آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیلی ویژن نگری میں فلم انڈسٹری کی جانب سفر کرنے والوں کی فہرست میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ فلم انڈسٹری کے نئے جنم اور اس کی شکل بدلنے میں نئی نسل کے پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ فن کاروں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ نئی نسل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے لڑکیاں فلم انڈسٹری میں کام کرنے لگے۔ تعلیم یافتہ اور فن کارانہ صلاحیتوں سے مالا مال فن کارہ منشا پاشا نے بھی پہلے اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر شوبزنس انڈسٹری میں قسمت آزمانے آگئیں۔ منشا پاشا کا تعلق وادی مہران کے خُوب صورت شہر حیدر آباد سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے روشنیوں کے شہر کراچی کا رُخ کیا۔ شہر قائد کی نجی یونی ورسٹی سے میڈیا کے شعبے میں گریجویشن کیا۔ ابتداء میں انہوں نے ٹیلی ویژن ڈراموں میں مختلف کردار ادا کرکے اپنے فن کو دھیمی آنچ میں پکا کر کُندن بنایا اور پھر وہ فلموں کی جانب آئیں۔ پاکستان اور چائنا کے اشتراک سے بننے والی فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس فلم میں ناقدین نے ان کی پرفارمنس کو سراہا۔ منشا پاشا نے ٹیلی ویژن پر سپر ہٹ ڈراموں میں کام کیا اور سینئر فن کاروں کی موجودگی میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ رواں ماہ 22؍مارچ 2019کو ان کی فلم ’’لال کبوتر‘‘ ریلیز ہو رہی ہے، جس میں وہ بہ طور ہیروئن جلوہ گر ہو رہی ہیں۔ یہ فلم جیو کے تعاون سے پاکستان کے سینما گھروں کی زینت بنے گی۔ گزشتہ دنوں ساحل سمندر پر واقع ان کی رہائش گاہ پر ہم نے منشا پاشا سے ہلکی پھلکی بات چیت کی، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

س:۔ آپ نے درجنوں ڈراما سیریلز میں کام کیا اور اب فلموں میں بھی کام کا آغاز کر دیا ہے، ان دونوں میڈیم میں کیا واضح فرق محسوس کیا؟

منشا پاشا:۔ فلم ایک طاقت ور میڈیم ہے۔ اس بات سے کس کو انکار ہے، جب کہ ٹیلی ویژن کی رسائی آپ کے گھر تک ہے۔ دونوں میڈیم ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ دونوں کا آپس میں کوئی ملاپ نہیں۔ فلم میں پری اور پوسٹ پروڈکشن میں زیادہ وقت لگتا ہے، جب کہ فلم کی شوٹنگ ایک ڈیڑھ ماہ میں مکمل کر لی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ڈراموں کی شوٹنگز میں 6سے 8ماہ لگ جاتے ہیں۔ ایک تو یہ نمایاں فرق ہے ،پھر فلم میں ڈراموں کے مقابلے میں تھوڑا لائوڈ بولنا پژتا ہے،مجھے تو دونوں میڈیم میں کام کرنے میں بہت مزہ آ رہا ہے۔ دُعا کریں میری فلم ’’لال کبوتر‘‘ سپر ہٹ ثابت ہو۔

س:۔ فلم کے پروڈیوسر کامل اور ہانیہ نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ دونوں بہن بھائی بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور اپنے ملک کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر کمال خان نے سب فن کاروں سے عمدہ کام لیا۔ ’’لال کبوتر‘‘ کی کہانی، کراچی کے اسٹریٹ کرائمز کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔ اس فلم میں کراچی کی سچی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میرے ساتھ ہیرو احمد علی اکبر ہیں، جو اس سے قبل عاصم رضا کی مقبول فلم ’’ہومن جہاں‘‘ میں کام کر چکے ہیں۔ فلم کی کہانی بہت مختلف ہے۔ ہم سب فن کاروں نے اپنے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرا ہے۔

س:۔ پاکستانی فلم سازوں کو سینما گھروں کی مانگ پوری کرنے میں اور کتنا وقت لگے گا۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں فلم سازی کا عمل بہت سست ہے، جب کہ سینما گھروں کی ڈیمانڈ سال میں کم از 50،60فلمیں ہیں؟

منشاپاشا:۔ ان دِنوں بالی وڈ فلموں کی ہمارے سینما گھروں میں نمائش پر وقتی پابندی ہے، جو جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ پابندی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ میری خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین ثقافتی ایکسچیج ضروری ہے۔ بھارت میں ہمارے گلوکاروں اور فن کاروں کی بہت مانگ ہے۔ وہاں ہمارے ڈرامے بہت دیکھے جاتے ہیں۔ ہم امن کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے بھی بھارت کو امن کا پیغام دیا ہے۔ بہت جلد صورت حال معمول پر آ جائے گی۔ جہاں تک پاکستانی فلموں کی رفتار بڑھانے کی بات ہے۔ چند برس اور لگیں گے۔ ہمارے فلم ساز سینما گھروں کی مانگ پوری کریں گے اور پھر ماضی کی طرح ہر طرف پاکستانی فلمیں اور ان کی موسیقی کے چرچے ہوں گے۔ ایک مرتبہ پھر سینما گھروں میں پاکستانی فلموں کا راج ہو گا۔

س:۔ آپ کی فلم کے ساتھ ایک اور فلم ریلیز ہو رہی ہے، ایسے میں آپ نے کتنی تیاریاں کی ہوئی ہیں؟

منشا پاشا:۔ میرا کسی سے مقابلہ نہیں ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ یوم پاکستان کے موقع پر دو تین فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔اداکارہ ارمینہ خان سے میری بہت اچھی دوستی ہے۔ میں اس کی فلم کی کام یابی کے لیے بھی دُعا گو ہوں۔ ہماری فلم کی کہانی دونوں فلموں سے الگ اور مختلف ہے۔

س:۔ آپ نے درجنوں ڈراما سیریلز میں کام کیا، آپ کے دل کے قریب کون سی ڈراما سیریل ہے؟

منشا پاشا:۔ ویسے تو میرے سارے ہی ڈرامے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ سپر ہٹ ڈراما سیریل زندگی گلزار ہے، کا کریکٹر ’’سدرہ‘‘ میرا نام یوسف ہے، کا کردار مدیحہ اور خود غرض کا دل چسپ کردار عبیر بہت پسند ہے۔ میرے دیگر مقبول ڈراموں میں ہم سفر، شہرِ ذات، مدیحہ مدیحہ، وراثت، گھونگھٹ، محبت صبح کا ستارہ ہے، میرے اپنے، تمہارے سوا، وفا، آنگن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ٹیلی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔

س:۔ اپنی فیملی کےبارے میں کچھ بتائیں؟

منشاپاشا:۔ میرا تعلق حیدر آباد سندھ ہے، لیکن اب میں کراچی میں رہتی ہوں۔ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے، امی اور ابو ڈاکٹرز ہیں۔ ہم چار بہنیں ہیں، میں سب سے چھوٹی ہوں۔

س:۔ دوران تعلیم آپ کیا بننا چاہتی تھیں؟

منشا پاشا:۔ مجھے کم عمری سے ہی اداکاری کا شوق تھا۔ بچپن میں کہانیاں بہت شوق سے پڑھتی تھی۔ ڈرامے دل چسپی سے دیکھتی تھی۔ دھوپ کنارے، میرا سب سے زیادہ پسندیدہ ڈراما ہے، جس میں راحت کاظمی، ساجد حسن نے لاجواب اداکاری کی تھی۔

س :۔پسندیدہ گلوکار کون سے ہیں؟

منشاپاشا:۔ میں عابدہ پروین کی آواز کی دیوانی ہوں۔ عاطف اسلم اور سوچ بینڈ کے گانے شوق سے سُنتی ہوں ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں