آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وطن عزیز کی معاشی تاریخ میں سب سے پریشان کن سال2012ء کے بعد2013ء کا آغاز ہو چکا ہے۔ کسی مثبت تبدیلی کی توقعات کے برعکس ساری علامات اس بات کی عکاس ہیں کہ سال نو گزشتہ سال سے چنداں مختلف نہیں ہو گا۔ جب کہ پاکستان کی معیشت مزید بحران سے گزرتی نظر آ رہی ہے اس بات کی دور دور تک کوئی توقع نہیں کہ عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری رونما ہو گی۔ ہم اس کالم میں گزشتہ سال کی معاشی مشکلات سمیت2013ء اور2014ء میں پیش آنے والی مشکلات کا ایک جائزہ لیں گے۔
آج ہم جس معاشی صورتحال کے دہانے پر کھڑے ہیں صرف سال2012ء میں پیدا ہونے والی صورتحال اس کی تنہا ذمہ دار نہیں بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ معاشی صورتحال گزشتہ پانچ سالوں کی اقتصادی بدنظمی اور فریب دہی کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ حکومت کے دعوؤں کے برعکس اسے ایک بدحال معیشت ورثے میں ملی تھی حقائق کے تجزیئے کے لئے تیارکردہ سرکاری دستاویزات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسے ورثے میں ایک مستحکم معیشت ملی تھی…ایک ایسی معیشت جو قیمتوں میں متعلقہ استحکام کے ساتھ7.0فی صد سالانہ کی شرح سے نمو پا رہی تھی۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو نومبر2008ء میں بیل آؤٹ پیکیج کے حصول کی کوششوں کے دوران تحریر کیا تھا۔ اسی وجہ سے حکومت نے اقتدار کا آغاز فریب دہی اور عوام کو

گمراہ کرنے کی چالوں کے ساتھ کیا۔
مارچ 2008ء میں اقتدار سنبھالنے والی موجودہ حکومت عمومی طور پر معاشی چیلنجوں اور خاص طور پر بیرونی دھچکوں سے نمٹنے کی صلاحیت سے کسی طور بہرہ ور نہیں تھی۔ معاشی ٹیم میں لگاتار تبدیلیاں موجود حکومت کا طرہ امتیاز رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں چار فنانس منسٹر، چھ فنانس سیکریٹری، مرکزی بنک کے چار گورنر، ایف بی آر کے چھ چیئرپرسن اور پلاننگ کمیشن کے چار ڈپٹی چیئرپرسن تبدیل کئے گئے۔ معاشی ٹیم میں لگاتار تبدیلیوں کی وجہ سے در آئے عدم استحکام کو مزید پیچیدہ بنانے کے لئے ملک کو چھ ماہ تک فنانس، کامرس، پیٹرولیم اینڈ نیچرل ری سورسز اور ہیلتھ منسٹروں کے بغیر چلایا گیا۔ مختصراً یہ کہ معیشت کبھی بھی حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں تھی اور اس کے وہی بھیانک نتائج مرتب ہوئے جو مرتب ہونے چاہئے تھے۔
گزشتہ پانچ سالوں میں معاشی نمو3.0فی صد سالانہ کی شرح سے سست پڑ گئی، صنعتی نمو صفر درجے پر ساکت ہے، سرمایہ کاری50سالوں میں جی ڈی پی کی12.5فی صد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کی7.0اوسط پر پہنچ گیا اور سرکاری قرض دگنا ہو گیا۔ اس عرصے کے دوران غیر ملکی قرض میں20بلین ڈالر کا اضافہ ہوا، بیرونی سرمایہ کاری کے چشمے خشک ہو گئے، روپے کی قیمت میں36فی صد کمی ہوئی اور زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک ترین سطح تک کم ہو گئے۔ اسی دوران پی ایس ایز کی رگوں سے خون جاری رہا اور اس مد میں ٹیکس دہندگان کی رقم کے300بلین سالانہ سے زائد صرف کئے گئے۔ غربت اور بطور خاص نوجوان طبقے میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا اور سب سے اہم یہ کہ لگاتار50 مہینوں سے زائد عرصے تک افراط زر دو ہندسی شرح کے ساتھ برقرار رہی۔ وطن عزیز کے ریلویز، پی آئے اے، پاکستان اسٹیل، واپڈا اور اوجی ڈی سی جیسے اہم ترین محکمے باقاعدہ ’نظم و ضبط‘ کے ساتھ تباہ کر دیئے گئے اور حد تو یہ ہے کہ مرکزی بنک کو گویا فنانس منسٹری کے محض مالیاتی شعبے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سال نو کے آغاز میں ملک میں شرح نمو کم ہے۔ داخلی اور بیرونی سرمایہ کاری اپنی کم ترین سطح پر ہیں جب کہ ملکی قرضے، بے روزگاری اور غربت میں آسمان کی انتہا تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی اور بیرونی ادائیگیوں کا توازن آج سے پہلے کبھی بھی اتنی نازک حالت میں نہیں رہا کہ آج ملک قرضوں کی ادائیگیوں کے بحران کے بیچ میں کھڑا ہے، روپے کی قیمت میں بلا روک ٹوک کمی ہو رہی ہے اور پاکستان کو ہر صورت میں عالمی مالیاتی ادارے کے پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہے۔ الغرض، گزشتہ حکومت نے اپنی پانچ سالہ معاشی بدنظمی سے معیشت کی شکل کو ناقابل شناخت حد تک مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔2013ء اور 2014ء میں کیا ہو گا؟ مثبت عدم تبدیلیوں کے موجودہ تناظر میں ملکی معیشت کے زوال کی رفتار میں درج ذیل اسباب کی بنا پر مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اول، رواں سال میں ہم تین حکومتوں کو مسند اقتدار پر فائز دیکھیں گے…موجودہ حکومت، عبوری حکومت اور عام انتخابات کے بعد بننے والی نئی حکومت اور اس طرح کم از کم سال کے ابتدائی نصف حصے میں پالیسیوں کی مد میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس کے نتیجے میں معیشت مزید تیز رفتاری کے ساتھ بدحال ہوتی رہے گی۔ دوم، سرمائے کی بڑی مقدار میں آمد کی عدم موجودگی کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی ہو گی اور قرضوں کی عظیم ادائیگی کے باعث خدشہ ہے کہ ملک عالمی سطح پر نادہندہ ہونے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ سوم، وطن عزیز کے لئے سب سے پریشان کن سوال یہ ہے کہ کہیں انتخابات کے بعد ایک اور معاشی طور پر غیر ذمہ دار حکومت تو مسند اقتدار پر فائز نہیں ہو جائے گی۔ چہارم، کوئی بھی واحد جماعت تن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ایک اتحادی حکومت کی تشکیل نا گزیر دکھائی دیتی ہے جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان تمام اسباب کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجھے آئندہ دو سالوں میں معاشی نمو صرف3فی صد کے آس پاس، سرمایہ کاری میں مزید کمی، بے روز گاری اور غریب میں اضافہ اور صنعتی نمو ساکت دکھائی دے رہی ہے۔ انتخابات ’جیتنے‘ کے لئے غیر محتاط اصراف کے باعث اقتصادی صورتحال مزید زوال پذیر ہو سکتی ہے۔ بڑے بجٹ خسارے اور روپے کی قدر میں تیز کمی کے باعث سرکاری قرض میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔ سب سے اہم یہ کہ پاکستان کو ادائیگیوں کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہو گا۔ خاص طور پر آئندہ دو سالوں میں جاری کھاتے کے خسارے کو پُر کرنے کے علاوہ قرضوں کی مد میں5.5-6.5بلین ڈالر کی خطیر رقم کی ادائیگی ملک کو نادہندہ ہونے کے قریب پہنچا سکتی ہے۔ وطن عزیز کے پاس نادہندہ ہونے سے بچنے کا واحد راستہ آئی ایم ایف سے مالی امداد کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جتنا جلد عالمی مالیاتی ادارے سے اعانت حاصل کرے یہ اتنا ہی پاکستان کے لئے بہتر اور عوام کے لئے نسبتاً کم تکلیف دہ ہو گا۔ ادائیگیوں کے توازن کا بحران مارکیٹ میں لازمی طور پر غیر یقینی اور گھبراہٹ کی صورتحال کو جنم دے گا جس کے باعث روپے کی قدر میں زبردست کمی ہو گی اور سرمائے کو گویا پر لگ جائیں گے۔ پاکستان کے لئے بدترین وقت ابھی آنا ہے۔
پاکستانی قوم نے جو کچھ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بویا ہے اب اس کی کٹائی کا وقت آ چکا ہے۔ ریاست کے ہر ایک کردار نے کسی نہ کسی طور ملکی معیشت کی تباہی میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اسی وجہ سے اب ہر ایک کو قیمت چکانی ہے۔ میں صرف یہی دعا کر سکتا ہوں کہ ’خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں