آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری آنکھوں کی روشنی کا مکمل دارومدار قرنیے یا پُتلی کی صحت پر ہے، جس میں خرابی کی صورت میں موتیے کے مرض سے لےکر بینائی کی کمزوری اور محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ قرنیے میں یہ نقص کبھی پیدائشی ہوتا ہے یا کبھی غفلت سے۔ تاہم، اب جدید ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بینائی سے محروم افرادکے لیے کئی بائیونک وژن ایجادات منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن کی بدولت بینائی سے محروم خواتین و حضرات بھی دنیا کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ بائیونک وژن یا مشینی روشنی کے حوالے سے کئی منفرد ایجادات سامنے آئی ہیں۔ کہیں آنکھ کے قرنیے کی برقی ایجادات متعارف کروائی گئی ہیں تو کہیں مصنوعی ذہانت سے روشنی دینے والے سن گلاسز سامنے آچکے ہیں۔ان تمام ایجادات نے میڈیکل سائنس کی شکل تبدیل کرکے رکھ دی ہے۔

بائیونک آئی

عمر بڑھنے کے ساتھ قرنیے میں خرابی ہوجاتی ہے۔ نئے ایجادی تصور میںقرنیے کو کوانٹم ڈاٹس سے صحت یاب کرکے روشنی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ اس ایجاد کا سہراکولوراڈو یونیورسٹی اسپتال کے ماہر طب جیفری اولسن کے سر جاتا ہے،جنہوں نے نینو ٹیکنالوجی کے استعمال سے قرنیے کی روشنی تیز کرکے تصاویر کو صاف اور واضح انداز میں دکھانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ جب کوانٹم ڈاٹس فلوریسین کو فوٹون کے ذریعے متحرک کیا جاتا ہے تو روشنی کے حساس خلیے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ڈاٹس سیمی کنڈکٹرز کے طور پر کام کرتے ہیں، جنہیں قرنیے میں نصب کیا جاتا ہے۔ یہ ڈاٹس سیلیکون چپس کے مقابلے میں انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں، جنہیں نینو پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ ان کی باریکی انسانی بال سے ایک لاکھ گنا باریک و مہین ہوتی ہے۔ اسی نینو پیمانے پر روبوٹ سرجن کی بھی تخلیق ممکن ہوئی ہے، جو ناک سے داخل ہوکر جسم کے متاثرہ حصے کا آپریشن کرکے بحفاظت باہر آجاتا ہے۔ اسی کے ساتھ منی سوٹا یونیورسٹی کےسائنسدانوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک ایسی مصنوعی آنکھ تیار کرلی ہے، جو روشنیوں میں کمی بیشی کا احساس کرسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مصنوعی آنکھ میں استعمال ہونے والا قرنیہ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیا رکیا گیا ہے اور اسے تیار کرنے والوں کا کہناہے کہ آئندہ وہ مزید تجربات کرکے اسے اس قابل بنائیں گے کہ وہ روشنی میں کمی بیشی کو زیادہ بہتر اور کم وقت میں سمجھ سکے اور انکے درمیان فرق کرسکے۔ ایسا ہوگیا تو چند مزید تجربات کے بعدایسی مصنوعی آنکھیں، جنہیں بائیونک آئی کا نام دیا جارہا ہے ،کمرشل بنیادوں پر تیار ہونے لگیں گی جس سے ضعف بصارت، اندھا پن اور موتیا کے لاکھوں مریض فائدہ اٹھاسکیں گے۔ اس طرح بینائی کی کمزوری قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔

بائیونک لینس

برٹش کولمبیا کینیڈا کے ماہرِ بصریات ڈاکٹر گارتھ ویب کا ایجاد کردہ اوکیو میٹکس بائیونک لینس کمزوربینائی رکھنے والے خواتین و حضرات کو6/6سےتین گنا زائد روشنی سے نوازتے ہیں۔ یعنی جس گھنٹہ گھر کو آپ 10فٹ فاصلے سے واضح دیکھ سکتے ہیں، بائیونک لینس لگانے سے وہ آپ کو30فٹ دوری پر بھی صاف دکھائی دے گا۔ ان لینس کو آپ سوتے وقت اُتار کر رکھ بھی سکتے ہیں اور 10سیکنڈ میں قرنیے پر دوبارہ فٹ بھی کرسکتے ہیں۔

اورائن

اورائن (Orion) نامی ڈیوائس Argus II مشینی آنکھ کانیا ماڈل ہے۔ عینک میں ایک کیمرہ اور بیرونی پروسیسر لگایا گیا ہے۔ ریٹینائٹس پگمنٹوسا (retinitis pigmentosa) نامی اس ڈیوائس سےآنکھوں کے جینیاتی مرض میں مبتلا افراد کی بینائی لوٹائی جاسکتی ہے۔ عینک میں لگا کیمرہ تصاویر کوپروسیسر میں بھیج کر ہدایات میں تبدیل کرکے ریٹینا میں نصب چپ میں بھیجتا ہے، جو اِن ہدایات کو الیکٹریکل پلسز کی صورت آنکھوں کے قریب نصب الیکٹروڈز کو دیتا ہے، وہ آپٹک نرو(nerve) کے ذریعے دماغ تک معلومات بھیج کر مریض کے بصارت کے دائرے میں روشنی کے پیٹرنز پیدا کرکے بصارت کو ممکن بناتے ہیں۔ اورائن ٹیکنالوجی90فیصد Argus II ٹیکنالوجی سے مماثل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اورائن میں آنکھوں کے بجائے آپٹک کارٹیکس میں بصری معلومات کو پروسیس کرنے کے لیے الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں،جبکہ آرگسIIمیں الیکٹریکل پلسزکے ذریعے آپٹکس کارٹیکس کوروشنی کی اشکال کا احساس دلایا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں