آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہ رمضان کی برکات سے مستفید ہونے کے لیے مسلمانوں کو اپنے روزمرہ معمولات میں چند بنیادی تبدیلیاں لانا پڑتی ہیں۔ اس مہینے کے دوران، مسلمان صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب کے درمیان کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہوئے نہ صرف اپنے جسم کو فالتو مادوں اور چربی وغیرہ سے پاک کرتے ہیں بلکہ زیادہ تر وقت عبادات میں صرف کرکے اپنی روح کی غذا کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔ ایسے میں روزہ داروں کو ورزش کے لیے وقت نکالنا یقیناً مشکل لگتا ہے جبکہ کئی افراد اپنے اندر اتنی توانائی محسوس نہیں کرتے کہ وہ اس مہینے کے دوران ورزش کا سوچ بھی سکیں۔

نظرثانی کریں

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ماہ رمضان کے دوران مسلمان جس طرح اپنے کھانے پینے اور دیگر سرگرمیوں میں ضروری تبدیلی لاتے ہیں، اسی طرح انھیں اپنے ورک آؤٹ اور فٹنس پلان پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ چاہے وزن کم کرنے کے ڈائٹ پلان پر عمل پیرا ہیں، پٹھے بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں یا پھر اپنی مجموعی فٹنس میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں، مگر رمضان المبارک کے مہینے میں آپ کوان اہداف کے حصول کے بجائے ایسا پلان ترتیب دینا چاہیے، جس سے آپ اپنی موجودہ صحت کو برقرار رکھ پائیں۔

رمضان میں ورزش کے اہداف

کرس بیورز (جو دبئی میں پروفیشنل پرسنل ٹرینر ہیں) کہتے ہیں کہ رمضان میں آپ جو کوئی بھی ورزش کا پلان بنائیں، اس کے تین اہداف ہونے چاہئیں؛ 1) ذہنی اور جسمانی دباؤ کو قابو میں رکھنا، 2) جسمانی طاقت کو گِرنے نہ دینا، اور 3) پٹھوں کے حجم کو برقرار رکھنا۔

بیورز مزید کہتے ہیں کہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو ورزش کے دورانیے اور شدت، دونوں میں کمی لانی چاہیے۔ ورزش کی کمی کو وہ دیگر کئی طریقوں سے پورا کرنے کی تجویزدیتے ہیں۔ ’’ہم اپنے روزمرہ کے کئی کاموں میں تبدیلی لاکر ورزش کی کمی کے اثرات کو ختم کرسکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال، دوڑنے کے بجائے چہل قدمی اور تھوڑی بہت ویٹ لفٹنگ۔ یہ چیزیں آپ کے میٹابولزم کو برقرار رکھیں گی اور آپ کے پٹھوں کا حجم بھی نہیں سُکڑے گا‘‘۔

رمضان کے تین پلان

رمضان المبارک کے دوران ورزش کرنے والے افراد کو بیک وقت تین چیزوں پر کام کرنا ہوگا۔ ’’آپ کو ایک پلان اپنی غذا کا بنانا ہوگا، ایک پلان ٹریننگ اور ایک پلان ریکوری کا۔ رمضان میں سحر سے افطار تک کچھ نہ کھانے پینے سے کئی روزہ دار دباؤ محسوس کرتے ہیں، ایسے میں روزانہ کی ورزش دباؤ کی سطح کو مزید بڑھاسکتی ہے، اس لیے رمضان میں آپ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے، اس کا انتخاب آپ کو دیکھ بھال کر کرنا ہوگا‘‘۔

بیورز کہتے ہیں کہ رمضان میں ہر روزہ دار مختلف عوامل سے مختلف انداز میں متاثر ہوتا ہے۔ ان عوامل میں ورزش کی تاریخ، غذائیت، نیند، کام اور زندگی کی دیگر مصروفیات شامل ہیں۔ تاہم ورزش کے بعد توانائی بحال کرنے کے لیے درست قسم کی غذ لینا انتہائی ضروری ہے۔ ’’ورزش کے ہر سیشن کے بعد پٹھوں کو ریکور ہونے کے لیے کچھ عوامل درکار ہوتے ہیں۔ درست غذا کے علاوہ، دن کے اوقات میں قیلولہ کرنے سے بھی پٹھوں کو ریکور ہونے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔

غذاؤں کا انتخاب

سحر اور افطار میں فائبر اور پروٹین سے بھرپور غذائیں لینا سب سے بہترین عمل ہوسکتا ہے۔ آپ رمضان میں کیا کھاتے ہیں اور کیا نہیں، اسمارٹ پلاننگ آپ کو ورزش کے نتائج کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔

پرہیزکرنے والی غذائیں

کم غذائیت والی چیزیں جیسے کیک، بریڈ، اناج، کریکر اور بسکٹ سے پرہیز کریں۔ اسی طرح پراسیسڈ گوشت، ڈیری اور فاسٹ فوڈ سے بھی دور رہیں۔ ’’ان تمام کھانوں میں کیلوریز بہت زیادہ اور غذائیت بہت کم پائی جاتی ہے۔ جبکہ ان میں پریزرویٹوز، ایڈیٹوز اور غیرمعیاری تیل بہت زیادہ ہوتا ہے، جس میں بُری چربی پائی جاتی ہے‘‘۔ چونکہ رمضان میں کھانے پینے کے اوقات محدود ہوتے ہیں، اس لیے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آپ اپنے معدے کو زیادہ کیلوریز اور نقصان دہ مادوں والی غذاؤں سے نہ بھردیں۔

رمضان میں بہتر غذائیں

متوازن غذا سےافطار کرکے آپ اپنے جسم کو دو سے تین گھنٹے بعد ورزش کے لیے بہتر طور پر تیار کرسکتے ہیں۔ ماہرین دو یا تین کھجور سے روزہ کھولنے کی تجویز دیتے ہیں، جو کہ ایک پھل کے برابر غذائیت فراہم کرتی ہیں۔ کھجوریں پوٹاشیم، کاپر، میگنیشیم اور فائبر کا بہترین ذریعہ ہیں، جن سے جسم کو بہترین توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، افطار میں نشاستے، پروٹین اور سبزیوں کو شامل کرنا چاہیے۔ مزید برآں، افطار میں براؤن چاول ، جو، مرغی اور مچھلی کو بھی شامل رکھیں۔ تازہ گوشت، ڈیری مصنوعات، مچھلی اور انڈوں کے ذریعے افطار اور سحر کے درمیان اپنے جسم کے فی کلو وزن کے حساب سے 1.6سے2.2گرام پروٹین حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ان غذاؤں سے خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رہتی ہے، معدہ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور آپ کو ورزش کے لیے ضروری توانائی ملتی ہے۔

رمضان میں ورزش کیلئے بہترین وقت

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے والے افراد کو افطار کے دو سے تین گھنٹے بعد یا سحری سے پہلے ورزش کرنی چاہیے۔ ’’روزے کے دوران ڈی ہائڈریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے اس دوران ورزش کرنے کی تجویز خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ جسم کے تھکاوٹ کا شکار ہونے سے کچھ لوگ بے ہوش بھی ہوسکتے ہیں۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں اور ورزش کا دباؤ برداشت کرسکتے ہیں، وہ افطار سے قبل 30منٹ سے لے کر ایک گھنٹے تک ورزش کرسکتے ہیں، تاکہ ورزش کے اختتام پر جب افطار کا وقت ہوتو وہ جسم میں پانی کی کمی کو پوراکرسکیں‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں