آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رواں ماہ کے آخر30مئی سے 14 جولائی تک ایک روزہ کرکٹ کا بارواں عالمی کپ ہونے جارہا ہے۔ چار برس کے وقفے سے ہونے والے اس بڑے ٹورنامنٹ میں کیا ہوگا؟ کون جیتے گا؟ شائقین کرکٹ بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ کے گزشتہ 11عالمی کپ میں کیا ہوا پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کیسی رہی؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا پروڈینشل کرکٹ ورلڈ کپ 1975

جنوری 1971 سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کےآغاز کےبعد سے ہی اس کی مقبولیت بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نےصرف اگلے چار برس میں آئی سی سی نے پہلے عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فیصلہ کیا ۔لہٰذا پہلا ورلڈ کپ کا آغازانگلستان میں 7جون 1975 کو ہوا اور21جون تک جاری رہا۔فٹبال کے عالمی کپ کی طرح ہر براعظم سے ٹیم شامل تھی ۔

ٹورنامنٹ دوگروپوں میں تقسیم آٹھ ٹیموں پر مشتمل تھا۔ گروپ اے میں میزبان انگلستان ، بھارت نیوزی لینڈ اورمشرقی افریقہ جبکہ گروپ بی پاکستان ،ویسٹ انڈیز آسٹریلیا اور سری لنکا پر مشتمل تھا ۔ٹورنامنٹ کے اخراجات برطانیہ کی پروڈنشل انشورنس کمپنی نے برداشت کئے،اسی مناسبت سے اسے پروڈنشل ورلڈکپ کا نام دیا گیا ۔

مجموعی طور پر نو ہزار پاؤنڈ کی رقم انعامات کے طور پر رکھی گئی تھی۔فاتح ٹیم کو چار ہزار پائونڈ رنر اپ کےلیے دو ہزار اورسیمی فائنل میں ہارنے والی ٹیم کےلیے ہزار پائونڈ رکھے گئے تھے۔ہر میچ کے مین آف دی میچ کےلیے 50پائونڈ جبکہ سیمی فائنل میں100 اور فائنل میں د و سو پاؤنڈ رکھا گیا تھا۔

60اوور پر مشتمل میچ میں ہر بولر 12اوور ز تک کرنے کا پابند تھا۔پہلا ورلڈ کپ اس لحاظ سے کامیاب رہا کہ اس کے دو مقاصد تھے کہ کرکٹ کومزید مقبول بنایا جائے اور زائد آمد نی ہو ، یہ دونوں مقاصد حاصل ہوگئے،کیونکہ اسے ایک لاکھ ستر ہزار تماشائیوں نے دیکھا جبکہ آمدنی ایک لاکھ 88ہزار598پاونڈ ہوئی تھی۔پہلے ورلڈ کپ میںمقابلے میں 15 میچ رکھے گئے تھے۔

ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کو مضبوط ٹیم کے طور پر دیکھا جارہا تھا جبکہ بعض کرکٹ ماہرین کے نزدیک پاکستان بھی ورلڈ کپ جیت سکتا ہے۔

پاکستانی ٹیم

پاکستانی ٹیم کپتان آصف اقبال، نائب کپتان ماجد خان، صادق محمد، ظہیرعباس، مشتاق محمد، وسیم راجہ، وسیم باری، سرفراز نواز،آصف مسعود، نصیر ملک جاوید میاں داد، عمران خان کے متعلق ابتدا میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ وہ اپنے سالانہ امتحانات کے سبب ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔تاہم وہ ٹیم میں شامل ہوئے۔

پہلا مرحلہ اور پاکستان ٹیم کی کارکردگی

7جون 1975 ٹورنامنٹ کےپہلے روز چار میچ کھیلے گئے ،پاکستان نے اپنا پہلا میچ کپتان آصف اقبال کی قیادت میں مضبوط ٹیم آسٹریلیا کے خلاف ہیڈنگلے میںکھیلا جو پاکستان 73رنز سے ہارگیا ۔آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے مقررہ اوور میں سات وکٹوں کے نقصان پر278رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے نصیر ملک نے 37 رنز دے کر دو عمران خان نے 42رنز کے دو جب کہ سرفراز نواز ،آصف اقبال اورآصف مسعود نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

جوابی طور پر پاکستان کی بیٹنگ لائن آسٹریلوی بالرز کا سامنے نہ ٹھہر سکی۔ ابتدائی کھلاڑی صادق محمد ظہیرعباس اور مشتاق احمد بالترتیب4، 8، 8 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے۔اس روز دیگر تین میچ ہوئے جس میںمیزبان انگلینڈ نے بھارت کو ویسٹ انڈیز نے سری لنکا کو اور نیوزی لینڈ نے مشرقی افریقہ کو شکست دی تھی۔

11جو ن کو ایجسٹن میں پاکستان نے اپنا دوسرا میچ نائب کپتان ماجد خان کی قیادت میںویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلا ۔آج کے میچ میںٹیم اپنے دو اہم کھلاڑیوں کے بغیر میدان میں اتری تھی کپتان آصف اقبال جو طبیعت کی خرابی کے سبب اسپتال میں داخل تھے اورنوجوان بولر عمران خان اپنے سالانہ امتحان کے پیپر کے سبب شامل نہیں تھے ۔ تاہم اس کے باوجو ٹیم کی کارکردگی زبردست رہی یہ سنسنی خیز مقابلہ تھا تاہم بدقسمتی سے پاکستان کو ایک وکٹ سے شکست ہوئی ۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 266رنزبنائے تھے ، ماجدخان، مشتاق محمد،وسیم راجہ،ظہیر عباس اور جاوید میاں داد نے اچھی بیٹنگ کی تھی۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کا آغاز اچھا نہ تھا لیکن کپتان کلائیو لائیڈ اور وکٹ کیپر ڈیرک مرے اور فاسٹ بالر رابرٹس کی آخری پارٹنر شپ کی بدولت ویسٹ انڈیز کامیاب ہوا۔ مڈیم پیسر سرفراز نواز نے تین وکٹ حاصل کیں۔ وہ مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔

اس طرح کرکٹ ورلڈ کپ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بنے۔ اس ناکامی کے بعد پاکستان ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ سے نکل گیا۔

آج کے دن باقی تین میچ یکطرفہ رہے تھے۔ مجموعی طور پر پاکستان کی ٹورنامنٹ کی پہلی واحد کامیابی سری لنکا کے خلاف حاصل رہی تھی۔

سیمی فائنل مقابلے

18جون کو دو سیمی فائنل ہوئے پہلا ہینڈنگلے میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ہوا جس میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو باآسانی6وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا،انگلینڈکی پوری ٹیم 36اعشاریہ 4 اوور میں 93رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی تھی۔

دوسراسیمی فائنل جو ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے درمیان اوول میں ہوا اس میں ویسٹ انڈیز نے نیوزی لینڈ کو چاروکٹوں سے شکست دے کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

فائنل،ویسٹ انڈیز بمقابلہ آسٹریلیا

21جون کو لارڈز کے تاریخی میدان میں فائنل منعقد ہوا جسے ویسٹ انڈیز نے 17رنز سے جیت لیا تھا۔فائنل میں ٹاس جیت کر آسٹریلوی کپتان آئن چیپل نے ویسٹ انڈیز کو پہلے بیٹنگ کا موقع دیا۔

مقررہ اوورز میں ویسٹ انڈیز نے8وکٹوں کے نقصان پر 291رنز کا ٹارگٹ دیا جس میں کپتان کلائیو لائیڈ کی سنچری شامل تھی۔جواب میں آسٹریلوی ٹیم274 رنز بناکرآوٹ ہوگئی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈز مین آف دی میچ قرار پائے۔

یوں پہلاکرکٹ ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کے نام رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں