آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام کی حکمرانی اور جمہور کی رائے کا احترام تقاضائے ایمان ہے۔ جمہوریت ہی پاکستان کی بقا کی ضامن ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہی بالادست ہوتی ہے اور اپنا شمار اِن لوگوں میں ہوتا ہے جو پارلیمنٹ کی بالادستی کی دہائی دیتے رہتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی سدھرنے کا نام نہیں لیتے۔ پارلیمنٹ اگر اِسی طرح قومی مسائل سے متعلق غیر سنجیدگی دکھائے جس طرح کہ اُس نے چھبیسویں آئینی ترمیم پاس کرتے ہوئے دکھائی تو پھر کوئی اُس کو احترام کیسے د ے؟ پھر ماشاءاللہ ریاست کے ایک اور ستون یعنی میڈیا کی حالت زار دیکھ لیجئے۔ روزانہ اُس نے اِس پارلیمنٹ کے ممبران کو نان ایشوز کی بنیاد پر آپس میں لڑانے کا میلہ لگایا ہوتا ہے لیکن اب جب اُس نمائشی پارلیمنٹ نے پہلا آئینی بل منظور کرنے کی ہمت یا غلطی کی تو میڈیا نے نہ تو منظوری سے قبل اُس بل کے مندرجات سے متعلق قوم کو حقائق بتانے کی زحمت گوارا کی اور نہ اُس کے بعد۔ اُس طالب علم نے یہ گستاخی کی تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو قبائلی علاقوں کے ماہرین اور ٹھیکیدار سمجھنے والے میڈیا کے دوست بھی میرے پیچھے پڑ گئے۔ ایک صاحب نے اپنے وڈیو بلاگ میں میرے حسد میں یہ احمقانہ رائے تک دی کہ ایم این ایز صاحبان کا قبائلی اضلاع کے فنڈز میں اِس لئے کوئی کردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ پہلے سے کیا گیا ہے کہ یہ فنڈز صرف قبائلی علاقوں میں ہی خرچ کئے جا سکیں گے۔ جی ہاں میں بھی یہ کہتا ہوں کہ یہ فنڈز وہاں پر صرف ہونے چاہئیں لیکن میں نے تو سانگھڑ اور چیچہ وطنی کے ایم این ایز اور سینیٹرز کی بات نہیں کی تھی۔ میں نے تو یہی عرض کیا تھا کہ نورالحق قادری کی قیادت میں قبائلی اضلاع کے ایم این ایز اور سینیٹرز یہ نہیں چاہتے کہ وہاں پر ایم پی ایز میدان میں آجائیں۔ جب ایم پی ایز نہیں ہوں گے اور فنڈز قبائلی اضلاع میں خرچ ہوں گے توان قبائلی اضلاع کے پارلیمنٹیرینز کے سوا کس کی دکان چمکے گی؟ میرا دوسرا بنیادی سوال یہ تھا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران جب صوبائی انتخابات کا شیڈول پیش نہیں ہوا تھا تو پی ٹی آئی نے قبائلی اضلاع کی سیٹیں بڑھانے کے لئے کوئی بل پیش کیوں نہیں کیا؟ اگر پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے قبائلی عوام کے غم میں ایسا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہو تو مجھے وہ خود یا میڈیا میں اُن کے ترجمان ضرور آگاہ کریں۔ اِس قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ممبران کی نااہلی اور ان معاملات سے ان کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے صرف محسن داوڑ کا بل پاس ہو کر آیا ہے اور نورالحق قادری کا بل غلطیوں کی وجہ سے اسٹینڈنگ کمیٹی میں مسترد ہوا تھا لیکن اسپیکر نے قومی اسمبلی میں رائے شماری کے وقت محسن داوڑ کے ساتھ نورالحق قادری کو بھی محرک کے طور پر پیش کیا۔ اب قانونی حیثیت صرف محسن داوڑ کے بل کی ہے اور سینیٹ میں صرف ان کے نام کا بل جائے گا۔ دوسری طرف یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے اور سینیٹ میں پی ٹی ایم کا کوئی ممبر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کا کونسا رکن سینیٹ میں محسن داوڑ کے بل کو گود لے گا اور اگر لے گا تو پھر پی ٹی ایم غداری کے الزام سے کیسے نکلے گی؟ اِس بل میں ایک اور دھوکہ یہ کیا گیا ہے کہ قبائلی عوام کو یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ اُن کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہمیشہ کے لئے بڑھا دی گئی ہیں حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ نشستیں صرف ایک انتخاب کے لئے بڑھائی گئی ہیں۔ اگلی مردم شماری کے بعد یہ نشستیں دوبارہ چھ (قومی اسمبلی) اور سولہ (صوبائی اسمبلی) ہوجائیں گی۔ اب اگر نورالحق قادری اور اُن کے ساتھی ایم این ایز انگریزی نہیں جانتے یا پھر جان بوجھ کر عوام سے جھوٹ بولتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن نہ جانے انگریزی سے بخوبی واقف صحافی کیوں میرے حسد میں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ بل میں واضح طور پر لکھا ہے کہ

Provided further that the enhancement in the seats shall remain affective till the next census

اب اگر صوبائی اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرانا اصل ہدف نہیں اور قبائلی اضلاع کی نشستیں بڑھانا ہی اصل مشن ہے تو پھر بل میں یہ دھوکہ کیوں کیا گیا ہے اور اِس اضافے کو صرف اگلی مردم شماری تک کیوں مشروط کر دیا گیا ہے۔

اسپیکر اور پی ٹی آئی کے ممبرانِ اسمبلی کی نااہلی یا شرارت ملاحظہ کیجئے کہ بل میں صرف یہ لکھ دیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں اتنی بڑھا دی جائیں گی لیکن آگے یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ کس ضلع کی نشستیں کس بنیاد پر بڑھیں گی۔ قبائلی اضلاع کے ایم این ایز تو اپنے علاقوں میں لوگوں سے یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہر قومی اسمبلی کے حلقے پر دو صوبائی حلقے دئیے جائیں گے لیکن بل میں اس کلیے کا کوئی ذکر نہیں۔ اب الیکشن کمیشن کے پاس حلقہ بندیوں کے لئے بنیادی اصول آئین میں وضع کر دئیے گئے ہیں اور پورے پاکستان میں اُن بنیادوں پر حلقے بنتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن قبائلی اضلاع کے لئے حلقے بڑھاتے ہوئے کیا فارمولا استعمال کرے گا؟ اگر اُس نے اپنی طرف سے کوئی فارمولا بنا دیا تو کل کوئی اُسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر کے کالعدم قرار دلوا دے گا۔ بل منظور کرنے والوں نے اُس بنیادی سوال کی طرف توجہ نہیں دی یا پھر جان بوجھ کر یہ معاملہ مبہم رکھا گیا کہ سرے سے ایک مرتبہ بھی حلقوں میں اضافہ نہ ہو۔ اب یہ دھوکہ اور انتخابات ملتوی کرانے کی سازش نہیں تو اور کیا ہے؟ تبھی تو میں قبائلی اضلاع کے جوانوں سے اور بالخصوص کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں سے گزارش کررہا ہوں کہ وہ اِن سازشیوں کی سازش میں نہ آئیں۔ اپنی انتخابی مہم زور و شور سے جاری رکھیں۔ ان شاءاللہ یہ انتخابات اپنے وقت پر یعنی 2جولائی کو ہوں گے۔ پہلے تو یہ مبہم بل سینیٹ سے منظور نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو عدالت اسے کالعدم قرار دینے میں دیر نہیں لگائے گی کیونکہ عدالت میں فیصلے اُن ایم این ایز اور میڈیا میں اُن کے وکیلوں کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ آئین اور اُس کی روح کے مطابق ہوں گے۔ کچھ دوست اِس بات پر حیران ہیں کہ جو بات پوری پارلیمنٹ کو سمجھ نہیں آئی، وہ اِس طالب علم کو کیسے سمجھ آئی تو اُن کی تسلی کے لئے عرض ہے کہ کسی اور نے قبائلی اضلاع کی مین اسٹریمنگ کو اِس طرح زندگی کا مشن نہیں بنایا جس طرح میں نے بنایا اور کسی اور صحافی سے نورالحق قادری صاحب اور دیگر حکومتی لوگوں نے اِس معاملے پر اِس طرح ڈیل کرنے کی کوشش نہیں کی جس طرح اُس طالب علم سے ٹرائبل یوتھ جرگہ کے سرپرست کی حیثیت میں کی گئی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں