آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حنا بلال

کسی شخص کی لاٹری نکل آئے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ انتہائی خوش نصیب ہے اور اگر کوئی لاٹری ہار جائے تو اسے بد نصیب ، اسی طرح کوئی امتحان میں کامیاب ہو جائے، کسی کی اچھی نوکری لگ جائے یا اس کی ازدواجی زندگی کامیاب ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بے حد خوش نصیب ہے اور دوسری جانب اگر کوئی امتحانات میں اچھے نمبر نہ لا سکے ، جگہ جگہ دھکے کھانے کے باوجود اچھی نوکری تلاش نہ کر پائے یا اس کے زندگی میں اختلافات کا ایسا بھونچال ہو کے سنبھالے نہ سنبھلے تو کہا جاتا ہے بے چاری بہت بد نصیب ہے۔

دراصل خوش قسمتی اوربد قسمتی کاانحصار ہماری سوچ پر ہے،اگر آپ خود کو خوش قسمت سمجھیں گی تو چھوٹی سے چھوٹی کام یابی بھی بہت بڑی لگے گی اور اگر خود کو ناکام سمجھنے لگے تو پھر آپ کبھی کام یاب نہیں ہو پائیں گی ۔سیانے کہتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی کام یابیوں اور خوش یوں پر خوش ہونا چاہیے ۔ لہٰذا اگر آپ بھی خود کو خوش قسمت افراد کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہیں تو اپنی سوچ اپنے طور طریقوں اور رویے میں تبدیلی لائیں خوش قسمتی خود آپ کے دروازے پر دستک دینے کے لیے تیار رہے گی ۔اس کے علاوہ اپنے اندر چند تبدیلیاں لائیں جن کے بعد آپ خود میں بڑی تبدیلی محسوس کریں گی ۔ جیسا کہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوچنا اور ہر پہلو کو مکمل طور پر جانچنا بے حد ضروری ہے لیکن کچھ کام اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا اور بھروسہ کرنا بہت ہی اچھا ہے ،کیوں کہ ضرورت سے زیادہ سوچنا معاملات کو حل کرنے کے بجائے مزید پے چیدہ کردیتا ہے ،تا ہم اتنا سوچیںکہ آپ خو دکو ہلکا محسوس کریں ۔جب سوچ آپ پر حاوی ہونے لگے تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جا تا ہے اور غلط بھی ہوتا ہے ۔جب نئی مواقع حاصل ہوں تو وہ کریں جو آپ کا دماغ کہتا ہے ،دل کی نہ سنیں کیوں کہ دل وہ ہی گہواہی دیتا ہے جو محض نرم گوشے میں چھپی ایک خواہش ہو لیکن دماغ آپ کے تمام اچھے برے حالات سے واقف ہوتا ہے اور وہ فیصلہ دیتا ہے جو آپ کے حق میں بہتر ی کا سبب بنتا ہے ،مگر اکثر خواتین دل ودماغ کی کشماکش میں مبتلا ہو کر ا س موقع کو گنوادیتے ہیں اور پھر افسوس کرتے ہیں ۔لہٰذا کوشش کیجئے کہ دماغ جو صلح دے رہا ہے اسے آنکھیں بند کر کے قبول کرلیں اور باقی معاملات اللہ کی ذات پر چھوڑ دیں ۔سب سے اہم بات یہ کہ اگر آپ کسی کام کا آغا زکرنا چاہتی ہیں تو اُس کام کے منفی پہلو کو مد نظر نہ رکھیں بلکہ مثبت پہلو سامنے رکھیں۔آپ اپنی نیت اچھی رکھیں اور صر ف یہ سوچیںکہ آپ کوکام یابی حاصل ہوگی ۔

ایک اور اہم چیز اپنی زندگی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو یاد رکھیں ، سوچیں کہ کب آپ نے کسی چیز کی خواہش کی اور آپ کی وہ خواہش پوری ہو گئی، آپ کو کون کون سی کامیابیاں نصیب ہوئیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا حافظہ اتنا مضبوط نہیں تو ایک مشق کرلیں ۔ ایک کاغذ اور قلم لیں اور زندگی میں ملنے والی خوشیوں اور ناکامیوں کی لسٹ بنائیں ۔ اور دیکھیں کہ آپ نے اب تک کیا کھویا اور کیا پایا، اگر اس مشق کا نتیجہ اچھی چیزوں کی جانب کم اور بری چیزوں کی جانب زیادہ ہو تو یہ سمجھ لیںکہ ان چیزوں کی ناکامی میں قدرت کی مرضی شامل تھی ۔اگر چہ تو آپ اس غلطی سے سبق حاصل کریں اور طے کریں کہ دوبارہ اس غلطی کو نہیں دھرائیں گے، لیکن اگر وہ قدرت کی مرضی ہو تو سوچیںکہ اس کے بعد آپ نے کون سی بڑی کامیابی حاصل کی، پھر آپ بہتر انداز میں جان پائیں گے کہ وہ ناکامی آپ کی قسمت میں کیوں آئی تھی۔

اس مشق کو کرنے کے بعد آپ کو دو فائدے ہوں گے، ایک یہ کہ آپ اپنی کامیابیوں پر اپنے پروردگار کے پہلے سے کہیں زیادہ شکر گزار ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح اور رویئے کہ منفی پہلو کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور آپ اپنی غلطیوں سے سب سیکھیں گی، اور یہ چیز مستقبل میں آپ کے لئے آگاہی کا سبب بنے گی،جو خواتین یہ سوچتی ہیں کہ یہ سب تو ہماری قسمت میں لکھا تھا دراصل ان کی سوچ ان کے ارادوں پر حاوی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ارادے کو خود کمزور کردیتی ہیں اور پھر وقت ہاتھ سے نکل جا تا ہے۔ ہر کا م کو کرنے سے پہلے اچھی طر ح سوچیں اور اپنی نیت اور ارادے پر بھر پور اعتماد کریں ،پھر دیکھیں کام یابی آپ کے قدم لازمی چومے گی ۔

نصف سے زیادہ سے مزید