آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اسلام آباد میں ایک بیوہ پھل فروش خاتون کو جدید سہولیات سے آراستہ فلیٹ تحفے میں دے دیا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر حمد عبید ابراہیم نے اسلام آباد کی پھل فروش خاتون یاسمین بی بی کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم محمد بن رشد ال مخطوم کے  تعاون سے جدید سہولیات سے آراستہ فلیٹ کا تحفہ دیا۔


واضح رہے کچھ عرصہ قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خیبر پختونخواہ یوتھ اسمبلی کے اسپیکر جلال شیرازی نے تصاویر کے ساتھ ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ’اس خاتون کا نام یاسمین ہے اور اس کا شوہر انتقال کرچکا ہے، اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جو اسکول میں پڑھتے ہیں، بچوں کو پالنے کے لیے اس خاتون کے پاس پھل فروشی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘



یاسمین بی بی نے کرائے کے گھر سے نکالے جانے کے بعد مدد کی اپیل کی تھی جس پر متحدہ عرب امارات کےسفیر نے باہمت خاتون کی مدد کے لیے آگے بڑھ کر انہیں اسلام آباد میں ایک گھر تحفے میں دے دیا۔

واضح رہے متحدہ عرب امارات کے سفیر کو سوشل میڈیا کے ذریعے یاسمین بی بی کی اپیل اور ان کے حالات کا علم ہوا جس پر انہوں نے اسلام آباد میں ہی انہیں گھر خرید کر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پھل فروخت کرنے والی خاتون یاسمین بی بی کے شوہر کی وفات کے بعد چار بچوں کی پرورش کا بیڑا اٹھایا اور پھل فروشی کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے لگیں۔ یاسمین بی بی کا گولڑہ شریف میں چھوٹا سا کرائے کا مکان تھا۔

اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف 10 میں پھلوں کی ریڑھی لگا کر دو وقت کی روٹی کمانے والی 40 سالہ خاتون یاسمین بی بی ہمت اور عزم کی پہچان ہیں۔

شوہر کی وفات کے بعد بچوں کی ذمہ داری سر پر پڑی تو یاسمین بی بی نے ہاتھ پھیلانے کے بجائے رزقِ حلال کمانے کو ترجیح دی۔ یاسمین بی بی کی ہمت اور محنت کی داد نہ صرف پھلوں کے خریدار دیتے ہیں بلکہ دکاندار بھی یاسمین بی بی کی مشقت کے معترف ہیں۔

یاسمین بی بی کا کہنا ہے کہ ہمت اور عزم سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے اور میں خود اس کی جیتی جاگتی مثال ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پہل میں نے ڈیڑھ سال تک نوکری کی لیکن میری تنخواہ سے بمشکل گزارا ہوتا تھا، اسی لیے میں نے پھلوں کی ریڑھی لگائی تاکہ اپنے پانچ بچوں کو تعلیم دلوا سکوں۔

یاسمین بی بی کو پھل فروخت کرتے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ ان کے آٹھ سالہ بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو زیادہ دیر اس طرح کام نہیں کرنے دے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں