آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے FBR نے کوئی پیشرفت نہیں کی،ماہرٹیکس امور

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر ٹیکس امور شبر زیدی نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے ایف بی آر نے کوئی پیشرفت نہیں کی ہے، پروگرام میں سنیئر صحافی مہتاب حیدر،خرم حسین ،شہباز رانا نے بھی اظہار خیال کیا۔ماہر ٹیکس امور شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آر سے متعلق پالیسی اور ایڈمنسٹریشن میں گراؤنڈ ورک بہت ضروری ہے، گراؤنڈ ورک چھ ماہ میں ہوجانا چاہئے تھا مگر ابھی تک نہیں ہوا مزید تاخیر کی گئی تو مسئلہ ہوجائے گا، نئی حکومت نے ایف بی آر کے معاملات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائی ہے، پالیسی کی سائڈ پر ہم ابھی تک پرانی غلطیاں کررہے ہیں، امپورٹ کم ہونے سے بھی ایف بی آر کی وصولی کم ہوئی ہے، ٹیکس نیٹ میں اضافہ سے متعلق بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے وزیراعظم کی مایوسی بہت واضح ہے۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ اسٹرکچرل تبدیلیاں لانے کے بجائے اسٹیٹس کو ہی چلایا جارہا ہے، معیشت کے بنیادی زاویے پرانی جگہوں پر ہی کھڑے ہیں، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے ایف بی آر نے کوئی پیشرفت نہیں کی ہے، حکومت کی پہلی ترجیح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنا تھا جس میں کامیاب رہی ہے، انڈسٹریل سرمایہ کاری میں بھی حکومت کی پالیسی ڈائریکشن صحیح ہے، ٹیکس میں جارحانہ پالیسی

اپنائی گئی تو معیشت میں سلوڈاؤن آجائے گا، حکومت جون میں شارٹ فال برداشت کرلے مگر انتظامی اور پالیسی اصلاحات کیلئے تیار ی کرے جو اگلے چار سال میں معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ضروری ہے۔ سینئر صحافی خرم حسین نے کہا کہ حکومت نے معاشی معاملات کنٹرول کرلئے ہوتے تو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتی، مالی و بیرونی خسارے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان پر قابو پانے کیلئے ایمرجنسی مدد کی ضرورت ہے، ستمبر تک پاکستانی معیشت بحران کی طرف جارہی تھی جسے سات ارب ڈالر بیرونی مدد ملنے کے بعد حکومت تھوڑا آگے کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ خرم حسین کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضہ 1.9ارب روپے روزانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے، گردشی قرضہ کو قابو میں لانے کیلئے حکومت کا کوئی پلان نظر نہیں آرہا ہے، گردشی قرضہ ختم کرنے کا ایک راستہ کمرشل قرضے لینا اور دوسرا راستہ پاور کی قیمتوں میں اضافہ کر کے کنزیومرز پر بوجھ ڈال دیا جائے، کسی بھی جمہوری دور میں یہ دونوں راستے قابل قبول نہیں ہوسکتے ہیں۔خرم حسین نے کہا کہ حکومت نے انڈسٹری کی تمام سوچ کو اپنی پالیسی میں تبدیل کردیا، ماضی میں کوئی بھی حکومت گیس کو سبسڈائز کرنے پر راضی نہیں تھی، موجودہ حکومت نے پنجاب کی انڈسٹری کو چھبیس ارب روپے کی گیس سبسڈی دینے کا اعلان کردیا ، حکومت کا کوئی ویژن نظر نہیں آرہا ہے، آئیڈیاز دوسری جگہوں سے اٹھارہے ہیں، عمران خان کے کان میں جو کوئی بات چھوڑ گیا اسی کے مطابق چل پڑے۔ سینئر صحافی مہتاب حیدر نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے متعلق کنفیوژن رکھا ہوا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا ثابت کرتا ہے کہ معاشی اشاریے ٹھیک نہیں ہیں، دوست ممالک سے امداد ملنے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دور کرنے کیلئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے، حکومت نے مالی خسارہ دور کرنے کے اقدامات نہیں کیے، ایف بی آر کا شارٹ فال اپنی جگہ موجود ہے، اخراجات کنٹرول کرنے کیلئے بھی مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جاسکے۔مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ وزارت توانائی کہتی ہے کہ فلو زیرو پر لانے کیلئے چار مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں پچیس فیصد اضافہ کرنا ہوگا، توانائی کے شعبہ کو بحران سے نکالنے کیلئے گورننس اصلاحات کرنا ہوگی، ڈسٹریبیوشن لاسز، ریکوری اور ٹھیک جگہ پر ٹھیک شخص کو لگائے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، گورننس اصلاحات کے بغیر معیشت کو گروتھ کی طرف لے کر جانا مشکل ہے۔مہتاب حیدر نے کہا کہ بیرونی امداد سے حکومت کو مختصر مدتی ریلیف تو ملا ہے لیکن یہ طویل مدتی حل نہیں ہے، ہم کب تک دوست ممالک سے مدد مانگتے رہیں گے، جون 2019ء کے بعد بحران شروع ہوگا اسی لئے حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کوشش کررہی ہے۔ سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا کہ دوست ممالک کی امداد سے وقتی ریلیف ملا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معیشت مثبت راستے پر چل پڑی ہے، پہلے چھ مہینے کا بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال سے کہیں زیادہ ہے، تینوں ممالک سے ملنے والا پیسہ آئی ایم ایف کا متبادل نہیں تھا، اس پیسے کا مقصد آئی ایم ایف سے قرض ملنے تک معیشت کو دیوالیہ ہونے سے محفوظ رکھنا تھا، پرائمری بیلنس دفاعی بجٹ کی کٹوتی اور ڈیبٹ سروسنگ کم کرنے سے ہی ممکن ہے لیکن یہ دونوں کام نہیں ہوسکتے، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ روپے کی قدر کے تعین میں اسٹیٹ بینک کی مداخلت نہ ہو، پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں گیا تو مہنگائی کا جو طوفان آئے گا لوگ آج کی مہنگائی بھول جائیں گے۔ شہباز رانا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس معاشی اصلاحات کا کوئی پلان نہیں تھا، ایف بی آر کا پروگرام بغیر ہوم ورک لانچ کیا گیا جو ناکام ہوگیا ہے، ٹیکس نیٹ کے اضافے میں ایف بی آر کے اپنے اندر معاملات طے نہیں ہیں، حکومت سات ماہ بعد بھی اسی جگہ کھڑی ہے جہاں پہلے دن کھڑی تھی، معیشت کا بحران ختم نہیں ہوا آئندہ چند ماہ زیادہ چیلنجنگ ہوں گے، حکمت نے ملائیشیا ویلتھ فنڈ کا نظریہ تو لے لیا مگر اس پر ورکنگ نہیں کی، حکومت جن کمپنیوں کی نجکاری کرنا چاہ رہی ہے اس میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز شامل نہیں ہے، ان کے پاس ایل این جی کے دو پاور پلانٹس یا ایس ایم وی بینک کے علاوہ کچھ بیچنے کو نہیں ہے۔ شہباز رانا نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ حکومتی زمینیں بیچ کر ملک کے قرضے اتارنے جائے تو یہ آسان کام نہیں ہے،جب تک صحیح عہدے پر صحیح شخص نہیں بٹھایا جائے گا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے، سیاسی قیادت کی تبدیلی سے نظام تبدیل نہیں ہوتے بیوروکریسی میں اصلاحات لانا ہوگی، آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کیلئے بھی کارکردگی کا فقدان نظر آیا، بہت سے ایسے اقدامات کرلیے گئے جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کرسکے۔شہباز رانا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستانیوں کو روزگارکیلئے بیرون ملک بھیجنے کیلئے جارحانہ اقدامات کرے، زرعی شعبہ پر فوکس کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں گئے تو بیروزگاری کا نمبر بڑھے گا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں