آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سترہویں صدی عیسوی میں مغلیہ دور میں سندھ پر ترک النسل، ترخان خاندان کی حکومت تھی۔ مرزا جانی بیگ کے انتقال کے بعد شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے شاہی فرمان کے مطابق اس کا بیٹامرزا غازی بیگ مغل 1009ھ کو چودہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔اسے صغیرسنی میں حکومت سنبھالنے کی وجہ سے انتہائی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ ا۔ مرزا جانی بیگ کےعہد حکومت کے امرا، اس نا تجربہ کار اور کم عمر فرماں روا کو بے دست و پا کر کےاپنی مرضی سے نظام حکومت چلانا چاہتے تھے۔ چنانچہ مرزا غازی بیگ کی تخت نشینی کے ساتھ ہی سازشوں کاسلسلہ شروع ہوگیا جس سے سلطنت کو خطرات لاحق ہوگئے۔ اس موقع پر کمسن حکم راںغازی بیگ نے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا اور ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنےوفادار اتالیق، مرزا احمد بیگ کو، سلطنت کا مختارکار اور وکیلِ کل بنا دیا جب کہ مولہ نامی ایک ہندو ملازم کو دولت رائے کا خطاب دے کر مالیاتی امور کا نگراں بنا دیا۔اس کے بعد مرزا غازی بیگ نے اپنےاتالیق کی سرپرستی میںامور مملکت پر توجہ مرکوزکرکے سب سے پہلےباغی عناصر کی سرکوبی کی۔ نوجوان حاکم کے تَدبر اور فہم و فراست سے مملکت کے معاملات بہتر ہوتے گئے۔

اکبر بادشاہ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا، شہزادہ نور الدین محمد جہانگیر ہندوستان کا نیا بادشاہ بنا۔ وہ مرزا غازی بیگ ترخان کو بہت عزیز رکھتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسے جب قندھار کی مہم میں ایک جہاندیدہ سپہ سالار کے انتخاب کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اپنے اعتماد کے لائق صرف مرزا غازی بیگ ترخان کو سمجھا، جس کی عمردیگر سرداروں کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔ جہانگیر نے اسے 10شعبان 1016ھ کو ایک فرمان کے ذریعے ہدایت کی کہ وہ قندھار کی مہم پر توجہ دے تاکہ وہاں کا نظم و نسق بھی درست ہو۔ مرزا غازی بیگ ترخان سندھ کے نظم و نسق سے فارغ نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود اس نے بادشاہ کے حکم سے سرمو انحراف نہیں کیا اور گیارہ ماہ تک اس سلسلے میں ضروری تیاریاں کیں۔ اس دوران اس کا قیام ملتان اور بھکر میں رہا۔ جب وہ 17رجب1017ھ کو قندھار کی مہم پر روانہ ہونے والا تھا تو میر نمکین کو جہانگیر کی جانب سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ مرزا غازی بیگ ترخان کی معاونت اور مدد کو پہنچے۔انہیںسیہون کا علاقہ بطور جاگیر عطا ہوا تھا۔ انہوں نے سیہون کے نظم و نسق کو درست رکھنے کے لئے اپنے بڑے بیٹے میر ابوالبقا کو چھوڑا اور خود بھکر پہنچ کر مرزا غازی بیگ ترخان سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران اس سے کہا کہ وہ اپنی مدد کے لئے ان کے بڑے بیٹے میر ابوالبقا کو اپنے ہمراہ لے جائے۔ مرزا غازی بیگ ترخان نے اس مشورہ اور درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے تم جیسے دانا، تجربہ کار اور جہاندیدہ شخص کی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک بار قندھار پہنچ جائوں اور وہاں کا نظم و نسق اطمینان بخش طریقے پر سنبھال لوں، پھر تمہیں سیہون واپس بھیج دوں گا۔ میر نمکین کے سامنے مفر کی کوئی صورت نہیں ۔ وہ ایک سال تک قندھا میں رہے ، ایک سال بعد جب وہ سیہون واپس آرہے تھے توراستے میں ان کا انتقال ہو گیا۔

جب جہانگیر نے میر نمکین کی وفات کی خبر سنی تو اسےبے انتہا صدمہ ہوا کہ سندھ ایک لائق اور تجربہ کار شخص سے محروم ہو گیا۔ اس نے فوری طور پر اپنے ایک سردار،شمشیر خان ازبک کو سیہون پہنچنے کی ہدایت کی۔ شمشیر خان ازبک، اکبر اعظم کے ملازموں میں سے تھا۔ اکبر نےاسےکھمرو کا حاکم مقر کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ ولی محمد خان والی توران کے اوسط درجے کے ملازموں میں شامل تھا۔ جب کھمرو کو جہانگیر نے اپنی قلم رو میں شامل کیا اور اس کی جاگیرکی حیثیت ختم کر دی تو شمشیر بیگ ارسلان ازبک، جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوا ۔ جہانگیر نے اسے خلعت فاخرہ عطا کرنے کے بعد ٹھٹھہ کا صوبیدار بنا دیا لیکن جلد ہی اسے ہٹا کر اس کی جگہ مظفر خان معموری کو مقرر کردیا۔اپنی معزولی کے بعدشمشیر ،شہنشاہ جہانگیر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جہانگیر نے ازبک کوسیہون بھیجا جہاں ابولبقا حاکم تھا۔ جب وہ سیہون پہنچا تو ابوالبقا نے اس کی شراکت میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔شمشیر ازبک وہاں سے دل گرفتہ ہوکر واپس آگرہ آیا اور بادشاہ کو تمام صورت حال سے مطلع کیا۔جہانگیر نے اس کی عرضداشت سن کر سیہون کے تمام علاقے اس کے نام کر دیئےیا اور ان کی آمدنی سے اس کے عملے کی تنخواہ اورذاتی اخراجات پورے کرنے کی اجازت دے دی۔ شمشیر خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد سیہون کونئے سرے سے آباد کیا اور اس کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے بہترین فوج بنائی جس میں سات سو کے قریب ازبک نوجوان شامل تھے ۔ انہیں بہترین سازوسامان مہیا کیا گیا تھا۔شمشیر خان ازبک نے ہر جگہ تھانے بنائے تھے جس کی وجہ سے شرپسندوں اور سرکشوں کو لوٹ مار اور امن و امان خراب کرنےکی جرات نہیں ہوتی تھی اور اس کی رعایا چین و سکون کی زندگی بسر کرتی تھی۔۔ابھی شمشیر ازبک سیہون کے نظم و نسق کو درست کرنے میں مصروف تھا کہ مرزا غازی بیگ ترخان کا قندھار میں انتقال ہو گیا۔اس کے بعد ترخان خاندان کے آخری حکم راں، ابولقاسم سلطان ترخان نے سندھ کی عنان حکومت سنبھالی۔غازی بیگ کی وفات کے بارے میںمختلف قسم کی چہ میگوئیاں گردش کررہی تھیں جن کی وجہ سے سندھ میں طوائف الملوکی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ غازی بیگ کی وفات کی وجہ سے ٹھٹھہ کے سیاسی حالات پر بھی اثر پڑا ، مختلف علاقوں میںشرپسند وں نے سر اٹھانا شروع کردیاان شورشوں کو ختم کرنے کے لئے شمشیر خان ازبک چار سو سواروں پر مشتمل لشکرلے کر ٹھٹھہ آیا۔ اس مختصر سی فوج نے نہ صرف شرپسندوں اور سرکشوں کا صفایا کیا بلکہ وہاں ایک سال تک رہ کر مکمل طور سے امن و امان قائم کردیا۔ شمشیر خان ازبک نے ٹھٹھہ میں قیام کے دوران سیہون پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ٹھٹھہ کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد اس نے اپنی نیابت تاج محمد کے سپرد کرکےسیہون کی جانب رخت سفر باندھا۔ ابھی اسے سیہون پہنچے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ ٹھٹھہ کا صوبیدار تاج خان انتقال کر گیا۔ شمشیر خان کو ٹھٹھہ کی صوبیداری تفویض کر دی گئی جب کہ سیہون کا علاقہ میر ابوالبقا کو سونپ دیا گیا اور وہ بھی اس طرح کہ مرزا دوست محمد بیگ اس کا شریک کار تھا اور مرزا دوست محمد بیگ کو ہدایت کی گئی تھی کہ ملتان کے خزانے کو قندھار پہنچائے۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد یہ خبر ملی کہ ٹھٹھہ کی صوبیداری مظفر خان معموری کے سپرد کی گئی ہے اور شمشیر خان ازبک کو دوبارہ سیہون بھیجا جا رہا ہے جہاں اس کی حیثیت مظفر خان کے ماتحت کی سی ہو گی۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ کی جاگیر سے تنخواہ کا انتظام ہو گا۔ شمشیر خان نے جب یہ خبر سنی تو قصبہ جنیجہ سے کوچ کر کے قصبہ رفیعاں پہنچا اور وہاں سے سیہون کی راہ لی۔شمشیر خان ازبک کے سیہون پہنچنے کے بعد میر ابوالبقا خان کو پرگنہ چاچکاں اور بدین کا علاقہ جاگیر میں دیا گیا۔ ہالہ اور نیرون کوٹ کے علاقے بھی اس کے سپرد ہوئے۔ شمشیر خان نے سیہون کا دوبارہ نظم و نسق سنبھالنے کے بعد محسوس کیا کہ اس کی عدم موجودگی میں وہاں کئی انتظامی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے مفسدوں اور شرپسندوں کو سر اٹھانے کا موقع ملا ہے ۔ جرائم پیشہ عناصر،خشکی و دریائی راستے سے گزرنے والے تاجروں سے لوٹ مار کرنے لگے۔ ایک دفعہ انہوں نے ان سوداگروں کو بھی لوٹ لیا تھا جو ایک ہزار سے زائد اونٹوں کی قطاریں ٹھٹھہ سے لے کر بھکر کی طرف جا رہے تھےجب کہ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ایک تجارتی کشتی جس میں مختلف سوداگروں نے اپنا قیمتی سازوسامان رکھا ہوا تھا، لوٹ کر سوداگروں کو قتل کر دیا۔ اطلاع ملنے پر شمشیر خان نے لشکر بھیج کرمتعدد لٹیروں اورفسادیوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے لوٹ کا اسباب برآمد کیا اور ان کو سوداگروں کے ورثاء کے حوالے کر دیا۔

شمشیر ازبک کو سیہون میں امن و امان دوبارہ بحال کرنے میں کئی ماہ لگے۔ابھی وہ اس صورت حال سے نبرد آزما تھا کہ بادشاہ جہانگیرنے اسے بہادر خان ازبک کی مدد کے لیے فوری طور سے قندھار پہنچنے کا حکم دیا۔وہ تقریباً پانچ سو آزمودہ کار سپاہی لے کر قندھار روانہ ہو گیا اور سیہون کی امارت قنبر خواجہ کے حوالے کی۔ قنبر خواجہ چند ہی دنوں بعد وفات پا گیا۔ شمشیر خان نے اس کی جگہ اپنے ایک عزیز خوشم بیگ کو نامزد کیا۔ شمشیر خان نے چار، پانچ سال قندھار میں گزارے اور حکم شاہی کی تعمیل کی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے قندھار میں رہتے ہوئے،سیہون کے نظم و نسقپر بھی توجہ مرکوز رکھی۔اس کی بہادری کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس نے قندھار کے قیام کے زمانے میں شاہ عباس کے قبضے سے قلعہ قندھار کو حاصل کر لیا تھا اور مغل حکومت کے قدم جما دیئے تھے۔

جہانگیر نے شمشیر خان ازبک کی کارکردگی کے واقعات خود اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے لیکن اس کے حاسدوں اور بدخواہوں نے اس کو بدنام کرنے اور عوام کی نظر وںسے گرانے کے لئے اس کے متعلق ایسی باتیں پھیلائی تھیں کہ لوگ اس کو انتہائی سادہ لوح بلکہ بے وقوف خیال کرتے تھے۔ جب شاہجہاں برسراقتدار آیا اور اس کے کانوں تک ایسی ہی بے بنیاد داستانیں پہنچیں تو اس نے اس کو اس کے منصب سے معزول کر دیا۔ معزول ہونے کے بعد اس نے لاہور میں اقامت اختیار کی اور وہیں اس کا انتقال ہو گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں