آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ماہرین نے دنیا بھر کےسمندروں سے 195,728 ایسے وائرس دریافت کیے ہیںجو اب تک سائنس دانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے تھے ۔ایک رپورٹ کے مطابق زمین پرایک بر فیلے قطب سے لے کر دوسرے قطب تک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ان وائرس کی اکثر یت ہمارے لیے بالکل نئی ہے ،کیوں کہ اس سے قبل ماہرین سمندری وائرس کی صرف 15 ہزار اقسام سے ہی واقف تھے ۔اس دریافت سے سمندروں میں حیاتیاتی ارتقا،ماحولیاتی اور آب وہوا میں تبدیلیوں کے متعلق ہماری معلومات میں اضافہ ہو گا ۔ٹیرا نامی سائنسی کشتیوںنے 2009 ء سے 2013 ء تک دنیا بھر کے سمندروں میں سفر کیا اور قبل ازیں 10 برس تک سمندری حیات اور اس کے ارتقاپر بھی غور کیا تھا ۔اس ٹیم میں اوہا یو اسٹیٹ یونیورسٹی کے خرد حیاتیات داں ڈاکٹر میتھیو سُلی ون بھی شامل ہیں ۔ان کے مطابق وائرس اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ دکھائی نہیں دیتے لیکن سمندروں میں ان کی غیر معمولی اقسام کی موجودگی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ماہرین نے تحقیقات کے بعد ایک نقشہ بھی بنایا ہے ،جس میں دنیا بھر کے پانیوں میں پائے جانے والے وائرسز کا ڈیٹا بیس ظاہر کیا گیا ہے ۔سائنس دانوں نے وائرس کو پانچ حیاتیاتی خطوں (ایکو لوجیکل زون ) میں بانٹا ہے ۔آرکٹک میں وائرس کی بڑی تعداد در یافت کی گئی ہے ۔ یہ وائرس اگرچہ اوسطاً 4000 میٹر گہرائی میں ملے ہیں جن میں نئے وائرس اور ان کے نئے خاندان بھی شامل ہیں۔ اس سے سمندری حیات اور پیچیدہ بحری نظام ، سمندروں میں موجود آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں