آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حال ہی میں قتل و خودکشی کا ایک دردناک واقعہ شکارپور میں پیش آیا، جس میں مبینہ طور پر ایک مسلمان نوجوان نے شادی سے انکار کرنے پر ایک ہندو دوشیزہ کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔مذکورہ نوجوان، کراچی میں محکمہ پولیس کا ملازم تھاجب کہ مقتولہ لیڈیز فٹنس جم کے ساتھ کوکنگ کلاسز بھی چلاتی تھی۔ یہ واقعہ دو ہفتے قبل، شکارپور شہر سے کچھ ہی فاصلے پرتھانہ لکھی غلام شاہ کی حدود میں واقع گاؤں جامڑہ اسٹاپ کے قریب پیش آیا،جہاں لکھی غلام شاہ کے رہائشی 34سالہ نوجوان آغا سالار خان پٹھان ولد مرحوم آغا ریاض خان پٹھان نےشکارپور شہر کے علاقے پیر طبیب شاہ کی رہائشی 32سالہ راجکماری عرف راجی دخترسورگواسی شیام لعل کو اپنی محبت کے عہدو پیماں یاد دلانے کے لئے اپنی کار میں مذکورہ مقام پر لے آیا۔ اس کار میں ان دونوں کے علاوہ آغا سالار خان کا خالہ زادبھائی، آغا بلال خان بھی موجود تھا، جو کہ کار چلارہا تھا۔آغا بلال کے مطابق سفر کے دوران آغا سالار نےکا ر رکوا کر اسے کچھ کھانے پینے کا سامان لانے کے لیے کہا اور اس کے ساتھ کار میں بجنے والی موسیقی کی آواز بڑھا دی۔ سنسان جگہ پر گانوں کا شور گونجنے لگا ، کچھ دیر بعد اچانک کار کی جانب سے فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ آغا بلال وہ دوڑتے ہوئے گاڑی کے قریب پہنچا تودونوں کو خون میں لت پت دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا۔آغا بلال نے دونوں زخمیوں کو انتہائی نازک حالت میں سکھر کے ایک نجی اسپتال پہنچایا، جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دونوں زخمیوں نے دم توڑدیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مرنے والے دونوں افراد کے رشتہ دار، سکھر اسپتال پہنچے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔

آغا سالارخان کی نمازِ جنازہ لکھی غلام شاہ میں جبکہ راجکماری کی آخری رسومات ہندووانہ رسم و رواج کے مطابق شکارپور شہر میں ادا کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق نوجوان سالار خان اور راجکماری کے درمیان طویل عرصے سے د وستی تھی، جو محبت میں بدل گئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے تھے۔ ۔ کچھ عرصے سے مذکورہ پریمی جوڑا ذہنی طور سے تناؤ کا شکار تھاکیونکہ راجکماری کی شادی ،کراچی کے ایک ہندو گھرانے میں آکاش نامی لڑکے کے ساتھ طے گئی تھی اور کچھ دنوں بعد وہ اس کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھنے جارہی تھی۔متوفیہ کے خاندانی درائع کے مطابق، شادی کے دعوت نامے چھپ چکے تھے اور لڑکی کے گھر میں رسومات کا سلسلہ جاری تھا۔

آغا سالار اس صورت حال سے دل گرفتہ تھا اور وہ ہر قیمت پر راجکماری سے سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وقوعے والے روز اس نے راجکماری کو ملنے کے لیے بلایا اور اپنے دوست کے ہمراہ اسے کار میں بٹھا کر نامعلوم سفر کی جانب روانہ ہوا۔ مذکورہ جگہ کار روک کر اس نے لڑکی کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے اپنے ساتھ شادی کرنے کے لیے زور دیالیکن راجکماری نے اپنے والدین کی بدنامی کے خوف سے آغا سالار سے شادی سے انکار کردیاجسے سن کر نوجوان نےمبینہ طور سے اشتعال میں آکرڈیش بورڈ سے پستول نکال کر لڑکی پر گولی چلا نے کے بعد خود پر بھی فائرنگ کردی، جس سے دونوں افراد شدید زخمی ہوگئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ ایس ایس پی شکارپور،ساجد امیر سدوزئی نے قتل و خودکشی کے مذکورہ واقعے کی تحقیقات کے لیےچار رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جو تمام شواہد اکٹھے کرکے اپنی تفتیشی رپورٹ مرتب کرے گی۔

بعض حلقوں کی جانب سے فائرنگ سے ہونے والی دوہری اموات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ مذکورہ واقعہ کاروکاری کا شاخسانہ لگتا ہے۔ مقتولہ چند روز بعدہندو وانہ رسم و رواج کے مطابق ازدواجی بندھن میں بندھنے والی تھی اور اس دوران وہ مایوں بیٹھی ہوئی تھی۔ آغا سالار کے بلانے پر اس طرح سے گھر سے باہر جانا اس کےرشتہ داروںخاص طور سے سسرالی رشتہ داروں کو ناگوار گزرا ہوگا۔ انہی میں سے کسی نے اشتعال میں آکر ان کی کار کا پیچھا کیا اور موقع پاکر غیرت کے نام پر دونوں کو قتل کردیا۔ انہوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی غیر جانب دارانہ طور سے تفتیش ہونی چاہئے اور اگر یہ کارکاری کا کیس ثابت ہو تو قاتلوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔   

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید