آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب چین ٹیک کلچر میں تبدیل ہو کر’ سلیکون ویلی‘ کے لئے خطرہ بن رہا ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں آپ کو ہر طرف ’’اسٹارٹ اَپس‘‘ دکھائی دیں گا۔ شہر کے شمال مغربی سمت جائیں تو آپ ہائی ٹیک الیکٹرونکس زون میں پہنچ جائیں گے، جہاں فلک بوس سپرا سٹور پر ایک بینر نمایاں الفاظ میں لکھا نظر آتا ہے ’’سرمایہ کاری کی بہار آنے کو ہے ‘‘۔یہ علاقہ ژونگ گوانکن (Zhongguancun) کہلاتا ہے ۔ یہاں ایک تنگ گلی ’انٹر پرینیورشپ اسٹریٹ‘‘مشہور ہے،جہاں کیفیز اور اسٹارٹ اَپس چلانے والی چینی موبائل کمپنیوں کی دیدہ زیب دکانیںایک قطار میں نظر آئیں گی۔

اسی گلی میں واقع گیریج کیفے میں چائے اور کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے نیم اندھیرے میں انٹر پرینیورز سرجھکائے لیپ ٹاپ پر مصروف نظر آئیں گے۔ یہ علاقہ چینی اسٹارٹ اَپس کی جنت کہلاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل کیفے گیریج کے منتظمین نے دوپہر کے کھانے کے وقت سرمایہ کاروں سے ملنے کے لئے ایک نمائشی بحث و مباحثے کا سیشن رکھاتھا۔ کیفے فرش سے چھت تک بلیٹن بورڈ آرڈرز کے لئے اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔

یہاں پر سڈنی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، چینی کمپیوٹر کمپنی میں دو سال کام کرنے والے 27سالہ نوجوان انٹر پرینیور تیان ینگ (Tian Yang) ایسی سوشل نیٹ ورکنگ ایپ بنا رہے ہیں، جو ایک سیکنڈ میں دو ارب لوگوں میںسے چہرہ پہچان لے گی۔ یہ ایپ نہ صرف دوستوں کو آپس میں ملائے گی بلکہ دشمنوں اور مجرموں کا بھی پتہ لگالے گی۔ تیان ینگ کہتے ہیںکہ رواں سال اسے مکمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ گیریج کیفے سے متصل دیگر اسٹارٹ اَپس میں آن لائن ویڈیو ایجوکیشن سائٹ ’’ٹین تھائو زنڈ کنٹریز ‘‘ قابل ذکر ہے۔ یہ چینی طالب علموں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ بڑھتے ٹریفک اور دھند کے ساتھ ’’چائنیز بُومنگ اسٹارٹ اَپ سین‘‘ اب چین کے بڑے شہروں کا معمول بن چکا ہے۔

کالج گریجویٹس سرکاری اداروں میں ملازمت تلاش کرنے کے لئے اسٹارٹ اَپ ایپس استعمال کر رہے ہیں۔والدین بہت خوش ہیں کہ ان کے بچے ثقافتی انقلاب کے خلا کے بعد اسٹارٹ اَپ ایپس بہت اشتیاق سے استعمال کررہے ہیں۔یہ ان کے لیے فولاد سے بھرپور خوراک کی مانند ہے ،جو ان کی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہوئے شعور و ادراک میں اضافہ کررہی ہیں، لیکن ان کی اکثریت اپنی ملازمت سے مطمئن نہیں ہے۔2012ء کے گیلپ سروے کے مطابق94فیصد چینی اپنی ملازمت سے غیر مطمئن ہیں۔ سرکاری و نجی فنڈنگ سے شروع کیے جانے والے چینی اسٹارٹ اَپس کو انٹرپرینیورز کی نئی نسل (کالج گریجویٹس) متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کے لئے اپنے ہی گھر میں کامیابیوں کی بے شمار کہانیاں ہیں۔ پہلے یہ چینی نوجوان اسٹیو جابس جیسا بننا چاہتے تھے، تاہم اب ان کے رول ماڈلز جیک ما، روبن لی اور لی جن جیسے کھرب پتی چینی کاروباری افراد ہیں، جنہوں نے ثابت کر کے دکھایا ہے کہ اپنے ہی ملک میں بیٹھ کر دنیا پر حکمرانی کیسے کی جاتی ہے۔ ان میں سب سے اہم نام آن لائن شاپنگ پورٹل علی بابا ہے، جس نے حال ہی میں 2018ء کی سیل کے دوران 30ارب 80کروڑ ڈالر کی چیزیں فروخت کیں۔ دنیا کی سب سے بڑی موبائل ساز کمپنی ’’زیاؤمی‘‘ (Xiaomi) کے سی ای او لی جن ہیں، جنہوں نے ہانگ کانگ میں اپنا آن لائن شاپنگ پورٹل بنایا ہے، جس سے 10بلین ڈالر آمدنی متوقع ہے۔

آن لائن شاپنگ کے باعث اب چینی آن لائن خریداری کرتے ہیں،کوئی گاڑی سائیکل کرائے پر چاہئے تو وہ بھی موجود ہے۔ لینڈنگ بائیک رینٹل فرم ’’اوفو‘‘ (OFO) کے 27سالہ سی ای او دائی وئی (Dai Wai)  2بلین ڈالر کما چکے ہیں۔ ماضی میں چینیوں پریہ الزام لگتا رہا ہے کہ انہوں نے ہر چیز امریکی ٹیکنالوجی کی نقل میں بنائی ہے، تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔ اگر ہم چار عظیم ایجادات قطب نما، گن پائوڈر، کاغذ سازی اور پرنٹنگ کو قرار دیں تو چینیوں کی بھی چار عظیم نئی ایجادات مشترکہ بائیکس، ای کامرس، موبائل ادائیگی اور تیز رفتار ریلوے قرار دی جاسکتی ہیں، جنہوں نے چین کے لئے دنیا کا معاشی حکمران بننے کے ساتھ سیاسی و دفاعی طور پر عالمی طاقت بننے کی راہیں بھی ہموار کردی ہیں۔ چین کواب بھی زیادہ تخلیقی انٹر پرینیور کلچر کو پروان چڑھانا ہو گا،جیسے جیک ما نے کہا، ’’ہم تخلیقیت و اختراع کے دور میں جی رہے ہیں، جس کا آئیڈیا جتنا منفرد ہوگا،وہی فاتح ہوگا‘‘۔

چین میں ٹیک انقلاب آپ کو شہری زندگی میں ہر جگہ نظر آئے گا، جس کے اثرات اب پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آن لائن بینکنگ، بکس اورتعلیم کے بعد اب ہمارے یہاں بھی ای کامرس عوامی سطح پر کافی مقبول ہوگیا ہے۔ ہم کافی کپ کے لئے آن لائن ادائیگی کرسکتے ہیں یا اپنے موبائل سے اسکین کئے ہوئے QRکوڈ سے چیزوں کی تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔ اخبارات میں اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کرانے کا سہرا’’ جنگ میڈیا مارکیٹنگ‘‘ کے سر جاتا ہے، جو اپنے کلاسیفائڈ اشتہارات میں لوگوں کی سہولت کے لیے QRکوڈز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔

کامرس سے مزید