آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات13؍رجب المرجب 1440ھ 21؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسد منیر کی خودکشی یا ہلاکت کے حوالے سے قانونی حلقوں کے سوالات

اسلام آباد(طاہر خلیل ) مرحوم بریگیڈئر(ر) اسد منیر کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق اسد منیر حساس ادارے میں اہم شعبے میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں اوردفاعی تجزیہ نگار کی حیثیت سے بھی افغان امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے،ان کی خودکشی پر کئی طرح کی چہ میگوئیاں سامنے آرہی ہیں بعض حلقے الزام لگاتے ہیں کہ خودکشی کی ایک وجہ نیب کا دبائو بھی ہوسکتا ہے ،سی ڈی اے کے ممبرا سٹیٹ کی حیثیت سے ان پر ایف الیون اسلام آباد میں منسوخ شدہ پلاٹ کو بحال کرنے کاالزام تھا۔ اسد منیر اور دیگر کے خلاف سی ڈی اے میں2013 سے انکوائری چل رہی تھی اور 2016میں صرف ایک مرتبہ انہیں نیب میں بلایا کیا گیا تھا۔ جس کا تذکرہ اسد منیر نے خود اپنی ٹویٹ 28 مارچ 2018 کو کیا تھا ۔ اسد منیر نے یہ ٹویٹ اپنے دوست انعام اللہ خٹک کو کی تھی ۔ انعام اللہ خٹک کی سوشل میڈیا پر ہفتے کو جو ٹویٹ وائرل ہوئی اس میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسد منیر نیب کی طرف سے با ربا ر بلانے سے پریشان تھے ، وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں ۔نیب نے اسد

منیر کو صرف ایک بار بلایا گیا، انعام اللہ خٹک کے مطابق اسد منیر مضبوط اعصاب کے مالک تھے ۔ انعام اللہ خٹک نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ اسد منیر کی 28 مارچ 2018 کی ٹویٹ بھی منسلک کی ہے جس میں اسد منیر نے کہا کہ" "I Recorded My Statement in 2016, No One After that Called meاسد منیر کی مبینہ خود کشی یا ہلاکت کے حوالے سے کچھ قانونی حلقے سوالات اٹھارہے ہیں (1) خاندانی ذرائع کے مطابق رات دو بجے تک اسد منیر اہلیہ سے گپ شپ کرتے رہے اور ساڑھے چار بجے ان کی اہلیہ نے پنکھے سے لٹکتی لاش دیکھی ۔(2) اہلخانہ نے لاش دیکھ کر پولیس کو اور نہ ہی کسی رشتہ دار کو اطلاع دی اور لاش لے کر خود ہسپتال چلی گئیں اور مبینہ طور پر کرائم سین ختم ہو گیا ۔ (3) ہسپتال میں اہلخانہ نے پوسٹ مارٹم کرانے نہیں دیا جو پولیس کی قانونی ذمے داری تھی ۔ (4) اسد منیر سے جو خط منسوب کیا جا رہا ہے اس پر ان کے دستخط موجود نہیں ،قانونی حلقے یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ غیر دستخط شدہ دستاویز کی مستند قانونی حیثیت کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ کہا جا رہا ہے کہ اسد منیر نیب کی تحقیقات سے پریشان تھے ، اسد منیر کوئی معمولی شخص نہیں تھے وہ ریٹائرڈ بریگیڈیر تھے ۔ فوج میں انہوں نے حساس عہدوں پر خدمات انجام دیں ،سی ڈی اے میں سینئر افسر رہے ۔نیب راولپنڈی میں بھی اہم عہدے پر رہے ۔میڈیا میں بھی ان کے کافی دوست رہتے ہیں ۔ قبل ازیں انہوں نے کبھی خود اس بات کا اظہار کیوں نہیں کیا کہ وہ نیب کی تحقیقات سے پریشان تھے ۔ تجزیہ نگار کی حیثیت سے وہ نیب کی کارکردگی پر بھی تبصرے کیا کرتے تھے انہوں نے کبھی ایسا سوال نہیں اٹھایا۔افغان ایشو خاص طور پر تحریک طالبان اور دیگر دہشتگردتنظیموں کے حوالے سے ان کے آرٹیکلز اخبارات میں تسلسل سے شائع ہوتے رہے، افغان امور پر اپنے نظریات کے حوالے سے انہیں ایک پختہ کار تجزیہ کار سمجھا جاتا تھا، صورتحال کا ایک اورپہلو یہ بھی ہے کہ ان کی بیٹی کی ہمدردیاں ان عناصر کے ساتھ سمجھی جاتی ہیں جن کی سرگرمیوں کے حوالے سے ریاستی اداروں کے گہرے تحفظات ہیں،چند روز قبل بلوچستان کے ایک سرگرم کارکن کی پراسرار موت کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیاگیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں