آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات12؍شعبان المعظم 1440ھ 18؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری ملازمین کیلئے شادی، وفات، بیواؤں اور بچوں کیلئے مختص فنڈز میں اضافہ ایک ایسا اقدام ہے جو روز افزوں مہنگائی کی بنا پر وقت کی لازمی ضرورت بن چکا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ گزٹیڈ افسروں کے یتیم بچوں کی سالانہ اسکالر شپ 20سے 50ہزار اور نان گزٹیڈ ملازمین کے یتیم بچوں کیلئے 10ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ گزٹیڈ افسروں کے بچوں کی شادی گرانٹ 40ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ جبکہ نان گزٹیڈ ملازمین کے بچوں کی شادی گرانٹ 15ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ گریڈ 1سے 10تک کے ملازمین کی بیواؤں کی ماہانہ گرانٹ 1950سے 5ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے بقول یہ فیصلے عوام کی حقیقی خوشحالی کیلئے کیے گئے ہیں، تاہم سرکاری ملازمین کیلئے کیے گئے یہ اقدامات بھی جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی کوششوں کو ناکام بنانے والی بے لگام مہنگائی کی وجہ سے ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ یہ پہلو بھی قابلِ لحاظ ہے کہ جہاں وسائل کی تنگی بسا اوقات لوگوں کو ناجائز راستے اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے وہیں حرص و ہوس کی پیاس کھربوں کی لوٹ کھسوٹ سے بھی نہیں بجھتی جس کا مشاہدہ پاکستان کے عوام اپنے مقتدر طبقوں کے طرزِ عمل کی شکل میں عشروں سے کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ عوامی طبقوں میں بھی فلموں، ڈراموں

میں دکھائی جانے والی زندگی کی چکا چوند کے پیچھے دوڑنے کے رجحان نے زندگی کو دشوار بنا رکھا ہے اور سادگی و میانہ روی کے اوصاف عنقا ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا سرکاری ملازمین کے لیے مزید فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرتی رجحانات میں بھی اصلاحات ضروری ہیں جو قوم میں اعتدال، سادگی اور قناعت کے اوصاف کو ازسرنو پروان چڑھا سکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اور عوامی رہنما اور مقتدر طبقے خود عملی مثال بنیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت نجی اداروں کے ملازمین کے حالات کا بھی جائزہ لے اور ان کے لیے بھی کوئی قانون سازی کرے کہ ان کی حالت سرکاری ملازمین سے کہیں ابتر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں