آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسرت راشدی

سولہ سنگھار کے آغاز اور ترویج کےدور کا درست اندازہ تو نہیں، تاہم مختلف ادوار مثلاً آریائی دور،گندھارا عہدکے علاوہ ادب اور داستانوں میں اس کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ بنائو سنگھار کے لوازمات کی تاریخ بھی کئی ہزار برس پرانی ہے، ان کے آثار قدیم مصری، روسی اور یونانی اور دیگر تہذیبوں میں ملتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ لپ اسٹک تقریباً پانچ ہزار سال قبل لگائی جاتی تھی اور یہ ایجاد بھی ان ہی کی تھی۔ مصریوں نے شہد اور زیتون کے تیل کو جلد کی نرمی اور دلکشی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ تخت دہلی کے علاوہ ریاست اودھ کے مسلم نوابوں کی حویلیوں میں مسلمان بیگمات خاص طور پر سولہ سنگھار کا اہتمام کرتی تھیں۔ آنکھوں اور بالوں کو سنوارنے اور انہیں زیادہ خوب صورت بنانے کا رواج بھی خاصا قدیم ہے۔ وہ سولہ اشیاء جو قدیم خواتین کی زیبائش کا سامان تھیں، ان میں ٹیکا، جھومر، کانوں کے جھمکے، بندے بالیاں، چوڑیاں، کہنی پر پہنے جانے والے مختلف کڑے اور بازو بند، سونے یا چاندی سے بنا کمر کا پٹکا، ناک کی نتھنی، شیشہ جڑی انگوٹھیاں، پائل (پازیب)، پچھوے (پیروں کی انگلیوں میں پہنتے ہیں)، چوٹی کے پھول (جو سونے یا چاندی سے تیار کئے جاتے تھے)، آنکھوں کا کاجل، مہندی، مختلف عطر اور خوشبویات، گلے کا ہار یا کالے پوت کی زنجیر، جس میں سونا لگا ہو، بھٹہ (کان کے اوپری حصے میں بھی دو سوراغ کئے جاتے تھے، جس میں خواتین سونے کے پھول پہنتی تھیں)، گجرے۔ اس کے علاوہ سولہ وہ مرحلے بھی ہیں، جن سے گزر کر خواتین کی آ رائش، حسن و زیبائش مکمل سمجھی جاتی تھی۔

قدیم نسخوں سے تیار کئے جانے والے خوش بو دار تیل سے جلد کا مساج کیا جاتا تھا، اس کے بعد دودھ، عرق گلاب، روغن بادام، گلاب کی پتیوں کو خاص ترکیب سے پانی میں ملاکر اس سے غسل کیا جاتا تھا۔ بالوں میں تیل کی مالش کے بعد سیکاکائی کے آمیزے کا لیب کیا جاتا، پھر ریٹھا پیس کر اس سے بالوں کو اچھی طرح دھویا جاتا تھا۔ چہرے، گردن اور بازوئوں پر صندل کا باریک سفوف کا پیسٹ بنا کر ملا جاتا تھا۔ جو خوش بو کے ساتھ جلد کو ملائم اور چمک دار بناتا تھا۔ آنکھوں میں کاجل یا سرمہ لگایا جاتا، موٹی لکیریں کھینچ کر انہیں مزید نمایاں کیا جاتا تھا۔ بالوں کو مختلف انداز دیے جاتے۔ اکثر خواتین اونچے جوڑے بھی بناتی تھیں۔ ہونٹوں کو سرخی سےنمایاں کیاجاتا تھا ،کچھ خواتین دنداسہ لگا کر ہونٹ رنگتی تھیں۔ ہاتھوں، پیروں پر مہندی لگائی جاتی، ناخنوں کو مہندی سے سرخ کیا جاتا، بالوں میں گجرے لپیٹے جاتے تھے۔ خواتین منہ کی خوشبوں کے لئے الائچی والا پان کھایا کرتی تھیں۔ سولہ مرحلوں پر مشتمل یہ تیاریاں زیادہ تر دلہنوں کے لئے کی جاتی تھیں ،مگر رانیاں اور امراء کی بیگمات ان کا اکثر اہتمام کرتی تھیں۔

یہ تو قدیم کی ایک جھلک ہے، ایک وقت وہ بھی تھا جب عورت محدود وسائل میں بھی بنائو سنگھارضرور کرتی تھی۔ خانہ داری کے تمام امور نمٹا کر اپنے شوہر کے آنے سے پہلے بڑے اہتمام سے تیار ہوتی۔ بالوں میں خوشبودار تیل آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر دنداسہ یا سرخی لگاتی۔ ان کے خیال میں عورت کا بنائو سنگھار ان کا فطری حق ہے۔ ان کے میک اپ کٹ یا باکس میں ہونٹوں کی لالی یا سرخی ودنداسہ اور ُسرما یا کاجل ضرور ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں انقلاب برپا ہوتے گئے، جس کے اثرات میک اپ کی تکنیک میں بھی بڑی سرعت سے ایسے اثر انداز ہوئے کہ خواتین کے میک اپ کٹ میں لاتعداد اشیاء کا اضافہ ہوگیا۔ آج کل خواتین زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ لیکن سجنا سنورنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عورت کسی بھی عمر کی ہو،وہ اپنے بنائو سنگھار کے حق سے دستبردار ہونے کے بارے میں نہیں سوچتی۔

نت نئی اقسام کی مصنوعات کی آمد اور تشہیر نے صنف نازک کو میک اپ کا شعور بخشا ہے۔ ۔ آج کے دور میں خواتین جو کم وقت میں زیادہ کام کی وجہ سے مصروف رہتی ہیں، اس کے باوجود آرائشِ حسن پر ضرور توجہ دیتی ہیں، تاکہ وہ خوب صورت اور دلکش نظر آئیں۔