آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرمنی ( آن لائن ) سانحہ کرائسٹ چرچ سے امت مسلمہ سمیت پور دنیا اشک بار اورصدمے میں ہے اور اسی سلسلے میں جرمنی کے دارلحکومت برلن میں مختلف مقامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ،جس میں نہ صرف مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے شرکت کی بلکہ یہاں مقیم جرمنز نے بھی اس احتجاج میں شریک ہو کر انسانیت سوز سانحہ کو بدترین سانحہ قرار دیا ۔خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز شدید موسم کی خرابی کے باوجود احتجاج کی کال کے تھوڑی ہی دیر بعد لوگ احتجاج کے مقامات پر جمع ہونا شروع ہوگئے،جن میں بچے بوڑھے جوان مرد خواتین سب ہی شامل تھے، احتجاج شہر کے مختلف معروف علاقوں میں کیا گیا ،جن میں کوڈام، برانڈر برگ گیٹ اور فریڈرش اسٹریٹ پر موجود نیوزی لینڈ سفارتخانے کے باہر جرمنی میں موجود مسلم کمیونٹی نے حصہ لیا۔شہر کے مختلف مقامات ہونیوالے پر احتجاج میں مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور نیوزی لینڈ کے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ مختلف اسلامی تنظیموں اور مساجد سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے

کہا کہ دہشتگردی کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دنیا کا کوئی مذہب یوں اس طرح انسانوں پر گولیاں چلانے کی اجازت نہیں دیتا،برلن میں موجود تمام اسلامی تنظیموں کے سربراہ شیخ فرید نے شدید الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ ہمیں اب بحیثیت امت ایک ہونے کی ضرورت ہے اور اس وقت ہمیں نیوزیلینڈ کے مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی دیکھانے کی ضرورت ہے۔اس وقت سوشل میڈیا اسلام مخالفت چیزوں سے بھرا پڑا ہے اور اگر یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔اس سوچ کو اور ایسے واقعات کو ختم کرنے کیلئے ہمیں دعا بھی کرنی چاہیے اور ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی جاننے کی ضرورت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں