھیں جنہوں نے امریکا کی گوانتانامو جیل کا تحقیقاتی دورہ کیا اور اپنی رپوررٹ میں وہاں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر امریکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بنایا۔ ان کے دو ٹوک، جان دار اور منطقی انداز کے باعث کسی بھی ملک کی ہمت نہ ہوئی کہ ان کے کام کوہدفِ تنقید بنائے۔، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سول سوسائٹی اور غیر جانب دار حلقوں کی طرف سے ان کے مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ وہ دنیا کی واحد شخصیت تھیں جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصر کے تین عہدوں پر کام کیا۔ پہلے ماورائے عدالت قتل، و غیرہ، پھر مذہبی آزادی اور آخر میں ایران پر خصوصی مبصر مقرر کی گئیں ۔وہ ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر 1998 سے 2004 تک اقوام متحدہ کی مندوب رہیں، جب کہ 2004 سے 2010 تک مذہبی و عقائد کی آزادی کے خصوصی مندوب کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ وہ پاکستان میں حقوقِ انسانی کی علمبردارکے طور پر پہچانی جاتی تھیں،انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ بھی رہیں۔ان ہی خدمات کے اعتراف میں عاصمہ جہانگیر کوانسانی حقوق کےمختلف اعزازات سے نوازا جاتا رہا، جن میں یونیسکو پرائز، فرنچ لیجن آف آنر اور مارٹن اینیلز ایوارڈ،’’ رامون میگ سے سے‘‘ ایوارڈ اور 2010 ء میں ہلال امتیاز بھی شامل ہے ۔مظلوم انسانوں کی زبان بننے والی عاصمہ جہانگیر 11فروری 2018کو دل کا دورہ پڑنےکی وجہ سےاس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔

سینیٹرکرشنا کماری کولہی

فروری 1979ء کو جگنو کولہی کے گھر جنم لینے والی کرشنا کماری ، پہلی ہندو دلت خاتون ہیں، جو سینیٹر منتخب ہوئیں۔ان کا سینیٹ الیکشن جیتنے تک کا سفرکسی طور بھی آسان نہیں تھا۔ آج وہ جس مقام پر ہیں، اس کے پیچھے عزم و ہمت اور ولولوں کی کئی داستانیں پوشیدہ ہیں۔ غربت میں آنکھ کھولنے والی کرشنا کماری جب تین سال کی تھیں تو انہیں اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ تین سال تک ضلع عمر کوٹ کے علاقے کنری کے ایک زمین دار کی نجی جیل میں گزارنے پڑے۔ صحرائے تھرمیں موسم کی گرم و سرد ہواؤں کے تھپیڑے برداشت کرتی کرشنا کماری جب 16 برس کی ہوئی، تواس کی شادی لال چند نامی شخص سے کردی گئی۔ جب شادی ہوئی ، تو اس وقت کرشنا نویں کلاس کی طالبہ تھی، اس نے اپنے شوہر سے زندگی بھرساتھ نبھانے کے عوض صرف یہ اجازت مانگی کہ اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کیا جائے، شوہر نے اس کی یہ خواہش مان لی۔ اس طرح شادی کے بندھن میں بندھنے کے باوجود کرشنا کماری نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر 2013 میں سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی۔تعلیم کے ساتھ ساتھ کرشنا کماری نے تھر اور قریبی علاقوں میں غریب لوگوں کی مدد کےلیے فلاحی اورسماجی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کردیا،جو آج بھی جاری ہے۔ اپنی ان خدمات کی وجہ سے ہندوؤں کی نچلی ترین ذات دلت سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری آج ہزاروں دلوں میں راج کررہی اور پاکستان کے ایوان بالا میں پہنچ گئی ہیں۔اب تھر کے لوگوں کی نگاہیں، کرشنا کماری پر لگی ہیں، کہ وہ کس طرح ان مظلوم اور بے سہارا لوگوں کی آواز بنتی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہیں۔

سعدیہ راشد

جاپانی حکومت نے سابق گورنرسندھ حکیم محمد سعید کی صاحبزادی ، معروف ماہر تعلیم اور پاک جاپان کلچر ایسوسی ایشن کی صدر سعدیہ راشد کے لیےجاپان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ’’دا آرڈر آف رائزنگ سن گولڈ ریز ود نیک ریبن‘‘ کا اعلان کیا ہے ،جو جاپان کے شہنشاہ کی جانب سے دو ممالک کے درمیان تعلقات اور جاپانی کلچر کے فروغ کی خدمات کے صلے میں دیا جاتا ہے۔

سعدیہ راشد کراچی میں پیدا ہوئیں،انہوں نے سینٹ جوزف کانونٹ اسکول سے میٹرک اور سینٹ جوزف کالج کراچی سے انٹر کیا، بعد ازاں جامعہ کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سےسعدیہ نے سماجیات میں ماسٹرز کیا۔ 17 اکتوبر 1998ء کو ان کے والد کو مطب کے باہر شہید کر دیا گیا، جس کے بعد سےوہ ہمدرد فاؤنڈیشن کے نظم و نسق کو سنبھال رہی اوراپنے والد کے مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ان کے ادارے کے تحت دیہات میں بھی اسکول چلائے جاتے ہیں، تاکہ ملک میں علم کی روشنی پھیلتی رہے۔سعدیہ راشد جیسی بیٹیاں نہ صرف اپنے والدین بلکہ ملک و ملت کے لیے بھی فخر کا باعث ہیں۔

امریکا میں وسط مدتی الیکشن میں پہلی مرتبہ کام یاب ہونے والی 3مسلمان خواتین

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ، ریپبلکن جماعت کو ایوان نمائندگان میں شدید دھچکا پہنچا ،حیرت انگیز طور پر 3تارکین وطن مسلمان خواتین نے انتخابات میں فتح اپنے نام کی۔منتخب ہونے والی مسلمان خواتین میں صومالی پناہ گزین خاندان کی بیٹی الحان عمر، فلسطينی تارکين وطن خاندان کی رشيدہ طالب اور 1997 میں طالبان کی قید سے فرار ہونے والے خاندان کی صفیہ وزیر شامل ہیں۔

الحان عمر

الحان کی زندگی تکالیف، مصائب ، مگر عزم و جد وجہد سے عبارت ہے۔ صومالیہ میں پیدا ہونے والی الحان چند برس کی ہی تھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا،اس کے بعد ان کی پروش والد اور نانا نے کی۔ صومالیہ میںخانہ جنگی کی وجہ سے ، ان کے خاندان نے کینیا کے شہر ممباسا کا رخ کیا۔ جس کے بعد وہ 14 سال کی عمر میں پناہ گزین کے طور پر امریکا آگئیں۔ امریکا میں انہوں نے، انگریزی سیکھی ، سیاسیات میں بی اے اوربین الاقوامی امور میں ڈگری حاصل کی ، بعد ازاں انہوںنے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔2016ء کے انتخابات میں وہ مینسوٹا اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔الحان نے میناپولس کے جس علاقے سے نشست جیتی ہے، اسے ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے،اس حوالے سے ان کی پوزیشن کافی مضبوط تھی، انہوںنے 78.4فی صد ووٹ حاصل کیے ۔

رشیدہ طالب

مشی گن سے منتخب ہونے والی 42 سالہ رشید ہ طالب کا تعلق فلسطینی تارکین وطن خاندان سے ہے۔ مالی حالات خراب ہونے کے باعث رشیدہ نے اپنے چھوٹے بہن، بھائیوں کی پرورش میں والدین کا ہاتھ بٹایا، مگراپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا۔ رشیدہ طالب ایک منجھی ہوئی قانون داںاور متحرک سماجی رہنما بھی ہیں، 2008میں مشی گن کی مقننہ کی رکن منتخب ہو چکی ہیں۔گر چہ ریپبلکن جماعت نے ان کے مخالف کوئی امید وار کھڑا نہیں کیاتھا، مگردیگر جماعتوں کے دو مخالفین کے مقابلے میںانہوں نے 92.26فی صد ووٹ حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کی۔

صفیہ وزیر

نیو ہمشائیر سے منتخب ہونے والی 27 سالہ صفیہ وزیر نے اپنے خاندان کے ہمراہ 1997 میں ازبکستان میں پناہ لی تھی، اُس وقت وہ 6 سال کی تھیں اور اب وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔افغان نژاد امریکی صفیہ وزیر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ری پبلکن کے ڈینس سوسی کو نیو ہیمپشائر کی ریاستی اسمبلی کی ایوانِ نمائندگان کی سیٹ پر ہرا یا۔صفیہ نے بچپن میں افغانستان سے ازبکستان نقل مکانی کی جہاں وہ 10سال تک پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں رہیں۔2007 میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر منتقل ہوئیںاور 2013میں انہیں امریکی شہریت ملی۔ان کی انتخابی مہم ملکی سطح پر اس لیے اہمیت کی حامل ہوچکی تھی، کیوں کہ انہوں نے چار بار ریاستی انتخابات جیتنے والے ڈک پیٹن کو پرائمری انتخاب میں ہرایا تھا۔

ثناء میر

آئی سی سی کی جاری کردہ حالیہ ویمنز کرکٹ کی ون ڈے رینکنگ میں، پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میرنے بولنگ میںپہلی پوزیشن اپنے نام کر لی ہے۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر ہیں۔ثناء 5 جنوری 1986کوایک پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئیں، ان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔انہوں نے اسٹیٹس اور اکنامکس میں گریجویشن کیا ۔انہوں نے اپنا پہلا ، ایک روزہ بین الاقوامی میچ 2005میں سری کے خلاف کھیلا اوردسمبر 2009پاکستانی ویمن کرکٹ کی کپتانی انہیں سونپی گئی۔2010 اور 2014 کے ایشیائی کھیلوں میں، ثناء کی سربراہی میںپاکستانی ٹیم دو سونے کے تمغے جیتنے میں کام یاب ہوئی تھی۔آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریزمیںپاکستانی ویمن ٹیم شکست سے دوچار توہوئی ،لیکن ثناء میر نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریزمیں سات وکٹیں حاصل کرکے چار درجے اوپر آگئیں اورون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی، جب کہ آل راؤنڈرز میں ثنا کا پانچواں نمبر ہے۔

زبیدہ جلال خان

زبیدہ جلال خان ، پاکستانی سیاست میں کوئی نیا نام نہیں ، وہ پاکستان کی ممتاز ماہر تعلیم ، متحرک سماجی کارکن اور سابق وفاقی وزیر تعلیم ہیں۔ حالیہ انتخابات میں اس حوالے سے توجہ کا مرکز بنیں کیوں کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والی وہ واحد خاتون ہیں۔ زبیدہ جلال نے بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر این اے 271، کیچ اور تربت سے الیکشن لڑا اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے سید احسن شاہ کے مقابلے 32,886ووٹ حاصل کیے۔

زبیدہ جلال 31 اگست 1959ء کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں،ابتدائی تعلیم گاؤں میں ، ہائر اسٹڈیز کویت سے حاصل کی، بعد ازاں،بلوچستان یونیورسٹی سے انگریزی زبان میں ماسٹرز کیا۔ اپنے والد کے تعاون سے اپنے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول کھولا، جسے بہت سراہا گیا۔ وہ اپنے اسکول میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بلوچستان یونیورسٹی میں انگریزی ادب بھی پڑھاتی تھیں۔زبیدہ جلال کے سیاسی کیریئر کا آغاز 1988میں پاکستان مسلم لیگ (ن)میں شمولیت سے ہوا، بعد ازاں2000میں پاکستان مسلم لیگ (ق)میں شمولیت اختیار کرلی اور 2002کےعام انتخابات میں این اے 27کی سیٹ سے حصہ لیااور کام یاب ہوئیں، جس کے بعد انہیں وفاقی وزیر تعلیم کا قلم دان سونپ دیاگیا، جو 2002 سے 2007 تک ان کے پاس رہا۔2008کے عام انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے بہ جائے آزاد امید وار کی حیثیت سے این اے 272سے الیکشن لڑا ،تاہم کام یاب نہ ہو سکیں، 2013کے عام انتخابات میں انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حمایت کا اعلان کیااور 2018کے عام انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیااور کام یاب ہوئیں۔

آمنہ محمود

ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین کی کمی نہیں ہے، جو اپنا گھر چلانے کے لیے کام کرتی ہیں۔ آج کل، ایک نیا رجحان گھر بیٹھے یا آن لائن کاروبار کرنے کا ہے۔ آمنہ محمود کا شمار بھی آن لائن کام کرنے والی خواتین میں ہوتا ہے، مگر وہ دیگر خواتین سے اس طرح منفرد ہیں کہ وہ یوٹیوب پر ایک کوکنگ چینل چلاتی ہیں۔آمنہ نے 2016میں یوٹیوب پر انڈین اور پاکستانی کھانوں کی تراکیب اَپ لوڈ کرنا شروع کی تھیں،وہ تمام تراکیب کو بآسانی اور جھٹ پٹ بنانا سکھاتی ہیں۔گزشتہ برس جولائی میں ان کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک ملین تک پہنچ گئی ، اس اعزاز میں انہیں یوٹیوب انتظامیہ کی جانب سے ’’گولڈ بٹن‘‘ ایوارڈ دیا گیا۔واضح رہےکہ آمنہ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں، جنہیں یہ ایوارڈ ملا ہے۔

سلو وینیاکی پہلی خاتون آرمی چیف ’’میجر جنرل ایلنکا ایر منک‘‘

90 کی دَہائی میں یوگوسلیویا سے آزادی حاصل کرنے والے ملک سلووینیا نے2018 میںایک خاتون افسرکو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ یورپی ملک سلووینیا کے صدر نے میجر جنرل ایلنکا ایرمنک کو میجر جنرل ایلن گیڈر کی جگہ چیف تعینات کیا۔ واضح رہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل 29 رکن ممالک میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا تقرر ہے۔ 55 سالہ سابق آرمی چیف نے لندن کے رائل کالج برائے دفاعی تعلیم سے گریجویشن اور لندن کے کنگز کالج آف انٹر نیشنل اسٹڈیز سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ۔انہوں نےملٹری کیئریئر کا آغاز اس وقت کیا تھا، جب سلووینیا نے سابق یوگوسلاویہ سے آزادی حاصل کی تھی۔میجر جنرل ایرمنک ،آرمی چیف منتخب ہونے سے قبل ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی تھیں۔سلووینیا کی کُل آبادی تقریباً بیس لاکھ ہے، جن میں سے تقریباً سات ہزارفوجی ہیں۔

پہلی خاتون ٹھیکیدار فرہاد بی بی

خیبر پختونخوا کی تیمرگرہ میں رہنے والی فرہاد بی بی ، پاکستان کی پہلی ٹھیکیدار خاتون ہیں۔ ’’تقریباً 24سال پہلے وہ ایک دن اپنے خاوند کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہی تھیں، کہ ان کے شوہر نے بتایا کہ ’’ تمہارے نام پرمیں کنسٹرکٹر لائنسس بنوا لیاہے،اب تم جب بھی چاہو،ایک کنسٹرکٹر کی حیثیت سے کام کر سکتی ہو۔ خاوند کے مرنے تک انہوں نےیہ سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی گھر سے نکلیں یا کام کریں گی۔ انہوںنے ایک جماعت بھی نہیں پڑھی،لیکن شوہر کے مرنے کے بعد پشتو میں انجینئرنگ سیکھی، اب کروڑوں نہیں، اربوں روپےکا حساب کتاب کرتی ہیں۔ جب پہلے دن فرہاد بی بی کام کرنے لیے نکلیں ،تو اکثر لوگ ان پر ہنس رہے اور باتیں بنا رہے تھے۔، لیکن انہوںنےیہ نہیں سوچھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا باتیں کر رہے ہیں۔ فرہاد بی بی نے نہ صرف اپنے خاوند کے تعمیراتی کام کو آگے بڑھایا، بلکہ اپنی چار بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت بھی دی۔وہ کہتی ہیں کہ ’’ قبائلی معاشرے میں خواتین کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی، لیکن میںنے اپنی بیٹیوں کے پر نہیں کاٹے ، انہیںبیٹوں سے بڑھ کر آزادی دی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی ایک بیٹی رکن صوبائی اسمبلی، ایک اسکواش کی بین الاقوامی کھلاڑی اور ایک سماجی کارکن ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ خیبر پختونخوا کی رکن صوبائی اسمبلی سمیرا شمس ، فرہاد بی بی کی ہی دختر ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں