آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


پاکستان فلم انڈسٹری پر برسوں سے راج کرنیوالے سینئراداکارمصطفیٰ قریشی نیزنے زندگی کی79 بہاریں دیکھ لیں۔

مصطفیٰ قریشی 11مئی 1940کو حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔

ان کی پہلی فلم1958میں ریلیز ہوئی،جس نے باکس آفس پر زبردست بزنس کیا، اس فلم میں نے انھیں منفرد شناخت اور پہچان دیدی اور اس پہلی فلم میں ہی مصطفیٰ قریشی نے اداکاری کی دھاک بٹھادی۔

پنجابی فلموں نے ان کی شہرت کو چارچاند لگادیے،پہلی پنجابی فلم ”چارخون دے پیاسے“میں بھی یادگار کردار نبھایا۔اسی طرح ”مولا جٹ“ میں سپر اسٹار مصطفیٰ قریشی نے نوری نت کے کردار کو بھی انمول بنادیا۔

40سال سے زائد عرصہ کے دوران ساڑھے 600سے زائد فلموں میں پرفارم کرکے اپنی صلایحتوں کا لوہا منوایا۔ ان میں ”لاکھوں میں ایک، جی دار، سلطنت، حاجی بابا، پیاملن کی آس، کٹاری، آسرا، آرزو، ظل شاہ، سہاگن، سوہا جوڑا، انگارے، چیف صاحب، ممی، سرگم، جیوا، ناگ دیوتا، وڈیراسائیں، جوشیلے، گاڈ فادر، دریاخان، کوبرا، انٹرنیشنل گوریلے، شادمانی، قسمت والہ، سانجھی ہتھکڈی، ضدی خان، خودار، بدلے دی آگ، ہانگ کانگ کے شعلے، سجاول ڈاکو، شعلے، سنگسار، جٹ دا ویر، حراست، ہٹلر، اسمگلر، گرفتار، خان دوست، چورسپاہی، حشرنشر، ہتھکڑی، پردیسی اورعندلیب“سمیت دیگرشامل ہیں۔

مصطفیٰ قریشی نے جہاں فلم کے لیے بہت کام کیا وہیں آج کل وہ ڈراموں میں بھی اہم کردار نبھارہے ہیں اور ان کافنی سفرکامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں