آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسم کی عمارت وقت گزرنے کے ساتھ ڈھلنے لگتی ہے۔ بوسیدگی اور شکست و ریخت کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ نصف صدی حیات کے سفر کے بعد ہمیں اپنی غذائی عادتوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ماہرین طب درج ذیل سُپر فوڈز کی سوغات پیش کرتے ہیں، جن کے استعمال سے بڑھتی عمر کے اثرات کو چہرے پر ظاہر ہونے سے روکا اور جسم کی پوشیدہ و ظاہری بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

سیب

سیب کا استعمال بڑھاپے کے اثرات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے چھلکوں میں ایسا کیمیکل دریافت ہوا ہے، جو عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں ہونے والی شکست و ریخت بھی روکتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ پروٹین اے ٹی ایف4جینز میںتبدیلی لاتا ہے،جس سے پٹھوں یا مسلز میں کمزوری آنے لگتی ہے۔دو ماہ تک سیب یا سبز ٹماٹر کا استعمال اس تبدیلی و بوسیدگی کو روکتا ہے۔

انار

اینٹی آکسیڈنٹس کی کثیر مقدارمیں موجودگی انار کو جسمانی ورم کم کرنے، ہائی بلڈ شوگر لیول کے نقصان کی روک تھام کرنے، آنتوں کے کینسر کو روکنےاور جِلد کو سورج سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مددگار ہوتی ہے۔ طبی محققین کے مطابق انار کھانے سے نقصان زدہ جِلد کی مرمت اور کولاجن کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسٹرابیری

طبی تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری میں مالٹے سے زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے، جو موسمی نزلہ زکام سے بچانے کے ساتھ ذہنی تناؤ سے بچاتا ہے۔ وٹامن سی کے استعمال سے تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں کمی آتی ہے، جس سے بلڈ پریشر تیزی سے کم ہوتا ہے۔

زیتون کا تیل

زیتون کا تیل بلڈ پریشر، امراض قلب، ذیابطیس، خون کی شریانوں کے امراض اور کینسر کی روک تھام کرتا اور جِلد کے ورم کو ختم کرکے جوان رکھتا ہے۔ زیتون کے تیل کا 73فیصد حصہ مونو سیچوریٹڈ فیٹس پر مبنی ہوتا ہے جو جِلد کی لچک اور مضبوطی کو بڑھاتے اور سورج کی مضر شعاعوں سے بچاتے ہیں۔

خشک میوہ جات

تازہ تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں خشک میوہ جات جیسے بادام،پستہ یا اخروٹ وغیرہ کا استعمال عمرطویل کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ ذیابطیس اور کینسر جیسےجان لیوا امراض میں موت کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

شہد

قدرتی طور پر جراثیم کش شہد جِلد کے لیے سودمند ہے۔ جھریوں کے اثرات ’’ہنی فیس ماسک‘‘ سے زائل ہوجاتے ہیں۔ یہ چہرے کے ورم کو کم، کیل مہاسوں کا خاتمہ اور خشک جِلد کو نمی مہیا کرتا ہے۔

بلو بیری

فلیونوائڈز نامی اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور بلوبیری جسم میں ورم اور مضر اجزا کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق موٹاپے، ذیابطیس اور خون کی شریانیں سکڑنے جیسی میٹابولک بیماریاں جسم میں ورم کا باعث بنتی ہیں۔ بلو بیری اکسیر ہے، جس کے کھانے سے میٹابولزم اپنا کام ہموار انداز سے جاری رکھتا ہے۔

کیلا

پوٹاشیم اور میگنیشیم سے بھرپور کیلا اچھی نیند لاتا ہے۔نیند میں کمی بڑھاپے کی سب سے بڑی وجہ مانی جاتی ہے۔ کیلا بلڈ پریشر میں کمی، اضافی وزن سے نجات، خون بڑھانے، نظام ہاضمہ بہتر بنانے، ذہنی تناؤ، وٹامن کی کمی دور کرنے اور توانائی بڑھانے میں معاون ہے۔

سبز چائے

تحقیق کے مطابق سبز چائے میں موجود پولی فینول جسم میں کولاجن کی پیداوار بڑھاکر بڑھتی عمر کو روکتااور سوجن، موٹاپے اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

خام کوکو

خام کوکو سورج سے متاثرہ جِلد کی مرمت کرتا ہے۔ اس میں بہت طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ resveratrolموجود ہوتا ہے، جو قبل از وقت بڑھاپے کی نشانیوں کو روکتا ہے۔ خام کوکو میں میگنیشیم کی موجودگی جِلدی خارش سے بچاتی ہے۔

ٹماٹر

ٹماٹرمیں عمر بڑھنے کی رفتار سست کرنے والا جزو لائیکوپین پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جِلد کو سورج کی شعاعوں کے منفی اثرات سے بچاتا جبکہ شریانوں کی صحت اور وبائی امراض سے تحفظ دیتا ہے۔

مالٹا

اس میں موجود وٹامن سی، کولاجن اور پانی کی مقدار جِلد کو اندر نمی فراہم کرکے کیل مہاسوں سے بچانے، اسے ہموار رکھنے اور جھریوں کی روک تھام میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔

ڈارک چاکلیٹ

ڈارک چاکلیٹ فلیونوائڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام کرکےطویل زندگی کی ضمانت دیتے ہیں۔

ہلدی

ہلدی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ورم کے خلاف جادوئی تاثیر رکھتے ہیں۔ ہلدی میٹابولزم کی کارکردگی نوجوانی جیسی رکھنے میں معاون ہوتی ہے، ساتھ ہی یہ دماغی تنزلی سےبچاتی، جگر، امراض قلب اور جوڑوں کے درد کے خلاف بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

شملہ مرچ

وٹامن سی اور دیگر اجزا سے بھرپور شملہ مرچ جسم میں موجود مضر صحت اجزاکے خلاف مزاحمت کرتی ہے اور عمر بڑھنے سے جسمانی تنزلی کی رفتار میں کمی آتی ہے۔

پالک

وٹامن کے اورفائبر سے بھرپو پالک کی روزانہ کچھ مقدار کھانے سےعمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صلاحیتوںمیں ہونے والی کمی ختم ہوتی ہے۔ اسے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور موٹاپے کا امکان نہیں رہتا ہے۔

انڈہ

پروٹین، وٹامن ڈی اور کولاجن سے بھرپورانڈہ چربی پگھلاکر مسلز بنانے اور میٹابولزم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مفید ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں