آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آئی ایم ایف سے زیرو ریٹنگ ایکسپورٹ ختم کرنے سے اختلاف ہے، رزاق داؤد

اسلام آباد( مہتاب حیدر) وزارت تجارت کے مشیر رزاق داؤد نے کہا ہے کہ پانچ ’’ زیرو ریٹنگ ‘‘ ایکسپورٹ کے طریقہ کار بدلنے کی ہر صورت میں مخالفت کریں گے کیونکہ اس سے ملک کے ایکسپورٹ سیکٹر میں نقد ی رقم کا بحران پیدا ہوجائے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایکسپورٹ کو 24ارب ڈالر سے دگنا کرکے 50ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے جس کے لئےذہنی رجحان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اتوار کے دن اپنے دفتر میں دی نیوز /جنگ کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا چمڑا ،ٹیکسٹائل، قالین، سرجیکل اور کھیل کے سامان کو ماضی میں تین مرتبہ زیرو ریٹنگ رجیم سے نکالا گیا مگر پھر فیصلہ بدلنا پڑا، اب یہ پالیسی جاری رہنی چاہیےچاہے آئی ایم ایف پالیسی کے تحت ہی سہی مگر اس بات کی کوئی منطق نہیں کہ پہلے آپ ایکسپورٹ کرنے پر ٹیکس لیا جائے پھر ریفنڈ ( واپس) کیا جائے۔ان کا کہنا تھا مالی سال 2019-20کے بجٹ میں خام مال اور دیگر اشیاء پر ڈیوٹی کم کی جارہی ہے جبکہ تیار مال پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے ، ان کا یہ بھی کہناتھا

کہ پاکستان نے جاپان سے 10 سے 20اشیاء کی آزاد تجارت پروگرام (ارلی ہارویسٹ پروگرام )کی درخواست کی ہے اور یہی سہولت جاپان کو بھی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 25ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کا حدف شائد پورا نہ ہوسکے کیونکہ اس میں کئی بین الاقوامی فطری عوامل شامل ہیںتاہم ایکسپورٹ میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ مشکل وقت اور ماحول کے باوجود ہوا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹریڈ میں فرق ( ٹریڈنگ گیپ) کم ہورہا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی بہتری آرہی ہے۔ان کا کہنا تھا پاکستان کی تجارتی صورتحال اتنی بر ی نہیں جتنی کچھ حلقے بتا رہے ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ تجارتی سطح پر جس قدر شدت سے کام ہونا چاہئے تھا نہیں ہوا اس کی الگ وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا گزشتہ دہائی میں پاکستان ٹریڈ نیشن بن چکا ہے جسے بدلنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ میں رکاوٹ آئی ایم ایف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں ہماری کوتاہیا ں ہیں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ہمیشہ اچھی طرز حکومت ( گڈ گورنس) کا مطالبہ کرتا آیا ہےجو غلط نہیں ہے ماضی میں سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئے اگر ایسا ہوتا تو کچھ کام بھی ہوتا۔انہوں نےکہا ہے پاکستان نے ایران سے بارٹر سسٹم کے زریعے تجارت کی پیشکش کی ہے تاکہ غیرملک پابندیوں سے بھی نمٹا جائے اب جولائی میں ایران کے وزیر پاکستان آرہے ہیں اور کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ 

اہم خبریں سے مزید