آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لاکھوں قارئین کے پسندیدہ مصنف اور ابنِ صفی کے بعد عمران سیریز کو دوام بخشنے والے ہر دلعزیز مصنف مظہر کلیم ایم اےگزشتہ سال 26 مئی کو72سال کی عمر میں ملتان میں انتقال کرگئے تھے۔ مظہر کلیم کا اصل نام مظہر نواز خان تھا لیکن انہوں نے ’’مظہر کلیم ایم اے‘‘ کے قلمی نام سے شہرت پائی۔ اگرچہ مظہر کلیم ایم اے کا شمار ملتان کے معروف وکلاء میں ہوتا تھا لیکن ان کی اصل وجۂ شہرت عمران سیریز کی تصنیف رہی، جسے انہوں نے ابنِ صفی کے انتقال کے بعد تقریباً 40 سال تک باقاعدگی سے جاری رکھا اور اس میں نئے کردار بھی شامل کرتے رہے۔ ایک بار انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا،’’جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو میں نے اپنے کچھ کردار بھی متعارف کرائے۔ جیسے ٹائیگر، جوزف، جولیانہ، کیپٹن شکیل، صالحہ اور تنویر وغیرہ‘‘۔

خاندانی پس منظر

مظہر کلیم کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے محمد زئی درانی پٹھان قبیلے سے تھا۔ افغانستان سے ہجرت کرکے پہلے وہ شورکوٹ آئے، وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد ملتان میں آباد ہو گئے۔ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد فوج اور پولیس میں ملازم تھے۔ ان کے دادا، والد اور چچا سبھی پولیس آفیسر تھے لیکن مظہر کلیم اور ان کے چھوٹے بھائی، دونوں نے ہی پولیس کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ ان کے بھائی انجینئر جبکہ وہ ایک لکھاری اور وکیل بن گئے۔

ابتدائی تعلیم اور کیریئر

22جولائی 1942ء کو ملتان کے ایک پولیس آفیسر حامد یار خاں کے ہاں پیدا ہونے والے مظہر کلیم ایم اے نے ابتدائی تعلیم اسی شہر میں قائم اسلامیہ ہائی اسکول دولت گیٹ سے حاصل کی۔ 1957ء میں یہاں سے میٹرک کیا اور اس کے ایک سال بعد اسی اسکول میں پڑھاتے رہے۔ بعدازاں، انھوں نےایمرسن کالج سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد جامعہ ملتان (موجودہ جامعہ بہاء الدین زکریا) سے اردو ادب میں ایم اے اور ایل ایل بی کی اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کیں۔

وکالت اور عمران سیریز کے علاوہ مظہر کلیم ایم اے نے ریڈیو ملتان سے مشہور سرائیکی ریڈیو ٹاک شو ’’جمہور دی آواز‘‘ کی میزبان بھی کی جبکہ ملتان بار کونسل کے نائب صدر بھی منتخب ہوئے۔ اردو ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں کام کرتے رہے، پھر صحافت کی طرف آ گئے، جس کا انھیں بہت شوق تھا۔ ان دنوں ملتان سے ایک مقامی روزنامہ شائع ہوتا تھا، اس اخبار میں انھوں نے سوائے کاتب کے تمام عہدوں پر کام کیا۔ اس دوران انھوں نے تحقیقاتی فیچرز اور مضامین لکھے،3سال تک ان کا کالم ادارتی صفحہ پر بھی چھپتا رہا۔ صحافت کے دوران ہی انھوں نے ایل ایل بی کر لیا تھا، 1978ء کے قریب اخبار کی ملازمت چھوڑ کر کل وقتی وکالت شروع کر دی۔

1965ء میں ان کی شادی برصغیر کے معروف شاعر علامہ اسد ملتانی کے گھرانے میں ہوئی۔ مظہر کلیم کے پہلے ناول کا نام ”ماکازونگا“ تھا، یہ ایک جاسوسی ناول تھا۔ یہ ناول انھوں نے اس وقت لکھا، جب وہ صحافت کو خیرباد کہہ کر مکمل طور پر وکالت کو اپنا چکے تھے۔ خوش قسمتی سے، ان کے پہلے ناول نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے، وہیں مستقبل میں جاسوسی ادب کے ایک بڑے ادیب کی راہ بھی متعین کر گیا۔ اس کے بعد ان کا ہر ناول ایک معیار قائم کرتا چلا گیا اور ان کے قارئین کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔

چلوسک ملوسک، زباٹا دیو، عمرو عیار اور عیار جادوگر، چھن چھنگلو وغیرہ جیسے بہترین کرداروں کے خالق مظہر کلیم ہی تھے۔ ان کا ماسٹر پیس آنگلو بانگو نامی دو مفکر جڑواں بھائی تھے، جو ہمیں آج بھی بہت پسند ہیں۔

ادب میں دلچسپی

مظہر کلیم کو گھر سے ہی لکھنے پڑھنے کا ماحول ملا۔ ان کے والد کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور وہ دنیا کے ہر موضوع پر کتاب پڑھتے تھے اور اسے اپنی لائبریری میں محفوظ رکھتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے بھی کتابیں اور رسائل لے کر آتے تھے۔ مظہر کلیم کے ایک دوست بی اے جمال تھے، انہوں نے بوہڑ گیٹ میں اپنی ایک لائبریری اور ایک اشاعتی ہاؤس بنا رکھا تھا، وہ اپنے ادارے کی طرف سے جاسوسی ادب شائع کرتے رہتے تھے لیکن ان کے پاس ایسے لکھاری نہیں تھے، جن کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجائیں۔ لہٰذا وہ کبھی کہیں سے مسودہ منگواتے، کبھی کسی سے کہانی لیتے مگر ان کی کتاب فروخت نہیں ہو رہی تھی۔ اس دوران ابن صفی صاحب کا انتقال ہو گیا تو مختلف لوگ جعلی ناموں سے ابن صفی بننے کی کوشش کرنے لگے، کوئی این صفی تھا، کوئی نجمہ صفی تو کوئی کسی اور نام سے سامنے آ گیا۔ مظہر کلیم کے یہ دوست بھی ان دنوں ایسی ہی کہانیاں چھاپ رہے تھے۔ ایک دن وہ پریشانی کے عالم میں مظہر کلیم کے پاس آئے اور اپنے مسائل کا اظہار کیا تو انھوں نے کہا، میں آپ کو ناول لکھ دیتا ہوں لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ آپ میرے نام سے شائع کریں۔ انہوں نے فوراً ہامی بھر لی تو مظہر کلیم نے اپنا پہلا جاسوسی ناول ”ماکا زونگا“ لکھا جو افریقی قبائل کے پس منظر میں تھا، ان کے پہلے ہی ناول کو اتنی پذیرائی ملی کہ اس کے بعد وہ جاسوسی ادب کے ہی ہوکر رہ گئے۔

عمران سیریز میں مظہر کلیم ایم اے کے شائع ہونے والے ناولوں کی تعداد 600سے زائد ہے، اس کے علاوہ بچوں کے لئے ان کی لکھی گئی مختصر کہانیوں کی تعداد 5ہزار سے زائد ہے۔

تعلیم سے مزید