• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (فرخ سلیم) برصغیر میں سرحد پار دہشت گردی کی بنیاد بھارت نے رکھی ۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کا قیام 21 ستمبر 1968 کو عمل میں آیا۔ اس سے قبل بھارت کی ایجنسی آئی بی تھی جس کے ایجنٹوں نے 1968 میں سرحد پار دہشت گردی کی فصل بونی شروع کردی تھی جو مکتی باہنی کی صورت میں پک کر سامنے آئی۔ مکتی باہنی سے قبل ’مکتی فوج‘ ہوتی تھی جس نے خود سنگرام پریشاد کے بطن سے جنم لیا تھا۔ بھارتی ریاستوں مغربی بنگال، ارونا چل پردیش، بہار، آسام، ناگالینڈ، میزورم اور تری پورا میں را کے ایجنٹوں اور بھارتی فوجیوں نے مکتی باہنی گوریلوں کےٹریننگ کیمپس قائم کیے۔ 1970 کے آخر میں مکتی باہنی نے بھارت کی مدد سے تخریبی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ اس نے بجلی گھروں، ریلوے، صنعتوں، پلوں، ایندھن ڈپوؤں کو نشانہ بنایا، بینکوں و گوداموں کو لوٹا، بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں سے اڑایا اور غیر بنگالیوں کو قتل کیا۔ 26 مارچ 1971 کو پاکستانی فوج نے ریاستی رٹ قائم کرنے اور مشرقی پاکستانیوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے سرچ لائٹ کے نام سے آپریشن کیا۔ مارچ 1971 ء تک مشرقی پاکستان میں تعینات پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 12 ہزار تھی اور وہ بھی صرف چھوٹے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ اپریل 1971 کے آخر تک آپریشن سرچ لائٹ کے ذریعے مکتی باہنی کو واپس بھارت میں دھکیل کر اس کی ʼمون سون بغاوتʼ کو کچل دیا گیا۔ راہ فرار اختیار کرنے والی مکتی باہنی کی تنظیم نو کے لیے 15 مئی 1971 ء کو بھارتی فوج کی مشرقی کمان نے سرکاری طور پر ʼآپریشن جیک پاٹʼ کا آغاز کیا۔ بھارتیوں نے مکتی باہنی کے گوریلوں کو اطالوی توپیں، ڈکوٹا DC-3 طیاروں، اوٹر DHC-3 لڑاکا طیاروں اور آلوئٹی ہیلی کاپٹروں سے لیس کردیا۔ مکتی باہنی کی استعمال کردہ اطالوی توپیں آج ڈھاکہ کے بنگلہ دیش فوجی میوزیم میں محفوظ ہیں۔ آپریشن جیک پاٹ کے ذریعے بھارت نے ہر ماہ 5 ہزار تربیت یافتہ گوریلے پاکستان میں داخل کرنے شروع کردیے۔ مکتی باہنی کے گوریلے را کے ایجنٹوں اور بھارتی فوجیوں کے ساتھ تریپورہ اور مغربی بنگال میں قائم لانچنگ اڈوں کے ذریعے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے۔ امریکی سفارت کار آرچر بلڈ ، جو ڈھاکہ میں امریکا کے آخری قونصل جنرل رہے، انہوں نے بتایا کہ " مکتی باہنی کے سپلائی ڈپوؤں، تربیتی کیمپوں اور اسپتالوں کے لیے بھارتی سرزمین فراہم کی گئی۔ بھارت مکتی باہنی کی محفوظ پناہ گاہ تھا جہاں انہیں آرام کرنے، کھانے پینے، طبی امداد اور ہتھیاروں کے حصول کی سہولیات فراہم کی گئیں‘۔ ناگالینڈ میں بھارتی مسلح افواج نے مکتی باہنی کے لئے جنگل میں فضائی پٹی قائم کی جہاں بھارتی فضائیہ کے تربیت یافتہ پائلٹ اوٹر DHC-3 طیاروں کی پروازیں کرتے۔ بھارت کی مشرقی کمان نے چٹاگانگ، چاند پور اور نارائن گنج میں جہازوں کو ڈبونے کیلئے 400 سے زائد بحری کمانڈوز اور غوطہ خوروں کو تربیت دی۔ دہرادون میں بھارتی میجر جنرل اوبان نے مکتی باہنی کے بہترین افراد کو منتخب کیا اور انہیں سیاسی اور فوجی تربیت دی۔ مکتی باہنی کے ایک سیکٹر کمانڈر قاضی نور الزمان لکھتے ہیں ’تربیت حاصل کرنے کے بعد سیاسی کمانڈوز کو خود کو بھارتی حکام کی پیداوار کہلوانے پر شرمندگی محسوس ہوئی، اس لیے انہوں نے خود کو بنگلا دیش لبریشن فورس کا نام دیا‘ ۔ ’بنگلہ دیش میں بہاریوں کی کرونولوجی‘ کے مطابق مکتی باہنی نے ایک ہزار بہاریوں کو قتل کیا جب کہ انسائیکلوپیڈیا آف وائولینس، پیس اور کنفلیکٹ صفحہ 64 کے مطابق ڈیڑھ لاکھ بہاریوں کو قتل کیا گیا۔ قطب الدین عزیز نے اپنی کتاب ʼخون اور آنسوʼ میں 55 شہروں میں بہاریوں اور دیگر غیر بنگالیوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں 170 چشم دید گواہوں کے بیانات قلم بند کے ہیں، اور 110 مقامات کا ذکر ہے جہاں معصوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہوا۔ فار ایسٹرن اکانومک ریویو کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار لارنس لفسشلتز کے مطابق مکتی باہنی کے رہنما عبدالقادر صدیقی نے خود غیر بنگالیوں کو سنگینیں گھونپ گھونپ کر قتل کیا اور اس پورے واقعے کی غیر ملکی فلم ساز عملے نے فلم بندی کی جسے عبدالقادر صدیقی نے یہ سارا منظر دیکھنے کے لیے بلایا تھا۔ 1951 کی مردم شماری کے مطابق مشرقی پاکستان میں بہاریوں کی تعداد 6 لاکھ 71 ہزار تھی اور ذرا تصور کریں کہ مکتی باہنی نے 20 فیصد بہاری آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ یاسمین سائیکیا کی کتاب ʼخواتین، جنگ اور بنگلہ دیش کی تشکیلʼ، کے مطابق مکتی باہنی نے ہزاروں بہاری خواتین کی عصمت دری کی اور تشدد کا نشانہ بنایا ( حوالہ ڈیوک یونیورسٹی پریس؛ صفحہ 41)۔ 16 دسمبر 1971 تک مشرقی پاکستان میں تعینات پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 34 ہزار تھی جن میں سے 23 ہزار انفنٹری کے تھے۔ دسمبر 1971 تک مشرقی پاکستان کو گھیرے میں لیے ہوئے بھارتی فوجیوں کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ سے چارلاکھ تھی جب کہ بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے ایک لاکھ گوریلے اس کے علاوہ تھے۔ بھارتی ایئر فورس نے چار ہنٹر اسکواڈرنز، ایک سخوئی اسکواڈرن، تین Gnat اسکواڈرنز اور تین مگ 21 سکواڈرنز تعینات کیے ۔ بھارتی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہاز وکرانت تعینات کردیا جو 47 طیاروں، آٹھ بحری جنگی جہازوں، دو آبدوزوں اور تین لینڈنگ شپ ٹینکس پر مشتمل تھا۔ دسمبر 1971 میں بھارت کے 4 انفنٹری ڈویژن، 9 انفنٹری ڈویژن، 20 ماؤنٹین ڈویژن، 6 ماؤنٹین ڈویژن، 8 ماؤنٹین ڈویژن، 57 ماؤنٹین ڈویژن اور 23 ڈویژن نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پرانی کہاوت ہے کہ دوسروں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنے والا خود بھی چین کی نیند نہیں سو سکتا۔ مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو شاید فراموش کردیا گیا ہے لیکن انہوں نے معصوم بہاریوں اور غیر بنگالیوں کے خلاف جس دہشت گردی کا مظاہرہ کیا تھا، اسے تاریخ کی کتابوں سے نہیں مٹایا جاسکتا۔
تازہ ترین