آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زندگی میں خوش کیسے رہا جائے، اسے کارآمد کیسے بنایا جائے اور خوشگوار تعلقات کس طرح استوار کیے جائیں، ان موضوعات پر بہت سا مواد پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ البتہ ایک مطمئن، لمبی، خوشحال اور پُرامید زندگی کیسے گزاری جائے، جو کئی عشروں پر محیط ہو اور اس سارے سفر کے دوران زندگی کی غیرمتوقع اونچ نیچ کا کوئی شکایت کیے بغیر کس طرح سامنا کیا جائے، شاید ایسا قابلِ بھروسہ مواد ملنا قدرے مشکل ہے۔

اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کا زندگی بھر مشاہدہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کیا عوامل ہوتے ہیں جو انھیں زندگی بھر خوش و خرم رکھتے ہیں اور انھیں بھرپور زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے، ہارورڈ میڈیکل اسکول نے یہی کام کیا ہے۔

ہارورڈ نے Adult Developmentکے نام سے دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق کی ہے۔ ماہرین اس تحقیق کو میڈیکل سائنس کی دنیا میں ایک نایاب کوشش قرار دے رہے ہیں، جس میں صرف صحت مندافراد کو شامل کیا گیا ہے۔

تحقیق میں تین طرح کے طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کا جوانی سے لے کر بڑھاپے تک کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ مشاہدے میں شامل افراد پر یہ اسٹڈی 6 عشروں سے لے کر 8 عشروں تک بغیر کسی وقفے کے کی گئی ہے۔

پہلے نمونے میں 1920ءکے آس پاس پیدا ہونے والے سماجی طور پر مراعات یافتہ 268 ہارورڈ گریجویٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ دوسرے نمونے میں 1930ء کے آس پاس پیدا ہونے والے456سماجی طور پر پسماندہ اور اندرونی علاقوں سے تعلق رکھنے والے’بلیو کالرز‘ کو لیا گیا ہے۔ تیسرے نمونےمیں 1910ء کے آس پاس پیدا ہونے والی مڈل کلاس کی 90باصلاحیت اور ذہین خواتین کو لیا گیا ہے۔ تینوں نمونوں پر کی جانے والی تحقیق بالترتیب انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت ، ایڈلٹ ڈیویلپمنٹ اور ویمن ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے دنیا کی طویل ترین اسٹڈی ہے۔

تقریباً ایک ہزار افراد پر ایک صدی کی تحقیق سے حاصل ہونے والے مواد سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر جارج ویلانٹ نے اس تحقیق پر 30سال تک کام کیا ہے۔ انھوں نے اس تحقیق کی روشنی میں خوش و خرم زندگی اور بھرپور زندگی گزارنے کے 6اصولوں کی نشاندہی کی ہے۔

سگریٹ نوشی اور الکوحل سے پرہیز

یہ ایک عام سی بات ہے لیکن شاید ہم میں سے کوئی بھی زندگی پر اس کے اثرات پر غور نہیں کرتا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 50سال کی عمر تک سگریٹ نوشی سے دور رہنا، صحت مند زندگی کا سب سے بڑا جزوہے جبکہ کالج کے زمانے سے سگریٹ نوشی شروع کرنے والوں میں (30سال تک ایک پیکٹ یا اس سے زائد سگریٹ پینا) قبل از وقت موت کے واقعات زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔

الکوحل کا زیادہ استعمال صرف آپ کی صحت ہی نہیں بلکہ آپ کے سماجی تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کچھ لوگ الکوحل اس لیے لیتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، تاہم اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الکوحل بذات خود دباؤ اور ڈپریشن کی وجہ بنتا ہے اور ایسا انسان طویل مدت میں کم ہی خوش رہتا ہے۔

زیادہ تعلیم خوشی کا باعث

اس بات پر غالباً کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ تحقیق میں ہارورڈ گریجویٹس، پسماندہ بلیو کالر مزدوروں کے مقابلے میں 70 سال کی عمر میں بھی زیادہ صحت مند پائے گئے۔ زیادہ تعلیم کے حصول کے سفر میں انسان بہتر و صحت مند عادتیں اور طرز زندگی اختیار کرتا ہے۔

خوشگوار بچپن

ایک بچے کی بڑا ہوکر آمدنی کیا ہوگی! اس کی پیشگوئی اس بات سے کی جاسکتی ہے کہ اسے بچپن میں کتنا پیار ملا ہے۔ ’ایک بچے کے بڑا ہوکر زیادہ آمدنی کمانے کا دارومدار اس بات پر ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کے والدین کس سوشل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بچپن میں اس کے والدین نے اسے کتنا چاہا جانے والا محسوس کروایا تھا۔ تاہم تحقیق سے اُمید کی ایک کرن یہ اُبھر کر بھی سامنے آئی ہے کہ بچپن میں پیار کی کمی کے زخموں کو بلوغت میں اچھے پیار کرنے والے جیون ساتھی یا دوستوں کے ذریعے بھرا جاسکتا ہے۔ انسان کو پیار کی ضرورت بچپن میں سب سے زیادہ ہوتی ہے، تاہم پیار کا زندگی کے کسی بھی حصے میں ملنا ایک مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ یہاں ’دیر آید درست آید‘ والی کہاوت بالکل موزوں ہے۔

تعلقات ہی سب کچھ ہوتے ہیں

خاندانی دولت کامیابی کا تعین نہیں کرتی۔ زندگی میں کامیابی کا تعین کرنے والا سب سے بڑا عنصر یہ ہے کہ ’آپ زندگی میں لوگوں سے کس طرح پیش آتے ہیں‘۔تینوں نمونوں میں شامل افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ آپ کی کامیابی کا دارومدار آپ کی ذہانت کی سطح یا والدین کی کلاس سے نہیں بلکہ آپ کے سماجی رویہ (Social Aptitude) یا دوسرے الفاظ میں جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence)سے ہوتا ہے۔ یہ بات ہماری کامیابی کا تعین کرتی ہے کہ ہم تعلقات بنانے اور انھیں برقرار رکھنے پر کتنی محنت کرتے ہیں۔ اس نکتہ کا حاصل مطلب یہ ہے، پیار زندگی ہے۔

مسائل سے نمٹنے کا رویہ

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مشکل لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ تکلیف دہ سوچوں اور جذبات پر کس طرح ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ جب چیزیں ٹین ایجرز کی مرضی اور منشاء کے مطابق نہیں ہوتیں تو وہ چیختے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور خود کے علاوہ باقی سب کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس بات کے اچھے نتائج نہیں نکلتے۔ ایثار، انسان دوستی، تطہیر، ٹھہراؤ اور خوش مزاجی سے میچور شخصیت کا تاثر جاتا ہے۔ جو لوگ مسائل اور مشکلات سے میچور انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی خود غرض و بچگانہ مزاج شخص کی طرح ردِعمل نہیں دِکھاتے، تو وہ اپنے وقت سے ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔

دوسروں کیلئے سوچنا

آپ نوجوانوں کے کنسلٹنٹ، کوچ، مینٹوراور گائیڈ بنیں۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 50سال کی عمر میں ایسے لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں تین سے چھ گنا زیادہ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے اور خود سے مطمئن تھے، جو اپنے اندر سے ٹین ایج والی خود غرضی کو نہیں نکال سکے۔ ٹین ایج میں خود غرض رہنا ٹھیک ہے کیونکہ اس عمر میں آپ خود سیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں اور آپ کو اپنا مستقبل بنانا ہوتا ہے، تاہم 30سال کی عمر کے بعد سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خود غرض سے بے غرض بن جائیں۔ تحقیق میں بتایا گیاہے کہ اپنی عمر کے ساتویں عشرے میں وہ لوگ زیادہ خوش و خرم اور مطمئن تھے، جنھوں نے 30سے 45 سال کی عمر میں معاشرے کو لوٹانا شروع کردیا تھا۔

تعلیم سے مزید