ماہرین صحت کے مطابق پوٹاشیم ایک اہم معدنی جزو ہے جو فالج کے خطرے کو 20 فیصد تک کم کرسکتا ہے، اس کی جسم میں کمی کی وارننگ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہیں، جو دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، مگر زیادہ تر لوگوں کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل مدتی اثرات کے علاوہ پوٹاشیم کی کمی کئی نامعلوم علامات کی وجہ بھی بن سکتی ہے، جیسے کہ مزاج میں اداسی، چکر آنا اور قبض شامل ہے۔
انگلینڈ کی ٹیسائیڈ یونیورسٹی کے محقق پروفیسر جان ینگ کے مطابق پوٹاشیم کی کمی بہت عام ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناقص غذا ہے جس میں الٹرا پراسیسڈ خوراک اور نمک زیادہ ہوتا ہے، جبکہ لوگوں میں اس بارے میں آگاہی بھی کم ہے۔
جب تک پوٹاشیم کی سطح بہت زیادہ کم نہ ہو اور دل یا گردوں کا کوئی مسئلہ نہ ہو، عام طور پر اس کی تشخیص نہیں ہوتی۔ پوٹاشیم جسم میں کئی اہم کام انجام دیتا ہے، جن میں اعصابی نظام کے سگنلز کو درست طریقے سے چلانا، پٹھوں کے سکڑاؤ میں مدد دینا اور دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنا شامل ہیں۔
یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے کیونکہ یہ سوڈیم (نمک) کے اثرات کو کم کرتا ہے اور جسم کو اضافی نمک خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوٹاشیم دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے۔
پروفیسر ینگ کے مطابق اگر کسی انسان میں پوٹاشیم کی معمولی کمی ہو تو درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ جن میں پٹھوں میں کھنچاؤ یا اینٹھن، خاص طور پر انگلیوں میں، قبض، چڑچڑا پن یا ذہنی تناؤ اور سر درد شامل ہے۔ اگر کمی شدید ہو جائے تو علامات زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔ جیسے کہ الجھن یا ذہنی خلفشار والی کیفیت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپریشن یا شدید اداسی، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا، معدے اور آنتوں کے مسائل اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔
برطانوی محکمہ صحت (این ایچ ایس) اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 3500 ملی گرام پوٹاشیم لینا چاہیے۔ لیکن نیشنل ڈائٹ اینڈ نیوٹریشن سروے کے مطابق تقریباً 10 فیصد مرد اور 24 فیصد خواتین روزانہ مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کر پاتے۔ اسی طرح ایک تہائی نوجوانوں میں بھی اس معدنی جزو کی کمی پائی گئی۔
2024 کی ایک تحقیق کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے دل کی بیماری، امراض قلب کے باعث اسپتال میں داخلہ یا کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں 24 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
جبکہ 2016 کی مختلف تحقیق کے جائزے سے معلوم ہوا کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذا فالج کے خطرے کو تقریباً 20 فیصد کم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چند سادہ غذائی تبدیلیاں جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ جس میں نمک کا کم استعمال، عام نمک کی جگہ پوٹاشیم کلورائیڈ والا لو سالٹ استعمال کریں۔ اسکے علاوہ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں شامل ہیں۔
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف کیلا پوٹاشیم کا بہترین ذریعہ ہے، مگر حقیقت میں کئی دوسری غذائیں اس سے بہتر ہیں۔ مثلاً کیلا تقریباً 500 ملی گرام، چھلکے سمیت ابلا ہوا آلو تقریباً 600 ملی گرام، ایک کپ کچی پالک 450 ملی گرام اسکے علاوہ لیما بینز، دہی، فروٹ جوس اور ٹونا مچھلی شامل ہیں۔
پروفیسر ینگ کے مطابق بعض اوقات صرف خوراک سے مطلوبہ مقدار حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ملٹی وٹامن سپلیمنٹ لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔