آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شام میں سات سال سے زائد جاری رہنے والی خانہ جنگی اور حکومت مخالف مقامی اور غیرملکی قوتوں کی زور آزمائی کے باوجودبشارالاسد ہی حکمراں ہیں۔

گزشتہ دنوں امریکہ نے یکایک شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے پر بیشتر اراکین کانگریس اور اراکین سینیٹ شدید ناراض ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ریپبلکن پارٹی کے رہنما بھی شدید ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ ان سب کو صدر ٹرمپ سے یہ شکایت ہے کہ اتنے اہم فیصلہ میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یوں بھی وائٹ ہائوس کے زیادہ تر اعلیٰ افسران کو بھی یہ شکایت ہے کہ صدر اپنے فیصلے صادر کرتے ان کے مشورے اور تجاویز پر کان نہیں دھرتے۔

شام کے مسئلے میں صدر ٹرمپ کا استدلال یہ ہے کہ امریکہ وہاں صرف داعش کے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مداخلت کار بنا تھا اب داعش کے شام میں تقریباً ٹھکانے ختم کردیئے گئے ہیں اس لیے وہاں مزید رہنے کا جواز نہیں بنتا۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ اعلان داغ دیا کہ امریکی فوجی مکمل طور سے شام نہیں چھوڑ رہے ہیں ،امریکہ شام میں اپنے دو سو سے زائد فوجی اور بیشتر فوجی ٹھکانوں پر اپنا قبضہ قائم رکھے گا۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے، مگر اس کے باوجود امریکی میڈیا امریکی صدر کے شام سے انخلاء کے اعلان کو ایک طرح سے اس کو شامی حکومت اور روسی صدر پیوٹن کی فتح قرار دے رہا ہے۔ میڈیا اس پر بھی اب تنقید کررہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شام میں امریکی فوجی روانہ کرتے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہاں سے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اورامن کا قیام یقینی بنائے گا، مگر اس کے برعکس امریکی مداخلت سے وہاں دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوا جس پر ترکی سمیت شامی حکومت نے امریکہ سے زبردست احتجاج کیا۔

امریکی تھنک ٹینک جو مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر رکھتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ امریکی صدر نے کبھی اس پر شائد غور نہیں کیا کہ کئی برسوں سے ہزاروں امریکی شہری مشرق وسطیٰ میں جنگیں کرتے ہوئے لقمہ اجل بنے چکے ہیں۔ شام کی جنگ میں چھلانگ لگانے سے قبل یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ جنگ کہاں طول کھینچے گی یا یہ کہ امریکہ کب تک شام میں اپنی جنگی سرگرمیاں برقرار رکھ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ صدر ٹرمپ نے اس اہم ترین دفاعی معاملہ میں اپنے وزراء اور متعلقہ اداروں سے بھی صلاح مشورہ نہیں کیا۔ جس معاملات پر صدر معلومات نہیں رکھتے، اس ضمن میں متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ صدر کی عجلت پسند پالیسیوں کی وجہ سے ان کے وزراء اور مشیروں کی بہت سبکی ہورہی ہے۔

اس طرح یمن کی جنگ کے مسئلے میں بھی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی خوب حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے یمن میں بہت بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا، اس پر ستم یہ کہ وہاں تاریخ کا بدترین قحط پڑا اور خوراک کی کمی کے سبب ہزاروں بچوں اور افراد کی جانیں تلف ہوئیں۔ صدر نے ایک لمحہ کو بھی نہیں سوچا کہ ایک ملک کو اس شدید ترین عذاب میں مبتلا کرنے کا امریکہ کو کیا فائدہ۔اب امریکی حلقوں میں اس پر بھی بات اٹھ رہی ہے کہ 9/11 کے بعد افغانستان میں جو امریکی اور نیٹو کے فوجی طویل المدت جنگ لڑتے رہے اس میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں ملینزآف ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا اس کے باوجود امریکہ کو صلے میں نفرت، شدت پسندی سے واسطہ پڑا،تاہم شام سے امریکی انخلاء کے اعلان پر بعض امریکہ کے عرب اتحادیوں کے تحفظات ہیں ،جس پر وائٹ ہائوس میں سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے، کیونکہ ایران نےکچھ عرصہ قبل شام میں داعش کے ایک اہم ٹھکانے پر میزائل داغا تھا یہ ایک پاور فل میڈیم رینج میزائل تھا جس سے بہت نقصان ہوا اور داعش کے قدم اکھڑ گئے۔ اس طرح شام نے امریکہ و اسرائیل اور سعودی عرب کو ایک پیغام دیا تھا۔ یہ میزائل 750 میل دور سے داغا گیا تھا۔

حال ہی میں امریکہ کے وزیر دفاع نے بیان دیا کہ امریکہ شام سے مکمل انخلاء نہیں کررہا ہے ، وہاں اس کے فوجی رہیں گے اور اپنا کردار ادا کرتے ہیں گے۔ مکمل انخلاء میں ابھی وقت درکار ہے۔ وائٹ ہائوس کی سیکریٹری سارہ سنیڈرس نے ایک ہینڈ آئوٹ میں بتایا کہ امریکہ شام سے اپنے فوجی واپس بلوارہا ہے ،تاہم چند سو فوجی وہاں تعینات رہیں گے یہ مکمل انخلاء نہیں ہے۔ مناسب وقت پر باقی فوجیوں کو بھی امریکہ واپس بلوالے گا، اس ضمن میں وقت کا کوئی تعین نہیں کیا گیاہے۔

امریکی فوجی انخلاء کے حوالے سے شام میں آباد شمالی علاقے کے کرد رہنمائوں نے زیادہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں شام کی سرکاری فوجوں اور داعش کے دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔ صرف امریکہ ہمیں ان سے تحفظ فراہم کرہا تھا۔

واضح رہے کہ اسی اور نوے کی دہائیوں میں امریکہ شامی یا عراقی کردوں کو اسلحہ دے کر ان حکومتوں سے لڑاتا رہا ہے اور پھر واپس ہوگیا تو ان کردوں کا کوئی پرسان حال نہ رہا ،ایسے میں کردوں کی ان عرب ملکوں کی حکومتوں سے مسلسل جنگ جاری رہتی ہے۔ کردوں کو ایک اور خطرہ ہے، وہ یہ کہ ترکی نے بھی شام میں مداخلت کی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ کردوں کو اسلحہ دے رہا ہے جو ترکی کی فوجوں کے خلاف استعمال ہوگا، کیونکہ شمالی شامی علاقوں اور ترکی کے مغربی پہاڑی علاقوں میں ترک آباد ہیں جو ترکی سے آزادی مانگتے ہیں۔ اس طرح عراقی کردوں، شام کردوں اور ترکی میں آباد کردوں کو امریکہ نے جب جب ضرورت پڑی استعمال کیا اور پھر آنکھیں پھیر لیں ۔یہ تماشہ چار دہائیوں سے جاری ہے ،مگر کرد بے بس ہیں جبکہ چار ملکوں میں بسی ان کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے اور کردوں کا مشہور سپہ سالار صلاح الدین ایوبی ہے، جس نے مسلمانوں کو بیت المقدس فتح کرکے دیا تھا جس کا بدلہ برطانیہ اور فرانس نے بیسویں صدی میں کردوں سے لیا کہ ان کو چار ملکوں میں بانٹ گئے۔ کردوں کی جدوجہد کی وجہ سے ترکی نے امریکہ سے احتجاج کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی شام سے نہ بلوائے اس سے یہاں جو طاقت کا خلاء پیدا ہوگا اس کو کسی طرح کرد پورا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، مگر امریکہ چند سو فوجی شام میں رکھ رہا ہے، جس کے لیے کردوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

فی الوقت شام میں شامی سرکاری فوجوں کا لگ بھگ ستر فیصد علاقے پر قبضہ ہے، جبکہ مقامی باغی فوجیوں کے پاس بیس فیصد علاقے گرفت میں ہیں۔ باقی حصے میں مختلف حکومت مخالف جنگجو قابض ہیں اور شام کی سرکاری فوجیں بتدریج پیش قدمی کرکے ان علاقوں پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں ایک سو سے زائد ممالک کے 40ہزار افراد دہشت گردوں کے ساتھ جاکر ملے جس میں داعش سرفہرست تھی جبکہ برطانیہ کے تحقیقی ادارے کے مطابق 2018 تک صرف داعش میں 80 ممالک کے نوجوان افراد کی تعداد 42 ہزار تھی، مگر اب بدلتے حالات میں داعش بکھرچکی ہے۔ شام سے داعش کے ایک ہزار سے زائد لڑاکا شدت پسند عراق کی طرف ہجرت کرگئے ہیں۔ سرکاری فوجوں کے پہ درپہ حملوں اور روسی ، امریکی بمباری نے ان کے قدم اکھاڑ دیئے، دوسری طرف عراقی فوجی ترجمان نے حال ہی میںکہا ہے کہ داعش کے لڑاکا شام سے فرار ہوکر عراق کے جنگلوں اور پہاڑوں میں جمع ہورہے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہاں پرانی روش اپناتے ہوئے سرمایہ اکٹھاکرنے کے لیے وارداتیں شروع کردی ہیں۔

شام میں عرب منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے شام میں اپنے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے ، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ شام کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ شام کی ازسرنو تعمیر کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بارے میں تمام ترقی یافتہ ممالک سےاپیل کر رکھی ہے کہ، شام میں جو قیامت خیز تباہی ٹوٹی ہے اس نے نہ صرف لاکھوں انسانی جانوں کو تلف کردیا ہے بلکہ ملک کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ہے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید