آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کا خواب، دنیا کا سب سے بڑا جہاز، خلا میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے اخراجات کم ہونگے

کراچی (نیوز ڈیسک) دنیا کے سب سے بڑے ہوائی جہاز نے کامیاب پرواز مکمل کر لی اور اب یہ زمین پر آ چکا ہے لیکن اس پروجیکٹ کیلئے فنڈنگ مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے کی تھی، افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے پروجیکٹ کی کامیابی دیکھنے کیلئے زندہ نہیں۔ ان کا انتقال 2018ء میں ہوا۔ پروجیکٹ کا نام زمین کے دوسرے مدار اسٹراٹو اسفیئر کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’اسٹراٹو لانچ‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ کمپنی 2011ء میں قائم کی گئی تھی۔ پروجیکٹ پر گزشتہ دو سال سے کام جاری تھا اور گزشتہ روز اس نے مسلسل ڈھائی گھنٹے تک پرواز کرکے تجربے کو کامیاب ثابت کیا۔ اس سے قبل اس پروجیکٹ پر صرف زمین پر ہی تجربات کیے جا رہے تھے۔ اس جہاز کی تیاری کی بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ خلاء میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کیلئے راکٹ سے زیادہ قابل بھروسہ اور کارآمد طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ اس طیارے کو زمین سے 10؍ کلومیٹر کی بلندی پر اڑایا جائے گا اور اس پر لادے ہوئے سیٹلائٹ کو خلا میں روانہ کر دیا جائے گا۔ راکٹس کے ذریعے سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے کا موجودہ طریقہ کار انتہائی مہنگا ہے اسلئے اسٹراٹولانچ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا اور اگر سیٹلائٹ بھیجنے کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تو سیٹلائٹ لانچ کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طیارے کا سائز

فٹ بال کے گرائونڈ سے بھی بڑا ہے۔ یہ طیارہ پروں کے درمیان فاصلے کے اعتبار سے بھی دنیا کا سب سے بڑا جہاز ہے اور ایوی ایشن ماہرین اسے اب تک سمجھے جانے والے سب سے بڑے جہاز ’’اسپروس گوُز‘‘ سے بھی بڑا قرار دے رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں