آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی جہاں خشک میوہ جات کا راج ہوتاہے ، وہیں ہمیں گرما گرم شکرقندی کے ٹھیلے اور اسٹالز بھی نظر آتے ہیں اور ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ موسمِ سرما میں شکر قندی سے ضرور لطف اندوز ہوا جائے۔ شکر قندی نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے اسے انگریزی میں ـ"Sweet Potato"کہا جاتا ہے ۔ کم قیمت کی وجہ سے یہ امیر و غریب سب کی دسترس میں ہے۔ خاص طور پر وہ طبقہ، جو اکثر اناج کی کمی کی وجہ سے غذائی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، شکر قندی کی بہترین خصوصیات سے اس کمی کو پورا کیا جاسکتاہے۔ شکر قندی کو بھون کر یا اُبال کر کھا یا جاتا ہے۔ اس کا حلوہ بھی بہت مزیدار ہوتا ہے، جس سے جسم کو گرمی اور تقویت ملتی ہے ۔ کالی مرچ اور نمک کے ساتھ اس کا استعمال اس کے مزے اور افادیت میں اضافہ کرتاہے ۔

شکر قندی کے بے پناہ فائدے ہیں، جیساکہ یہ دماغ کے لئے بے حد مفید ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شکر قندی بینائی تیز کرنے کے لئے بھی بہت زیادہ فائدے مندہے۔ مگر آپ یہ بات سن کے حیران ہو جائیں گے کہ شکر قندی کھانے وا لےپر موٹاپا طاری نہیں ہوتا۔ اس کی ان گنت خصوصیات کی وجہ سے اسے سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے حیران کن فوائد و خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

دل کی بیماریوں سے تحفظ

شکر قندی میں وافر مقدار میں موجود وٹامن B6دل کو بیماریوںسے تحفظ میں مدد دیتا ہے ۔ یہ ہوموسیسٹین لیول کو کم کرتا ہے، جو زیادہ تر دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ہوموسیسٹین کی زیادتی سے دل کی شریانیں سخت ہونے لگتی ہیں، تاہم وٹامن B6ان شریانوںمیں لچک پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شکر قندی میں موجود پوٹاشیئم دل کی دھڑکنوں کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

(نوٹ :دل کی مریض معالج کے مشورے کے بغیر شکر قندی استعمال نہ کریں ۔)

وٹامن Aسے بھرپور

شکر قندی وٹامن A سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ ایک اہم اینٹی آکسیڈنٹ ہے ۔ ایک شکر قندی میں اتنا وٹامن A موجود ہوتا ہے، جو آپ کے جسم کی ایک دن کیلئے درکار وٹامن A پورا کر سکتا ہے ۔ وٹامن A کئی اقسام کے کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جِلد کو سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں سے بچاتا ہے ۔ شکر قندی میں پایا جانے والا بیٹا کیروٹین آنکھوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے اور اس سے آنکھوں کی بینائی بہتر ہونے میں مدد ملتی ہے۔

بلڈ شوگر لیول میں توازن

شکر قندی میں موجود کیروٹینائڈ کپاؤنڈز جسم میں انسولین لیول درست رکھتے ہیں، جس سے خون میں شوگر کا لیول بہتررہتا ہے ۔ شکر قندی سے حاصل ہونے والا وٹامن B6شوگر کے مرض سے دور رکھنے میں مدد دیتاہے البتہ جو لوگ پہلے ہی شوگر کے مرض کا شکار ہوں، وہ شکر قندی کا استعمال محدود رکھیں۔

السر کیلئے فائدہ مند

شکر قندی میں موجود کیلشیئم، پوٹاشیئم، وٹامن B ، وٹامنC اور بیٹا کیروٹین آپ کو السرکے خطرات سے محفوط رکھتا ہے ۔شکر قندی میں موجود فائبر معدہ صاف رکھنے، کھانا ہضم کرنے اور جسم سے فاضل مادہ خارج کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے غذا کی نالی میں تیزابیت پیدا نہیں ہوتی۔

پھیپھڑوں کیلئے مفید

شکر قندی میں موجود وٹامنA پھیپھڑوں کو کئی بیماریوں سےتحفظ فراہم کرتا ہے۔ شکر قندی کے استعمال سے پھیپھڑوں کی بیماری امفیسیما (Emphysema) سے بچا جا سکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں 124,000افراد پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ لوگ جو باقاعدگی سےکیروٹینائیڈ والی غذا استعمال کرتےہیں ،ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 33فیصد تک کم ہو تا ہے ۔

جِلد اور بالوں کیلئے صحت بخش

شکر قندی میں موجود غذائی اجزا جِلد اوربالوں کے لیے زبردست کام کرتے ہیں ۔ وٹامنC ، وٹامن E اور بیٹاکیروٹین کا امتزاج جِلد کو چمکدار بناتاہے اور اس سے رنگ بھی صاف ہوتا ہے ۔ اس کے مستقل استعمال سے بال گھنے اور جھڑنا کم ہو جاتے ہیں ۔

اعصابی قوت میں بہتری

شکر قندی میں موجود غذائی اجزاء دماغ میں سوزش ہونے سے روکتے ہیں ۔ اس سے فائبرونوجن لیول بھی کنٹرول میں رہتا ہے جو جسم میں موجود ایک گلائیکو پروٹین ہے، جس کی زیادتی سے انسان کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ شکر قندی میں پایا جانے والا پوٹاشیئم دماغ کی نارمل کارکردگی میں مدد دیتا ہے۔

قوت مدافعت میں بہتری

شکر قندی میں موجود آئرن نہ صرف جسم کو توانائی مہیا کرتا ہے بلکہ اس سے جسم میں خون کے سفید اور سرخ خلیات تیزی سے بنتے ہیں، ڈپریشن دور ہوتا ہے اور قوت مدافعت بہترہے ۔ میگنیشیئم کی وافر مقدار بھی ذہن کو پرسکون رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

یہاں ایک بات کا دھیان رکھنا ضروری ہے کہ بہت کٹی پھٹی اور سوراخوں والی شکرقندی کا انتخاب نہ کریں کیوں کہ یہ کیڑوں کی آما جگاہ ہوتی ہیں جب کہ شکرقندی کو فریج میں رکھنے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ اسے روم ٹمپریچر پر ایک ہفتے سے زائد وقت تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں